Type to search

تلنگانہ

شہریت ترمیمی قانون کے خلاف حیدرآباد میں ملین مارچ، انسانی سروں کا سمندر، پرامن احتجاج

حیدرآباد،4(اردو پوسٹ انڈیا ڈاٹ کام)نیشنل سول رجسٹریشن (این آر سی) نیشنل پاپولیشن رجسٹر (این پی آر) شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف لوور ٹینک بنڈ پر واقع دھرنا چوک پر ملین مارچ کا اہتمام کیاگیا جس میں مختلف سیاسی،سماجی،مذہبی،ملی،فلاحی تنظیموں کے ساتھ ساتھ غیر مسلم دانشوروں،سیکولر اداروں،یونیورسٹیز کے طلبہ،انجمنوں،صحافیوں،دانشوروں نے شرکت کی۔

اس دوران مشتعل افراد نے این پی آر ، این سی آر اور سی اے اے کو واپس لینے مرکز سے درخواست کی- ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے قومی پرچم ترنکا ہاتھ میں لیکر احتجاجی پروگرام میں حصہ لیا، ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کے آنے سے اندار پارک کا احاطہ لوگوں سے بھر گیا تھا، اور آس پاس کے تمام راستے بند ہوگئے تھے، ٹرایفک درہم برہم ہوگئی- لوگ اپنی گاڑیوں کو کافی دور پارک کرے اندرا پارک پہنچے، بتایا جارہا تھا کہ کافی تعداد میں لوگ ڈسٹرک سے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی-

اس موقع پر لوگ این سی آر، این پی آر، سی اے اے ، مرکزی حکومت اور پی ایم مودی کے مخالف نعرے بازی کی، انہوں نے کہا، ہندو مسلم بھائی- بھائی، چوکیدار چور ہے، جیسے نعرے لگائے- بتادیں کہ ملین دوپہر 2 بجے سے شروع ہوا۔ اور شام 5 بجے تک چلا۔

شہریوں نے کہا کہ تلنگانہ تشکیل کے بعد اتنی بھاری تعداد میں لوگوں کا تحریک میں حصہ لینا پہلی بار ہے-

ملین مارچ کے موقع پر پولیس کا بھاری بندوبست دیکھا گیا۔ تلنگانہ و آندھراپردیش جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے منعقد کئے گئے اس ملین مارچ میں 40 سے زائد تنظیمیں شامل ہیں، کنوینر جناب مشتاق ملک نے دیگر تنظیموں کے ذمہ داروں کے ہمراہ مارچ کے انتظامات کو قطعیت دینے کی حکمت عملی تیار کی ہے ۔

شہر حیدرآباد کے ساتھ ساتھ اضلاع سے کثیر تعداد میں عوام نے شرکت کرتے ہوئے اس متنازعہ قانون کی مخالفت کرتے ہوئے اپنی آواز اٹھائی۔

ہزاروں کی تعداد میں لوگ تلگو تلی فلائی اوور کے پاس آئے اور این سی آر ، این پی آر اور سی اے اے کے خلاف نعرے لگائے، اسکی وجہ سے نکلیس روڈ، ٹینک بانڈ، اندرا پارک ، کوٹھی، عابڈس، بشیر باغ، مہدی پٹنم اور دیگر علاقوں میں ٹریفک جام ہوگئی-

اس کے اختتام کے موقع پر احتجاجیوں نے قومی ترانہ پڑھا اور راستہ کی صفائی انجام دی۔

اس ملین مارچ میں عوام کثیر تعداد میں پہنچے جنہوں نے شہریت ترمیمی قانون،این سی آر اور این پی آر کے خلاف شدیدغم وغصہ کااظہار کیا۔

اس میں جسٹس چندراکمار‘پروفیسر پی ایل وشویشور راؤ‘ پروفیسر کوڈنڈا رام ریڈی ‘ ڈاکٹر وید کمار بامسیف‘ مسٹر دیسائی نائک امبیڈکر بہوجن ‘ ساؤتھ انڈیا ایڈوکیٹس فورم‘ آل انڈیا یوتھ فیڈریشن ‘آل انڈیا اسٹوڈینٹس فیڈریشن کے علاوہ پروگریسیو ڈیموکریٹک اسٹوڈینٹس یونین نے شرکت کی۔

اس ملین مارچ کے دوران کسی بھی قسم کی شرانگیزی کو روکنے کیلئے والینٹرس کی تعینات کیے گئے تھے۔ بتادیں کہ اس موقع پر پولیس کی کثیر تعداد موجود تھی اور حیدرآباد سٹی پولیس کی طرف سے زبردست انتظامات کیے گئے تھے۔

Tags: