Type to search

تعلیم اور ملازمت

پرنب مکھرجی کو اردو یونیورسٹی کا خراج

پرنب مکھرجی اردو یونیورسٹی

ہندوستان عظیم مدبر،مفکر اور علم دوست رہنماسے محروم۔ پروفیسر ایس ایم رحمت اللہ


حیدرآباد، یکم ستمبر(پریس نوٹ) ڈاکٹر پرنب مکھرجی جیسے عظیم مدبر،مفکر اور علم دوست رہنما کے انتقال سے پیدا شدہ خلا کی فوری تکمیل ممکن نہیں ہے۔ہندوستان کی جامعات کی عالمی سطح پر بہتر کارکردگی ہی آنجہانی رہنما کوایک بہترین خراج ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر ایس ایم رحمت اللہ، وائس چانسلر انچارج ، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے ہندوستان کے 13 ویں صدرجمہوریہ ¿ ڈاکٹر پرنب مکھرجی کے انتقال پر آج یونیورسٹی کے کانفرنس ہال میںمنعقدہ ایک تعزیتی نشست میں کیا۔ڈاکٹر مکھرجی بحیثیت صدر جمہوریہ ہند ،یونیورسٹی کے چوتھے وزیٹر بھی رہ چکے ہیں۔

پروفیسر ایس ایم رحمت اللہ نے تعزیتی قرارداد پیش کی اور یونیورسٹی انتظامیہ، اساتذہ برادری و غیر تدریسی عملہ اور طلبہ کی جانب سے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے آنجہانی رہنما کی غیر معمولی خدمات کو خراج پیش کیا۔

پروفیسر رحمت اللہ نے کہا کہ ملک کی سیاسی اور عوامی زندگی میں ان کی گرانقدر خدمات کے اعتراف کے طور پر حکومت ہند نے ڈاکٹر مکھرجی کو2019 میں ملک کے اعلیٰ ترین سیویلین اعزاز بھارت رتن سے سرفراز کیا تھا۔ ان کے پاس جمہوری اقدار کی بہت زیاد اہمیت تھی۔کیرئیر کے آغاز میںڈاکٹر مکھرجی سیاسیات کے استاد اور صحافی بھی رہے چکے ہیں اور انہوں نے اپنے تجربات کی روشنی میں مختلف کتابیں بھی لکھیں جو سیاسیات کے طلبہ کے لیے نہایت مفید اور سود مند ہیں۔ ان کی غیر معمولی خدمات پر کئی جامعات نے انہیں اعزازی ڈاکٹریٹ سے بھی نوازا ہے جن میں ڈھاکا یونیورسٹی، کلکتہ یونیورسٹی ، اردن یونیورسٹی اور فلسطین کی القدس یونیورسٹی قابل ذکر ہےں۔ اس کے علاوہ انہیں بین الاقوامی سطح پر بھی کئی اعزازات حاصل ہوئے۔ آنجہانی رہنما نے 1973 اور 2012 کے درمیان مرکز میں کئی اہم وزارتوں کی قیادت کی۔ 1984 کے ایک سروے میں ڈاکٹر پرنب مکھرجی کو عالمی سطح پر پانچ بہترین فینانس منسٹرس میں شامل کیا گیا تھا۔

2016 میں منعقدہ اردویونیورسٹی کے 6 ویں کانوکیشن کا ذکر کرتے ہوئے پروفیسر رحمت اللہ نے کہا کہ ڈاکٹر مکھرجی نے بحیثیت مہمان خصوصی کانوکیشن میں شرکت سے اتفاق کرلیاتھا لیکن اچانک طبیعت کی ناسازی کے سبب لمحہ آخر میں ان کا دورہ منسوخ کردیا گیا۔
پروفیسر صدیقی محمد محمود، رجسٹرار انچارج نے کہا کہ پرنب مکھرجی نے اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں نہ کرتے ہوئے سماجی اور قومی زندگی پر انمنٹ نقشوش چھوڑے ہےں۔ انہوں نے جمہوریت کو جس انداز میں برتا اور جیا ہے وہ ہم سب کے لیے ایک مثال ہے۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ تعلیم انقلاب کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ وہ تعلیمی اداروں کی بہتر صورتگری کی فکر کرنے والے صدر تھے۔ ان کی کوششوں کے آج نتائج نظر آرہے ہیں۔ ان کے انتقال سے ہندوستان ایک عظیم سیاست دان، دانشور، بے مثال منتظم، انسان دوست شخصیت سے محروم ہوگیا ہے۔

تعزیتی اجلاس میں جناب ایم جی گناشیکھرن، فینانس آفیسر، ڈاکٹر محمد یوسف خان،جناب اظہر حسین خان، ڈاکٹر محمد کامل، جناب شمس الدین انصاری اور دوسرے موجود تھے۔اجلاس کے آخر میں دو منٹ کی خاموش منائی گئی۔کوویڈ 19کے پیش نظر تمام تر احتیاطی اقدامات کے ساتھ اجلاس منعقد کیا گیا۔

Tags:

You Might also Like