Type to search

بزنس

مکیش امبانی خود اٹھاتے ہیں اپنی زیڈ+ سیکورٹی کا خرچ

lجاری رہے امبانی کی سیکورٹی۔ مفاد عامہ کی پٹیشن خارج


نئی دہلی، 31 جولائی، 2022: ۔(پریس نوٹ) ملک اور دنیا کے سب سے بڑے صنعت کاروں میں سے ایک مکیش امبانی کی سیکورٹی برقرار رہے گی۔ سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں کہا ہے کہ مکیش امبانی اور ان کے خاندان کو جو سیکورٹی دی جا رہی ہے اسے جاری رکھا جائے۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ مرکزی حکومت کی طرف سے فراہم کردہ سیکورٹی کا سارا خرچ ہ مکیش امبانی خود برداشت کرتے ہیں۔

ملک کے سرکردہ کاروباری مکیش امبانی کو زیڈ + سیکورٹی فراہم کی گئی ہے۔ لیکن وکاس ساہا نامی شخص نے امبانی کیزیڈ + سیکورٹی کے خلاف تریپورہ ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضی دائر کی تھی۔ چیف جسٹس این وی رمنا، جسٹس کرشنا مراری اور ہیما کوہلی کی سپریم کورٹ بنچ نے حال ہی میں اس مفاد عامہ کی پٹیشن کو خارج کر دیا اور مرکز کو سیکورٹی جاری رکھنے کا حکم دیا۔

مکیش امبانی ملک کے ان چند لوگوں میں سے ایک ہیں جنہیں زیڈ+ سیکورٹی ملی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق امبانی کی زیڈ+ سیکیورٹی پر ماہانہ 15 سے 20 لاکھ خرچ ہوتے ہیں۔ اس زیڈ+ سیکورٹی کا سارا خرچ مکیش امبانی خود برداشت کرتے ہیں، جب کہ زیادہ تر معاملات میں یہ خرچ حکومت کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ امبانی کو دہشت گرد تنظیم حزب المجاہدین کی دھمکیوں کے بعد 2013 میں یو پی اے حکومت نے زیڈ+ سیکورٹی فراہم کی تھی۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ کسی بھی شخص کو خطرہ ہے یا نہیں اس کا فیصلہ سیکیورٹی ایجنسیوں کے ان پٹ سے ہی کیا جاسکتا ہے۔ بنچ نے کہا کہ امبانی ملک کے ممتاز صنعت کار ہیں اور ان کی سلامتی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ اس میں کفر کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی حفاظت کا خرچہ اٹھانے کے لیے تیار ہے تو اسے سیکیورٹی ملنی چاہیے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں امبانی کے گھر کے باہر رکھے حالیہ بم اور انہیں ملنے والی دھمکیوں کا بھی ذکر کیا۔

Tags:

You Might also Like