Type to search

تعلیم اور ملازمت

اردو یونیورسٹی میں شہریت قانون کے خلاف اسٹوڈنٹس کا زبردست احتجاج

حیدرآباد،15(اردو پوسٹ انڈیا ڈاٹ کام) پچھلے دنوں لوک سبھا اور راجیہ سبھا پاس ہوئے شہریت ترمیمی بل 2019کے خلاف ملک بھر میں احتجاج چل رہا ہے۔ اور 14ڈسمبر کو دہلی کی جامعہ ملیہ یونیورسٹی میں بھی زبردست احتجاج ہوا ، اسکے بعد اب حیدرآباد کے گچی باولی میں واقع مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں طلبا نے زبردست احتجاج درج کروایا۔ طلبا نے پی ایم مودی کے خلاف نعرے لگائے۔ مانو کے یونین صدر عمر فاروق نے کہا کہ ملک کو فسطائیت کی طرف لے جانے کی طلبا ہرگزاجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بل کی دونوں ایوانوں میں منظوری کے ذریعہ مودی حکومت نے ملک کو مذہبی کی بنیاد پر باٹنے کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسلمان اس ملک میں صدیوں سے زندگی گذار رہے ہیں اور اس ملک کی آزادی میں برابر کے شریک تھے،

یونیورسٹی کے سابق اسٹوڈنٹ اور مانو المونی کے جنرل سکریٹری ایوب خان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ شہریت قانون بل سیدھے مسلمانوں کو دوسرا شہری بنانے کی سازش ہے۔ اور مسلمانوں کو تمام حقوق سے محروم کرنے سازش کے تحت یہ بل لایا گیا ہے۔ بتادیں کہ جب سے بل ایوان میں پاس ہوا ہے اسکے بعد سے ملک بھر میں احتجاج شروع ہوگیا ہے ۔اس کا سب سے زیادہ اثر گوہاٹی میں دیکھائی دے رہا ہے۔

Tags: