Type to search

قومی

جب سی اے اے کے خلاف احتجاج میں جیل گئی ماں کی ہوئی رہائی، بیٹی کے چہرے پر لوٹ آئی مسکان

اترپردیش،2جنوری(اردو پوسٹ انڈیا ڈاٹ کام) وارانسی کی سوا سال کی بچی چمپک کے چہرے پر آج مسکان لوٹ آئی ہے۔ دو ہفتے بعد چمپک کی ماں ایکتا شیکھر جب آج ضمانت پر رہا ہونے کے بعد گھر پہنچی تو اپنی بیٹی کو گود میں لیکر انکی خوشی کا ٹکھانہ نہیں تھا۔ چمپک کی ماں تو ضمانت پر چھوٹ گئی ہے لیکن والد کچھ دیر بعد گھر لوٹیں۔ اس سے پہلے گھر لوٹنے پر چمپک کی دادای نے اپنی بہو کا استقبال کیا۔

گذشتہ 19 ڈسمبر کو شہریت قانون کو لیکر ملک کے الگ الگ حصوں میں احتجاج ہوئے تھے۔ اسی سلسلہ میں وارانسی میں بھی جمعہ کی نماز کے بعد بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے تھے۔ اسی بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے طاقت کا استعمال کیا تھا اور کئی لوگوں کو گرفتار کیا تھا۔ گرفتتار لوگوں میں مظاہرے کرنے والے روی شیکھر اور انکی بیوی ایکتا شیکھر بھی تھے۔ اسکے بعد سے ہی وہ سوا سال کی بچی بنا ماں باپ کے اپنی دادای کے ساتھ رہ رہی تھی۔ اس دوران اس نے کھانا ۔ پینا بھی کم کردیا تھا۔

روی شیکھر کی ماں شیلا تیواری نے بتایا تھا کہ میرے بیٹے نے کوئی گناہ نہیں کیا ہے۔ پولیس نے انہیں کیوں گرفتار کیا، وہ پر امن مظاہرہ کررہے تھے۔ کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ بچی بنا اپنی ماں کے رہ رہی ہے۔ کیا جرم کو کنٹرول کرنے کا یہ طریقہ ہے؟ وہ کچھ کھا نہیں رہی ۔ مشکل سے کچھ چمچ ہم نے اسے کھلایا۔ وہ پورے وقت کہہ رہی ہے ۔ اماں آو، پاپا آو،، ہم لگاتار کہہ رہے ہیں کہ وہ جلدی آجائیں گے۔

وارانسی پولیس کا کہنا تھا کہ انہیں گرفتار کیا جانا جائز ہے۔ کیونکہ لوگوں کے غیر قانونی طریقے سے جمع ہونے کی وجہ سے شہر میں تناؤ بڑھ گیا تھا۔ شہر کے ایک الگ حصے میں مظاہرین پر پولیس کی لاٹھی چارج سے مبینہ طور پر بھگدڑ مچنے سے ایک اٹھ سالہ لڑکے کی موت ہوگئی۔

Tags:

You Might also Like