Type to search

قومی

مرکزی کابینہ نے قومی آبادی رجسٹر اپ ڈیٹ کرنے کو دی منظوری، بجٹ مختص کرنے پر بھی لگی مہر

نئی دہلی،24ڈسمبر(اردو پوسٹ انڈیا ڈاٹ کام) نریندر مودی کابینہ نے قومی رجسٹر کو اپ ڈیٹ کرنے کو منظوری دےدی ہے۔ منگل کو ہوئی مرکزی کابینہ کی میٹنگ میں کئی اہم فیصلے لیے گئے۔ اسکے تحت ملک کے شہریوں کا ڈیٹا بیس تیار کیا جائے گا۔ حالانکہ یہ شہریت کا ثبوت نہیں ہوگا۔ اسکا استعمال حکومت اپنے منصوبوں کو لاگو کرنے کے لیے کرتی ہے۔ کابینہ نے اس پورے قواعد کےل یے 8700 کروڑ روپے کے بجٹ الاٹمنٹ پر بھی مہر لگا دی ہے۔ 2021 کی مردم شماری سے پہلے 2020 میں این پی آر اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔ اس سے پہلے 2011 کی مردم شماری سے پہلے 2010 میں بھی قومی آبادی رجسٹر کو اپ ڈیٹ کیا گیا تھا۔

کیا ہے این پی آر؟

نیشنل  پاپولیشن رجسٹر ۔ قومی آبادی رجسٹر کے تحت یکم اپریل 2020 سے 30 ستمبر 2020 تک شہریوں کا ڈیٹا بیس یار کرنے کے لیے ملک بھر میں گھر ۔ گھر جاکر مردم شماری کی تیاری ہے۔ ملک کے عام شہریوں کی وسیع شناخت کا ڈیٹا بنانا این پی آر کا اہم ہدف ہے۔پیشہ جیسی اطلاعات درج ہونگی۔ این پی آر میں درج معلومات لوگوں کی طرف سے خود دی گئی معلومات پر مبنی ہوگی اور یہ شہریت کا ثبوت نہیں ہوگا۔

کیسے الگ ہے این آر سی سے ؟

این پی آر اور این سی آر میں فرق ہے۔ این آر سی کے پچھے جہاں ملک میں غیر قانونی شہریوں کی پہچان کا مقصد چھپا ہے۔ وہیں، چھ مہینے یا اس سے زیادہ وقت سے مقامی علاقے میں رہنے والےکسی بھی رہائشی کو این آر پی میں ضروری طور سے رجسٹریشن کرنا ہوتا ہے۔

باہری کی بھی حاظری

باہری شخص بھی اگرملک کے کسی حصے میں چھ مہینے سے رہ رہا ہے تو اسے بھی این پی آر میں درج ہونا ہے۔ این پی آر کے ذریعہ لوگوں کا بائیومیٹرک ڈیٹا کرکے حکومتی منصوبوں کی پہنچ اصلی فائدہ اٹھانے والوں تک پہچانے کا بھی مقصد ہے۔

یو پی اے حکومت کا تھا منصوبہ

سابق وزیراعظم منموہن سنگھ کی قیادت والی یوپی اے حکومت میں 2010 میں این پی آر بنانے کی پہل شروع ہوئی تھی۔ تب 2011 میں مردم شماری کے پہلے اس پر کام شروع ہوا تھا۔ اب پھر 2021 میں مردم شماری ہونی ہے۔ ایسے میں این پی آر پر بھی کام شروع ہورہا ہے۔

Tags:

You Might also Like