Type to search

تلنگانہ

اردو صحافت کے 200 سال کی تکمیل پر میڈیا اکیڈمی آف تلنگانہ اسٹیٹ کی جناب سے اردو مسکن میں دو روزہ تربیتی ورکشاپ

میڈیا اکیڈمی آف تلنگانہ اسٹیٹ

حیدرآباد، 25 جون (اردو پوسٹ انڈیا ڈاٹ کام) اردو صحافت کے 200 سالہ تقریب کے موقع پر میڈیا اکیڈمی آف تلنگانہ اسٹیٹ کی طرف سے اردو مسکن بمقام خلوت میں صحافیوں کے لیے دو روزہ تربیتی ورکشاپ کا اہتمام کیا گیا-

بتادیں کہ اردو جرنلزم کے بانی کلکتہ کے ایک بنگالی برہمن ہندو ہری ہردت تھے۔ جنہوں نے اردو کے اولین اخبار”جام جہاں نما” کو کلکتہ سے شائع کیا۔ یہ اخبار 27/مارچ 1822ء کو کلکتہ سےشائع ہوا تھا۔

جام جہاں نما برصغیر ہند کا اولین اردو اخبار تھا۔ اس اخبار کے شائع ہونے کے ساتھ برصغیر ہند میں اردوجرنلزم کا آغاز ہوا اور امسال یعنی 27/مارچ 2022 میں یہ اپنے 200 سال مکمل ہوئے۔

میڈیا اکیڈمی آف تلنگانہ اسٹیٹ کے چیئر مین جناب ایم نارائنا نے اپنی تقریر میں اردو اخبار کی شروعات کا ذکر کیا، بتایا کہ آج کا دن اردو صحافت کے لیے ایک عظیم دن ہے- انہوں نے مزید بتایا کہ ملک کی کسی بھی ریاست میں حکومتی امتحان اردو زبان میں لکھنے کی اجازت نہیں ہے، صرف تلنگانہ ریاست میں حکومتی امتحانات اردو میں لکھنے کی اجازت ہے کیونکہ اردو تلنگانہ میں زندہ ہے اور حکومت اردو کو لیکر سنجیدہ ہے- انہوں نے کہا کہ دکنی اردو دنیا بھر میں مشہور ہے-

تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس فیڈریشن کے صدر ایم اے ماجد صاحب نے اپنی تقریر میں کہا کہ اردو زبان مشکل حالات سے دوچار ہے- اردو سے ملک کو نکالنے کی کوشش کی جارہی ہے- آزادی کی لڑائی اردو زبان میں لڑی گئی، اور اب اس زبان کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے-

وہیں رکن اسمبلی جناب ممتاز احمد خان نے اپنی تقریر میں کہا کہ اردو کو بالکل ختم کرنے کی سازش کی جارہی ہے، اردو کے استعمال سے آزادی حاصل کی گئی تھی، اردو زبان نے آزادی کے وقت کئی نعرے دیئے تھے جو آزادی میں اہم رول ادا کیے- رکن اسمبلی نے مزید کہا کہ تلنگانہ حکومت نے پچھلی حکومتوں کے مقابلے اردو کے لیے کام کررہی ہے- انہوں نے اس دو روزہ پروگرام پر صحافیوں کو مبارکباد پیش کی-

ایم ایل سی امین الحسن جعفری نے اردو اخبار کی شروعات اور اسکی تاریخ کو تفصیلی بیاں کیا- جس میں انہوں نے اردو زبان کے عروج اور زوال کا ذکر کیا-

پروگرام کے دوران میڈیا اکیڈمی آف تلنگانہ کی جانب سے کورونا دور میں اس مہلک وبا سے میں انتقال کرگئے صحافی کی اہلیہ سلمی بیگم کو ایک لاکھ روپئے کا چیک حوالے کیا گیا- وہیں 3 ہزار روپئے ہر ماہ دیا جائے گا، اور انکے تینوں بچوں کو دسویں جماعت مکمل کرنے تک ایک ہزار روپے دیئے جائیں گے-

پروگرام کے پہلے روز اردو صحافت میں اپنی نمایاں کارکردگی کرنے والے سینئر صحافیوں کو میڈیا اکیڈمی کی جانب سے تہنیت پیش کی گئی، جن میں ورنگل کے وحید گلشن (اعتماد اردو ڈیلی) جو صحافت میں پچھلے 40 سال سے خدمات انجام دے رہے ہیں-

عبدالمجیب (محبوب نگر) سیاست اردو پیپر، اختر امتیاز (نظام آباد)، اور سید احمد امیر صاحب جیسے صحافی شامل ہے-

دوپہر کے بعد پروگرام میں مقامی نیوز ایجنسی آئی این این کے سینئر صحافی شیخ احمد علی نے میڈیا میں اردو رپورٹنگ پر بات کی- وہیں سائبر کرام کے اے سی پی، ایس ہری نات نے سائبر کرائم سے جڑے اہم نکات اور سابئر جرائم سے کیسے احتیاط برتی جائے اس پر تفصیلی بات کی، اور عوام کو ڈیجیٹل فراڈ سے الرٹ سے بچنے پر زور دیا، ساتھ ہی صحافیوں کے سوالات کا جواب دیا-

افتتاحی پروگرام میں مہمان خصوصی کے طور تلنگانہ وزیر داخلہ جناب محمد محمود علی صاحب، رکن اسمبلی ممتاز احمد ، جناب الم نارائنا صدر میڈیا اکیڈمی آف تلنگانہ، ایم ایل سی امین الحسن جعفری نے اپنی اردو صحافیوں کو اردو صحافت کے 200 سال مکمل ہونے پر مبارکباد پیش کی-

اس پروگرام میں کارپوریٹرز مصطفیٰ علی مظفر،محمد غوث، تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس کے صدر ماروتی ساغر، تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس فیڈریشن کے صدر ایم اے ماجد، الیکٹرانک میڈیا ایسوسی ایشن کے صدر محمد اسمعیل، میڈیا اکیڈمی سکریٹری وینکٹیشور راؤ، اور دیگر شریک تھے۔

اس دو روزہ پروگرام کے پہلے دن حیدرآباد اور تلنگانہ بھر کے اردو صحافیوں کی کثیر تعداد نے حصہ لیا-