Type to search

صحت

مائیگرین یا درد شقیقہ کا مریض بن سکتے ہیں روز ۔ روز نیند میں ہونے والی خلل

ہیلتھ ڈسک،(اردو پوسٹ انڈیا ڈاٹ کام) نیند اور اعصابی بیماری کے درمیان کیا تعلق ہے ؟ اس موضوع سے جوڑی تحقیق کرنے کے دوران ماہرین نے پایا کہ اگر لگاتار رات کو نیند کے دوران خلل ہوتا رہے اور گہری نیند سونے کی حالت نا بن پائے تو شخص مائیگرین یا درد شقیقہ کا شکار ہوسکتا ہے۔ یہ ریسرچ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ ابھی تک تناؤ اور دیگر ذہنی اور جسمانی حالات کوہی مائیگرین کی وجہ مانا جاتا تھا۔

نیورولوجی جنرل میں شائع اسٹیڈی میں کیا گیا ہے کہ اگر کوئی شخض وقت سے بستر پر چلا جائے اور نیند لینے کے لیے پورے 8 گھنٹے بستر پر لیٹا تو رہے لیکن سو نہ پائے تو ایسی حالت میں اسے مائیگرین کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ ضروری نہیں کہ یہ درد اسے اگلے دن ہی محسوس ہو بلکہ مائیگرین کا درد اسے ایک سے دو دن بعد بھی ستا سکتا ہے۔

 بریگھم اینڈ ویمن ہاسپٹل کے ڈاکٹر اور اسے ریسرچ کے شریک مصنف سوجین برٹش کاکہنا ہے کہ نیند اور مائیگرین سے جوڑی اس ریسرچ میں سامنے آیا ہے کہ کم نیند کوالٹی یا بالکل نیند نا آنا، صرف اگلے دن ہی پریشان نہیں کرتا ہے، بلکہ یہ کچھ دن بعد بھی اپنا اثر دیکھا سکتا ہے۔میرے پاس مائیگرین کے ایسے مریض اکثر آتے ہیں۔ جنکی بے خوابی کی پریشانی کو ٹریٹ کرنا ہوتا ہے۔ جو ماہرین نیند کے مسئلہ سے متاثر رہے مریض کا علاج کرتے ہیں، انکے سامنے یہ بڑا چیلنج ہوتا ہے کہ اپنے مریض کو مائیگرین کے ریسک سے کیسے بچائے۔ لیکن اس بارے میں ابھی اتنا لٹریچر نہیں ہے کہ کس قسم کی نیند انہیں یعنی آر ای ایم اور این آر ای ایم انہیں مائیگرین کے ریسک سے زیادہ محفوظ رکھ سکتی ہے۔

حالانکہ تحقیق نے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ رات پوری نیند نہ لے پانے پر اگلی صبح مائیگرین ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ لیکن دوسرے یا تیسرے دن بھی شخص کو مائیگرین کا مسئلہ ہوسکتا ہے۔ اس سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ایسی ہر ایکٹیوٹی سے خود کو دور رکھنےکی کوشش کی جائے جو رات کو نیند میں خلل پیدا کرسکتی ہے۔

Tags:

You Might also Like