Type to search

فیشن

ماں بننے کی وجہ سے مس یوکرائن سے چھین گیا تاج

فیشن ڈسک،4ڈسمبر(اردو پوسٹ انڈیا ڈاٹ کام) سابق مس یوکرائن نے مس ورلڈ حسن مقابلہ کے خلاف قانونی ایکشن لینےکا پلان بنایا ہے۔  ویرونیکا ڈیڈوسینکو نے اپنے آفیشل انسٹاگرام اکاؤنٹ پر اپنے فینس کو آگاہ کرایا ہے اور وہ چاہتی ہے کہ حسن مقابلہ اپنے ایک قاعدہ کو ختم کریں جس سے شادی شدہ خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک ہوتا ہے۔

انہوں نے ایک پوسٹ شیئر کیا تھا جس میں وکیل روی نائیک اور انکےبیٹے کو دیکھا جاسکتا ہے۔ اپنے اس پوسٹ کے سہارے انہوں نے اعلان کیا کہ وہ لیگل ایکشن لینے جارہی ہے۔ انہوں نے لکھا، مس یوکرین خطاب جتنے کے باوجود مجھے مس ورلڈ مقابلے سے ہٹا دیا گیا تھا کیونکہ میں شادی شدہ ہوں اور ایک بچے کی ماں ہوں۔

انہوں نے آگے کہا کہ مجھے اپنا تاج واپس نہیں چاہیئے۔ میں چاہتی ہوں کہ اسکے قوانین بدلیں تاکہ بڑے سطح پر خواتین کو اس سے فائدہ پہنچ سکے۔ یہ اصول انٹرنیشنل پالیسی کی طرح بنا دیئے گئے ہیں جو کہیں نہ کہیں دنیا بھر کے کی کئی خواتین کے خلاف امتیاز کو ظاہر کرتا ہے۔24 سال کی ماڈل نے لکھا کہ میں مس ورلڈ اور ایسے ہی گلوبل بیوٹی مقابلوں سے درخواست کرنا چاہتی ہوں کہ وہ ان اصولوں کو ہٹائے تاکہ یہ مقابلے سماج میں موجود ہر خاتون کی نمائندگی کرسکیں۔

بتادیں کہ انہوں نے پچھلے سال مس یوکرائن 2018 کے تاج سے نوازا گیا تھا لیکن چار دنوں بعد ہی ان سے انکا ٹائٹل لے لیا گیا تھا جب اس مقابلے کے میکرس کوپتہ چلا تھا کہ انکا ایک بچہ ہے۔ اصولوں کے مطابق وہ خواتین جنکےبچے ہو چکے ہوں وہ مس ورلڈ مقابلے میں حصہ نہیں لے سکتے ہیں۔ ویرونیکا ڈیڈوسینکو نے مانا کہ انہوں نے اصولوں کو پڑھا تھا لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ انکا بچہ کسی بھی حال میں انکے پروفیشنل کیریئر میں روکاوٹ نہیں ہے اور یہ ایک بے حد تکلیف دہ اصول ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ رائٹ ٹو بی مود، مہم کی وجہ سے شعور پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں اس مہم کا فوکس انٹرنیشنل بیوٹی مقابلے میں سبھی طرح کی خواتین کو شامل کرنا ہے اور اس مہم کے سہارے اس اصول کو ختم کرنے کے لیے دباؤ کی کوشش ہے۔

Tags: