Type to search

تعلیم اور ملازمت

ہندوستان اور ازبیکستان کے ثقافتی رشتے پائیدار ہیں: پروفیسر محییٰ عبدالرحمن

MANUU Admissions Translation
حیدرآباد، 6 دسمبر (پریس نوٹ) :ازبیکستان اور ہندوستان کے ثقافتی رشتے بہت پائیدار ہیں۔ ان رشتوں کا تعلق صدیوں پر محیط ہے۔ اس نئے ہندوستان میں آکر اپنے پن کا احساس ہوتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر محییٰ عبدالرحمن نے اپنے توسیعی لکچر میں کیا۔ وہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں توسیعی خطبہ دے رہی تھیں۔
پروفیسر محییٰ عبدالرحمن نے اپنے خطبے میں ازبیکستان میں اردو کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا۔ انھوں نے بتایا کہ وہاں اردو کو پسندکرنے، اسے بولنے اور پڑھنے والوں کی ایک کثیر تعداد ہے۔ لوگ فلموں کے دیوانے ہیں جن میں اردو کے نغمے ہوتے ہیں۔ زیادہ تر ہندوستانی فلموں کے ڈائیلاگ کی زبان بھی اردو ہوتی ہے۔ منٹو، کرشن چندر اور پریم چند کے افسانے پسند کیے جاتے ہیں۔ غالب کا کلام وہاں کے لوگوں کو بہت پسند ہے۔
ازبیکی میں اس کے تراجم بھی ہوئے ہیں۔ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں وزیٹنگ پروفیسر کی حیثیت سے آکر مجھے بہت طمانیت کا احساس ہوا۔ یہاں کی علمی و ادبی فضا نے مجھے مسحور کر دیا ہے۔ یہاں کے طلبا و اساتذہ کے درمیان کے ربط کو دیکھ کر بہت شادمانی کا احساس ہوا۔ اس موقع پر اپنے پیغام میں شیخ الجامعہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، ڈاکٹر اسلم پرویز نے کہا کہ پروفیسر محییٰ کا مانومیں آنا ایک نیک شگون ہے۔ ان کی آمد سے مانو کے طلبہ کو دور دیسوں میں آباد اردو کی بستیوں سے واقفیت حاصل ہوگی۔ ہم نے کئی بین الاقوامی دانش گاہوں کے ساتھ یادداشتِ مفاہمت (MoU) پر دستخط کیے ہیں۔ پروفیسر محیہ کا مانو میں تشریف لانا اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ یہ سلسلے ابھی اور دراز ہوں گے۔
مانو میں پروفیسر محییٰ کا استقبال کرتے ہوئے شعبہ  اردو کے استاد پروفیسر فاروق بخشی نے کہا کہ پروفیسر محییٰ سے تعلقات کی مدت تین دہائیوں پر مشتمل ہے، وہ استادِ محترم پروفیسر قمر رئیس کی عزیز شاگردہ ہیں۔ خالص علمی و ادبی شخصیت ہیں اور بہت خاموشی سے تحقیقی کاموں میں مصروف رہتی ہیں۔
شعبہ اردو کے صدر اور ہارون خاں شیروانی مرکز برائے مطالعات دکن کے ڈائریکٹر پروفیسر نسیم الدین فریس نے پروگرام کی صدارتی تقریر کرتے ہوئے کہا کہ پروفیسر محییٰ ازبیکی شاعر علی شیر نوائی کی مثنوی لیلیٰ مجنوں اور دکنی شاعر شیخ محمد عاجز کی مثنوی لیلیٰ مجنوں کا تقابلی مطالعہ کرنے کے سلسلے میں ہندوستانی آئی ہیں۔ ان کا تعلق ازبیکستان کے تاشقند اسٹیٹ انسٹی ٹیوٹ آف اورینٹل اسٹڈیز کے جنوبی ایشیائی زبانوں کے شعبے سے ہے۔ ان کی آمد سے ازبیکستان میں اردو کی مجموعی صورتحال کا اندازہ ہوا اور ان کی علمی و ادبی گفتگو سے ہمارے طلبہ و طالبات بہت محظوظ ہوئے۔ ڈاکٹر بی بی رضا خاتون کے شکریے کے ساتھ تقریب کے خاتمے کا اعلان ہوا۔ لیکچر میں طلبہ اور ریسرچ اسکالرس کی بڑی تعداد شریک تھی۔
Tags:

You Might also Like