Type to search

تعلیم اور ملازمت

پنڈت ہری چند اختر ایک بہترین شاعر و نقادتھے: پروفیسر شافع قدوائی

اردو یونیورسٹی میں دو روزہ قومی سمینار کا افتتاح۔ اختتامی اجلاس میں آج گورنر کیرالا جناب عارف محمد خان کی شرکت


حیدرآباد، 30 اکتوبر (پریس نوٹ) عمومی طور شاعر جب شعر میں ’میں‘ کا استعمال کرتا ہے تو بعض نقاد اسے شاعر کی ذات سے منسوب کرتے ہیں۔ لیکن یہ محض شاعر کی ذہنی اپج ہوتی ہے۔ وہ ایک خیالی دنیا کی سیر کرتا ہے۔ پنڈت ہری چند اختر نے جب تنقید لکھی تو ایسے نقادوں پر جم کر طنز کے تیر برسائے۔ حالانکہ وہ ایک اچھے شاعر تھے لیکن انہیں لوگوں نے بزلہ سنج اور باغ و بہار شخصیت کے مالک صحافی ہی سمجھا ۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر شافع قدوائی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے آج دو روزہ قومی سمینار ”پنڈت ہری چند اختر، اردو شاعری اور صحافت کے آئینے میں“ کے افتتاحی اجلاس میں کلیدی خطبہ دیتے ہوئے کیا۔ مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی میں اس سمینار کا اہتمام مجلسِ فخر بحرین برائے فروغِ اردو اور آئیڈیا کمیونکیشنس کے تعاون سے کیا جارہا ہے۔ پروفیسر قدوائی نے کہا کہ ہری چند اختر کو یقینا وہ مقام نہیں ملا جس کے وہ حقدار تھے لیکن ان پر ہندوستان اور پاکستان دونوں ملکوں میں کام ہوا۔

پروفیسر ایوب خان، پرو وائس چانسلر نے خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ادب اور دیگر شعبوں میں پنڈت ہری چند اختر جیسے سیکولر لوگوں کی تلاش کرنی چاہیے اور انہیں ان کا مقام دینا چاہیے جس کے وہ حقدار ہوتے ہیں۔ انہوں نے ہری چند اختر کے بارے میں تفصیل سے بتاتے ہوئے کہا کہ وہ متحدہ ہندوستان میں صوبہ پنجاب میں پیدا ہوئے۔ لاہور میں تعلیم حاصل کی اور تقسیم کے بعد دہلی آگئے۔

جناب شکیل احمد صبرحدی، بانی مجلس فخر بحرین برائے فروغِ اردو نے تعارفی کلمات میں کہا کہ اردو کے معاملے میں دکن کو اولیت حاصل رہی ہے۔ قطب شاہوں نے اس کی ابتداءکی۔ اردو کا پہلا صاحب دیوان شاعر محمد قلی قطب شاہ والی ¿ دکن تھا۔ اس کے بعد ولی دکنی اور کئی اہم شاعروں نے اردو کو مالا مال کیا۔ نظام حیدرآباد نے بھی شعر و ادب کی سرپرستی کی اور آج یہاں پر اردو یونیورسٹی کے ذریعہ بھی اردو کی خدمت ہو رہی ہے۔ انہوں نے مجلس فخر بحرین برائے فروغِ اردو کا تعارف پیش کیا اور بتایا کہ اس کے تحت ایک سال غیر مسلم شاعر اور ایک سال مسلمان شاعر پر سمینار، کتاب کی اشاعت اور مشاعرے کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ بحرین میں بھی عالمی مشاعرے ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر عزیز احمد، ایم ڈی، احمد ہاسپٹل گورکھپور نے صدارتی خطاب میں کہا کہ پنڈت ہری چند اختر نے اپنی ابتدائی زندگی لاہور میں گزاری پھر بٹوارے کے بعد دہلی آگئے۔ انہوں نے وہ پرآشوب دور نہ صرف دیکھا بلکہ اس سے نبرد آزما بھی ہوئے اور انہیں اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا۔ جب آزادی ملی تو پاکستان میں تو اردو کو سرکاری زبان بنادیا گیا لیکن تلوک چند محروم، ہری چنداختر جیسے لوگوں نے ہندوستان میں باوجود مخالفتوں کے اردو کی شمع کو جلائے رکھا۔

جناب پرتاپ سومونشی، ایگزیکیٹو ایڈیٹر، روزنامہ ہندوستان نے کہا کہ ان کا ہری چند اختر سے تعارف اس طرح ہوا کہ ان کے دادا اکثر اختر کا ایک شعر پڑھتے تھے، جس کے شاعر کے بارے میں وہ نہیں جانتے تھے۔ بعد میں انہیں پتہ چلا کہ یہ شعر اختر کا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اختر لوگوں کی مدد کرنے ہمیشہ تیار رہتے تھے اور دوسروں سے ادھار لے کر بھی لوگوں کی مدد کیا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اختر کے انتقال پر ہندوستان اور پاکستان میں بہت کچھ لکھا گیا اور تہنیتیں پیش کی گئیں۔ انہوں نے اختر پر لکھی گئی ایک منظوم تہنیت پڑھ کر سنائی۔

جناب انیس احسن اعظمی، کنوینر سمینار و مشیر اعلیٰ مرکز مطالعاتِ اردو ثقافت نے کارروائی چلائی۔ جناب آصف اعظمی، ڈائرکٹر آئیڈیا کمیونی کیشنز نے اظہار تشکر کیا۔ جناب عاطف عمران کی تلاوت کلام پاک سے جلسے کا آغاز ہوا۔

اختتامی اجلاس کل (31 اکتوبر) کو 2:30 بجے دن ڈی ڈی ای آڈیٹوریم میں منعقد ہوگا۔جناب عارف محمد خان، گورنر، کیرالہ مہمانِ خصوصی ہوں گے۔ ڈاکٹر محمد اسلم پرویز، وائس چانسلر صدارت کریں گے۔ محترمہ کے کویتا، سابق رکن پارلیمان، مہمان اعزازی ہوں گی۔ مہمانانِ اعزازی و ایوارڈ یافتگان میں جناب زاہد علی خان، مدیر سیاست، جناب کریم عرفان، بانی اقرا سوسائٹی، جناب پروفیسر اے اروندا کشن، سابق پرو وائس چانسلر، مہاتما گاندھی انٹرنیشنل ہندی یونیورسٹی شامل ہوں گے۔اس کے علاوہ دو تعلیمی سیشن بھی منعقد ہوں گے۔

Tags:

You Might also Like