Type to search

تلنگانہ

ٹڈیوں کا حملہ

locust attack india
Imam Ali bin Maqsood Sheikh Falahi

امام علی بن مقصود شیخ فلاحی

فارسلنا عليهم الطوفان و الجراد و القمل.. .. الخ ۔

قارئین جیسا کہ آپ تمامی حضرات اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ ہم ابھی کورونا وائرس کی وباء ہی میں سر گرداں تھے کہ ایک اور وباء نے ہم پر حملہ بول دیا ہے جو ٹڈی دل کے نام سے معروف ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ ٹڈیاں آ‌ئیں کہاں سے ؟
تو اس سلسلہ میں عرض کردوں کہ اے بی پی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ ٹڈیاں افریقہ سے ہوتے ہوئے عرب کے راستے پاکستان سے ہندوستان کے راجستھان میں داخل ہوئیں بعدازاں پنجاب،مدھیہ پردیش،اتر پردیش،اور گجرات تک پہنچ چکی ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ یہ ٹڈیاں چوبیس گھنٹے میں پینتیس ہزار لوگوں کا کھانا کھاجاتی ہیں یہی وجہ رہی کہ راجستھان اور مدھیہ پردیش میں موسمی فصلوں کو غیر معمولی نقصان ہوا ہے۔ بتایا جارہاہے کہ ایک ٹڈی اپنے وزن کے برابر کھاناکھاتی ہے اور ایک ٹڈی کا وزن کم ازکم دو گرام ہوتا ہے، اپ اگر نوے لاکھ ٹڈیوں نے حملہ کیا تو نوے ہزار اناج کھا جائینگی اور اس حساب سے اگر چار کروڑ ٹڈیوں نے حملہ کیا تو پینتیس ہزار لوگوں کا‌کھانا چوبیس گھنٹے میں چٹ کر جایئں گی۔

بقول راجیش اگروال: ٹڈیاں سینکڑوں انڈے دیتیں ہیں اور جہاں بیٹھتی ہیں اسکو صفا چٹ کر جاتی ہیں اور رات کو جب یہ سوتی ہیں اور سونے کے بعد جب مٹی پر بیٹھتی ہیں تو مادہ ٹڈی اس مٹی میں انڈہ دینے کے بعد ہی وہاں سے پرواز کر تی ہے یعنی کہ بہت ہی تیزی کے ساتھ ٹڈیوں کی پیدائش ہوتی ہے۔ بہر کیف حاصل کلام یہ ہے کہ آج ہم پر ایک دوسری مصیبت آپڑی ہے جو کہ اہل ہند کے لئے بڑا ہی خطر ناک ودہشت گرد ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ ایک تو پہلے ہی سے ہندوستان کی معاشی حالت ٹھپ ہو چکی ہے اور یہ ٹڈیاں مزید خطرے کا باعث بن سکتی ہیں۔ یہ وہی ٹڈیاں ہیں  جس کا ذکر خداوند یکتا نے بھی بطور عذاب کیا ہے ۔جسے قرآن مجید نے یوں بیان کیا ہے۔

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ وَالۡجَـرَادَ وَالۡقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ فَاسۡتَكۡبَرُوۡا وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ۞
ترجمہ: تو ہم نے ان پر بھیجے طوفان اور ٹڈیاں اور جوئیں اور مینڈک اور خون، تفصیل کی ہوئی نشانیاں، تو انہوں نے تکبر کیا اور یہ مجرم لوگ تھے۔

لفظ الجراد کی مختصر توضیح:
جراد : جراد ٹڈی کو کہتے ہیں، اس کی تفصیل تورات میں یوں آئی ہے۔ “ تب خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ ملک مصر پر اپنا ہاتھ بڑھا تاکہ ٹڈیاں ملک مصر پر آئیں اور ہر قسم کی سبزی کو جو اس ملک میں اولوں سے بچ رہی ہے چٹ کر جائیں پس موسیٰ نے ملک مصر پر اپنی لاٹھی بڑھائی اور خداوند نے اس سارے دن اور ساری رات پروا آندھی چلائی اور صبح ہوتے ہوتے پروا آندھی ٹڈیاں لے آئی اور ٹڈیاں سارے ملک مصر پر چھا گئیں اور وہیں مصر کی حدود میں بسیرا کیا اور ان کا دَل ایسا بھاری تھا کہ نہ تو ان سے پہلے ایسی ٹڈیاں کبھی آئیں اور نہ ان کے بعد پھر آئیں گی۔ کیونکہ انہوں نے تمام روئے زمین کو ڈھانک لیا، ایسا کہ ملک میں اندھیرا ہوگیا اور انہوں نے اس ملک کی ایک ایک سبزی کو اور درختوں کے میووں کو جو اولوں سے بچ گئے تھے چٹ کرلیا اور ملک مصر میں نہ تو کسی درخت کی نہ کھیت کی کسی سبزی کی ہریالی باقی رہی ” (خروج باب 10، 12 ۔ 15) ۔

ایک بات اور واضح کردوں کہ یہ عذاب اس وقت کی حکومت فرعون‌ و آل فرعون پر نازل ہوا تھا ۔‌نازل ہونے کی وجہ کیا تھی ؟ اسکو بھی اللہ نے بتلادیا کہ اسکی دو وجہ تھی ایک تو یہ کہ وہ متکبر قوم تھی اور دوسری وجہ یہ کہ وہ مجرم قوم تھی ، متکبر تو اس لحاظ سے کہ وہ اپنے آپ کو بڑا ہی طاقتور و حاکم گمان کرتی تھی اور اسی میں سے ایک نے تو “انا ربكم الأعلى” کا اعلان بھی کیا تھا بایں وجہ اللہ نے انہیں متکبر کہا ۔ رہی بات مجرم کی تو وہ اس لحاظ سے کہ فرعون و آل فرعون بنی اسرائیل پر از حد آلام و مصائب کے‌ پہاڑ توڑے جا رہے تھے، انہیں اپنا غلام بنائے ہوئے تھے، جانوروں اور چوپایوں کی طرح جبرا ان سے کام لیا کرتے تھے، انکے بچوں کو پیدا ہوتے ہی قتل کرادیا کرتے تھے، انکی خواتین کو مردوں سے علیحدہ رکھا کرتے تھے، انہیں بت پرستی پر مجبور کیا کرتے تھے،انہیں فرعون کو اپنا رب ماننے پر زور دیا کرتے تھے، اور بھی طرح طرح کے اذیتیں ڈھایا کرتے تھے بایں معنی انہیں مجرم قوم قرار دیا۔

انہیں دو سبب کی پر اللہ نے ان پر ٹڈیوں کا‌ عذاب نازل فرمایا ۔

اب ذرا آج کی حکومت پر نظر ڈالیں اور غور کریں کہ کیا یہی دو سبب آج کی حکومت میں تو موجود نہیں ؟
تو اگر ذرا غور کیا جائے تو یہ بات بالکل عیاں ہو جاتی ہے کہ واقعی آج کی حکومت (مودی و قوم مودی) بھی متکبر و مجرم قوم ہو چکی ہے ۔ متکبر تو اس ناطے کہ یہی لوگ اکثریت میں بلند مقام پر فائز ہیں، ایوانِ بالا میں اکثر نمائندے انہی کے ہیں، ایوانِ زیریں میں بھی اکثریت انہیں کی ہے، حکومت بھی انہیں کی ہے، پولیس بھی انہیں کی ہے، گویا کہ ہر چیز انہی کی ہے جس کے ناطے یہ حکومت تکبر میں سرگرداں ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ اقلیتی قوم کو بالکل نکما و ناکارہ اور خود کو ہٹلر گمان کر رہے ہیں،معلوم ہوا کہ آج کی حکومت (مودی و قوم مودی) متکبر بن چکی ہے۔

رہی بات مجرم کی تو بالکل عیاں ہے کہ کس طرح یہ حکومت ان مذاہب پر جو اقلیت میں ہیں ان‌ پر جرم کئے جارہے ہیں، ان پر کس قدر ظلم و تشدد کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں،‌انہیں اپنے مذہب میں داخل کرنے پر مجبور کیا جارہاہے و عدم دخولیت پر یہاں سے رفع دفع ہو جانے کا‌ قانون لایا جارہا ہے،‌کبھی گھر واپسی جیسا نعرہ لگایا جا رہا ہے تو کبھی لو جہاد کا نعرہ لگایا جا رہا ہے۔

کبھی بابری مسجد کو شہید کیا جارہا ہے تو کبھی طلاق ثلاثہ پر نشانہ لگایا جا رہا ہے۔ کبھی ایک سو ستر کا دھارا ہٹایا جا رہا ہے تو کبھی گائے کے نام پر مارا جا رہا ہے۔ کبھی جامعہ میں دنگا کرایا جا رہا ہے تو کبھی اے ایم یو میں تشدد کرایا جا رہا ہے۔ کبھی جے سری رام کے نام پر مارا جا رہا ہے تو کبھی لاؤڈ سپیکر پر اذان سے روکا جا رہا ہے۔ کبھی سی اے اے کو لاگو کیا جا رہا ہے تو کبھی این آر سی کو بتایا جارہاہے ہے غرض یہ کہ بہمہ جہت اقلیتی قوم کو آلام و مصائب کے‌ زنجیر میں جکڑا جا رہا ہے۔ بایں سبب آج کی حکومت (مودی و قوم مودی) مجرم قوم بن چکی ہے۔

خلاصہ کلام یہ برآمد ہوا کہ جن دو اسباب کی بنا پر اس وقت کی حکومت (فرعون و آل فرعون) پر بجانب اللہ طوفان و ٹڈیوں کا‌ عذاب نازل ہوا تھا تو یہ بات بھی بالکل بعید نہیں کہ انہیں دو سبب کی بنا پر آج کی حکومت پر بھی من جانب اللہ کوئی طوفان و ٹڈیوں کا‌ عذاب نازل ہوا جائے۔ اور ہو بھی سکتا ہے کیونکہ فی الوقت کورونا وائرس کا عذاب لاحق ہے اور چند ایام قبل کئی علاقوں میں زلزلے کا جھٹکا بھی وارد ہوا اور فی الحال ہی ایک اور عذاب بشکل ٹڈی نازل ہوا ہے لیکن شاید عوام اسکے مفہوم سے ناآشنا ہے۔

اور ایک بات صاف کہہ دوں جس طرح فرعون و آل فرعون متکبر و مجرم ہونے کی وجہ سے تباہ و برباد ہو گیا۔اگر آج کی حکومت بھی اپنے تکبرانہ و مجرمانہ رویے پر قائم رہی تو وہ دن دور نہیں کہ خدا عزوجل انہیں تباہیوں کا ایندھن بنادے۔

آخر میں دعا گو ہوں کہ الہ العالمین اگر اس جابر حکومت کے مقدر میں ہدایت نوشتہ ہو تو انہیں جلد از جلد ایمان سے سرفراز فرمایا اور اگر انکے مقدر میں ہدایت نہ نوشتہ ہو تو ان کا صفایا فرما۔
آمین یا رب العالمین۔

از قلم: امام علی فلاحی۔

 نوٹ: اس مضمون کو امام علی بن مقصود شیخ فلاحی نے لکھا ہے۔ یہ مضمون نگار کی اپنی ذاتی رائے ہے۔ اسے بنا ردوبدل کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔اس سے اردو پوسٹ کا کو کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کی سچائی یا کسی بھی طرح کی کسی معلومات کے لیے اردو پوسٹ کسی طرح کا جواب دہ نہیں ہے اور نہ ہی اردو پوسٹ اس کی کسی طرح کی تصدیق کرتا ہے۔

Tags:

You Might also Like