Type to search

بین الاقوامی

مالی صدر ابراہیم بوبکر کیتا نے دیا عہدے سے استعفیٰ

ابراہیم بوبکر کیتا

بماکو، 20 اگسٹ (ایجنسی) مغربی افریقی ملک مالی کے صدر ابراہیم بوبکر کیتا نے اپنے عہدے سے منگل کو دیر رات استعفی دے دیا۔

مالی میں اقوام متحدہ کے 15600 امن مشن ہے۔ کیتا نے آدھی رات سے کچھ وقت پہلے سرکاری ٹیلی ویژن او آر ٹی ایم، پر کہا کہ انکا استعفی فوری اثر سے لاگو ہوگا۔ کیتا نے کہا، میں امید کرتا ہوں کہ مجھے اقتدار میں رکھنے کے لیے کوئی خون نہ بہایا جائے۔ میں اپنا عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنی حکومت اور پارلیمنٹ کو بھی تحلیل کر دیا ہے۔
منگل کو مالی میں ہونے والی فوجی بغاوت کے متعلق واضح نہیں ہے کہ اس کی قیادت کون کر رہا ہے۔ ان باغی فوجیوں نے خود کو ‘قومی کمیٹی برائے عوامی نجات’ کا نام دیا ہے۔ باغی اہلکاروں نے صدر اور وزیرِ اعظم کو اسلحے کے زور پر حراست میں لیا تھا۔
قبل ازیں فوجی اہل کاروں نے صدر ابراہیم بوبکر کیتا اور وزیر اعظم بوبو سیس کو حراست میں لیا تھا اور انہیں دارالحکومت بماکو کے قریب ایک فوجی کیمپ میں منتقل کر دیا گیا تھا۔ صدر اور وزیر اعظم کو حراست میں لیے جانے کی بین الاقوامی سطح پر مذمت کی گئی ہے۔ باغی فوج کے ایک ترجمان اسمٰعیل واگہ کا کہنا ہے کہ ملک میں اقتدار کی منتقلی اب شفاف انتخابات کے ذریعے ہو گی۔

اس سے قبل، باغی فوجیوں نے ملک کے صدر ابراہیم اور وزیر اعظم بوبو سیس کو یرغمال بنایا تھا اور وہ نئے انتخابات کے خواہاں ہیں۔ آپ کو بتادیں کہ ملک میں کئی ماہ سے صدر کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے مظاہرے ہو رہے ہیں اور اب باغی فوجیوں نے جارحانہ موقف اختیار کیا۔

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے منگل کو ہی صدر ابراہیم بوبکر کیتا اور دیگر زیرِ حراست افراد کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔