Type to search

تعلیم اور ملازمت

مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کا چھبیسواں یوم تاسیس

مانو

9 جنوری 2023 کو مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کا چھبیسواں یوم تاسیس منایا گیا، اس موقع پر مہمان خصوصی کے طور پر “پروفیسر عبدالجلیل خان ایم پٹھان صاحب” کو مدعو کیا گیا، جو کہ سابق وائس چانسلر ہیں مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی اور سینٹرل یونیورسٹی آف کرناٹکا کے۔

اس پروگرام میں صدارتی فریضہ حالیہ وائس چانسلر آف مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی پروفیسر سید عین الحسن نے سنبھالی۔

جبکہ نظامت کا فریضہ شعبہ صحافت کے ایچ او ڈی پروفیسر محمد فریاد صاحب کے نبھایا۔

 

اس موقع پر مہمان خصوصی “پرفیسر اے ایم پٹھان” نے حالیہ وائس چانسلر آف مانو “پروفیسر سید عین الحسن صاحب” کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یوں تو ملک ہندوستان میں بے شمار سینٹرل یونیورسٹیاں ہیں لیکن ان میں سے چند ہی ایسی یونیورسٹیاں ہیں جس نے +A گریڈ حاصل کی ہے، اسی میں سے ایک مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی بھی ہے، جو “پروفیسر سید عین الحسن صاحب” کی نگرانی میں “اے پلس گریڈ” حاصل کرچکی ہے۔

 

اس پروگرام میں یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ پروفیسر سید عین الحسن صاحب نے یونیورسٹی کے تعلق سے طلباء کو مخاطب ہوکر کہا کہ یونیورسٹی نے +A گریڈ تو حاصل کر لیا ہے لیکن اب ہمیں یہیں نہیں رک جانا ہے، ہمیں یہیں خوش ہوکر نہیں رہ جانا ہے بلکہ اور کام کرنا ہے کیونکہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کو تو کہیں اور جانا ہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ مولانا آزاد نیشنل یونیورسٹی ملک ہندوستان میں واحد ایسی یونیورسٹی ہے جو اردو زبان میں اعلیٰ تعلیم فراہم کرتی ہے۔

 

اس یونیورسٹی کا قیام تو 1998 میں ہوا تھا لیکن جب اسکی تاریخ کے صفحات کو پلٹا جاتا ہے تب پتہ چلتا ہے کہ اس یونیورسٹی کو بنانے کی تاریخ کافی دراز ہے۔

اس یونیورسٹی کے قیام کی تاریخ 1992 ہی سے شروع ہوتی ہے ،1992 میں حکومت ہند نے ہندوستان میں اقلیتوں کی تعلیم اور انکے مختلف پہلوؤں پر غور و خوض اور انکے مسائل کے حل کے لئے مجاہد آزادی اور سابق ممبر آف پارلیمنٹ محترم عزیز قریشی کی صدارت میں ایک کمیٹی تشکیل کی تھی، اس کمیٹی کو اُردو بولنے والوں کی تعلیمی ضرورتوں کی تکمیل کے لئے ایک اردو یونیورسٹی کے قیام کے امکانات میں غور و خوض کرنا تھا اور سفارشات بھی پیش کرنے تھی۔

حکومت ہند کے منسٹری آف ہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ جو آج منسٹری آف ایجوکیشن کے نام‌ سے جانا جاتا ہے، اسکے جانب سے 25 ستمبر 1992 کو اس سلسلے میں ایک “اردو یونیورسٹی کمیٹی” کا قیام عمل میں آیا ۔
عزیز قریشی صاحب کے علاوہ پرفیسر اے جے قیدوی صاحب، جناب سید حمید صاحب، جناب ملک رام صاحب، اور دیگر اشخاص اس کمیٹی کے ارکان تھے۔

اس کمیٹی نے اردو یونیورسٹی کی نوعیت ، امکانات ، اغراض و مقاصد ، انتظامی و تعلیمی ڈھانچے اور اسکے جائے مقام کے سلسلے میں غور و خوض کیا۔

 

کمیٹی نے مادری زبان یعنی کہ اردو زبان میں تعلیم کی اہمیت اور اقلیتوں کے تعلیمی ضرورتوں کے پیش نظر انکی زبان میں تعلیم کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی۔

اردو یونیورسٹی کمیٹی نے سفارشات پیش کی کہ ایک قومی یعنی کہ سینٹرل اردو یونیورسٹی بنائی جائے تاکہ پورے ملک کی اردو آبادی اس سے فائدہ حاصل کر سکے، یہ مشورہ بھی دیا تھا کہ اس ادارے میں اسکول کی سطح سے پی ایچ ڈی تک کی تعلیم اردو میڈیم میں ہی دی جائے۔ ساتھ ہی یہ رکمنڈیشن بھی پیش کی تھی کہ اس یونیورسٹی میں پروفیشنل کورسیز، ووکیشنل کورسیز اور وومین اسٹڈیز پر بھی خاص طور سے توجہ دی جائے۔

یونیورسٹی کا نام عظیم مجاہد آزادی و عالم دین مولانا ابوالکلام آزاد کے نام سے موسوم کرنے کی تجویز بھی پیش کی تھی اور یہ سفارش بھی پیش کی تھی کہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کو حیدرآباد میں قائم کیا جائے جہاں ملک میں اردو میڈیم کی پہلی یونیورسٹی جامعہ عثمانیہ قائم کی گئی تھی ۔

 

بہر حال! 1998 میں حکومت ہند کے مایہ ناز شخصیت و اکیڈمیشین پرفیسر ایم شمیم جیراج پوری کو اس یونیورسٹی کا پہلا وائس چانسلر مقرر کیا تھا۔

کہا جاتا ہے جب پروفیسر جناب ایم شمیم جیراج پوری حیدرآباد آئے تھے تو اس وقت مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے قیام ایکٹ اور انکی تقرری کے سوا انکے پاس کچھ بھی نہ تھا لیکن انکی ایک لگن اور محنت تھی کہ انہوں نے اپنے پانچ سالہ عرصے میں نظامات فاصلاتی تعلیم کا آغاز کرکے اس یونیورسٹی کو ملک میں معروف و مشہور کرایا، ساتھ ہی انہوں نے یونیورسٹی کے میں گیٹ اور ایڈمنسٹریشن بلڈنگ کی بھی تعمیر کرائی اسی لیے انہیں معمار مانو بھی کہا جاتا ہے۔

شمیم شیراز پوری کے بعد پروفیسر عبدالجلیل خان ایم پٹھان صاحب اس یونیورسٹی کے دوسرے وائس چانسلر مقرر کیے گئے، جبکہ تیسرے وائس چانسلر پ پروفیسر محمد میاں اور چوتھے وائس چانسلر پروفیسر محمد اسلم پرویز صاحب رہے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *