Type to search

بزنس

گرین انرجی میں ورلڈ لیڈر بنے گا بھارت۔ مکیش امبانی

ریلائنس انڈسٹریز

نئی دلی۔ 3، ستمبر۔2021 (پریس نوٹ) ریلائنس انڈسٹریز کے چیئرمین مکیش امبانی نے بین الاقوامی آب و ہوا چوٹی کانفرنس کو ورچیولی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آب و ہوا کی تبدیلی کے مورچے پر بھات اور دنیا مشکل دور سے گزررہی ہے۔

گلوبل وارمنگ کے خطرے سامنے ہیں ایسے میں ہمارے پاس صرف ایک ہی متبادل ہے اور وہ ہے گرین، صاف اور قابل تجدید توانائی کو تیزی سے اپنانا۔ اس آفت کو موقع میں بدلکر، بھارت کو گرین انرجی کا ورلڈ لیڈر بننا ہوگا۔

پردھان منتری مودی کے ’ گروین ہائیڈروجن مشن ‘ کا ذکر کرتے ہوئے امبانی نے کہا کہ یہ دوہری حکمت عملی ہے اس میں ایک طرف بھارت کچے تیل پر بھارت کی انحصاری کم ہوگی، دوسری طرف بھارت عالمی کوششوں کی اگوائی کرکے عالمی لیڈر بنے گا۔

بھارت کے 75 ویں یوم آزادی یعنی’ آزادی کا امرت مہوتسو‘ پر مشن کی شروعات کر پردھان منتری نے ملک اور دنیا کو گرین انرجی اپنانے کاپیغام دیا ہے۔

ملک نے پردھان منتری مودی کی قیادت میں 100 گیگا واٹ قابل تجدید توانائی کا مقام حاصل کرلیا ہے۔ اب ہم 2022 تک 175 گیگا واٹ کے ہدف کی طرف مضبوطی سے بڑھ رہے ہیں۔

بھارت گرین انرجی میں ورلڈ لیڈر کیسے بن سکتا ہے ، اس پر اپنا ویزن شیئر کرتے ہوئے انبانی نے بتایا کہ بھارتی برصغیر خاطر خواہ مقدار میں قابل تجدید توانائی وسائل سے بھرپور ہے۔ یہاں سوریہ دیو، وایو دیو بھرپور توانائی فراہم کرتے ہیں۔ ایک سال میں 300 دن دھوپ کھلی رہتی ہے۔

ملک کی صرف 0.5% زمین کا استعمال کر 1,000 گیگا واٹ شمسی توانائی آسانی سے پیدا کرسکتا ہے۔ ٹو۔ وے گریڈ، مائیکرو ۔ گرڈ، بہتر انرجی سٹوریج سالیوشن اور سمارٹ میٹر میں سرمایہ کاری کرکے ہم عام شخص تک اسے پہنچا سکتے ہیں۔

حکومت ہند ملک میں ایک گرین ہائیڈروجن ایکو۔ سسٹم بنانے کامنصوبہ بنارہی ہے، جو سرمایہ کاری کو مائل کریگی۔

گرین انرجی کو لیکر ریلائنس انڈسٹریز کے عہد کو دوہراتے ہوئے امبانی نے ریلائنس کے نیو انرجی بزنس کا روڈ میپ نمائندوں کے سامنے رکھا۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے جام نگر میں 5,000 ایکڑ میں دھیر بھائی امبانی گرین انرجی گیگا کمپلیکس تیار کرنا شروع کردیاہے۔

یہ دنیا کی سب سے بڑی انٹگریٹڈ رینوویبل انرجی ڈیولپمنٹ فیسلیٹیز میں سے ایک ہوگی۔ اس احاطہ میں چار گیگا فیکٹریاں ہونگی ، جو قابل تجدید توانائی کے پورے سپیکٹرم کو کور کرتی ہے۔ پہلا ایک انٹگریٹڈ سولر فوٹووولٹک ماڈیول کارخانہ ہوگا۔

تیسرا گرین ہائیڈروجن کے پروڈکشن کیلئے الیکٹرولائزر فیکٹری ہوگی۔ چوتھا ہائیڈروجن کو توانائی میں تبدیل کرنے کیلئے ایک اندھن سیل کارخانہ ہوگا۔ آئندہ تین برسوں میں ہم 75,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کریں گے۔

پردھان منتری نریندر مودی نے 2030 تک 450گیگا واٹ قابل تجدید توانائی صلاحیت تک پہنچانے کا نشانہ رکھا ہے۔ اس میں ریلائنس2030 تک کم سے کم 100گیگا واٹ شمسی توانائی قائم کرے گا۔

گرین ہائیڈروجن کو سب سے کفایتی اندھن بنانے کیلئے عالمی سطح پر کوشش جاری ہیں، اس کی لاگت کو شروع میں 2 امریکی ڈالر فی کلو گرام سے کم کرنے کا ہے۔

امبانی نے کہا کہ میں آپ سبھی کو یقین دلاتا ہوں کہ ریلائنس اس دہائی کے آخر سے پہلے اس ہدف کو حاصل کر لے گی۔ بھارت 1 دہائی میں 1کلو گرام 1 ڈالر کا نشانہ بھی حاصل کرسکتاہے اور ایساکرنے والا وہ دنیا کاپہلا ملک بن سکتاہے۔

Tags:

You Might also Like