Type to search

قومی

شاہین باغ میں لنگر لگانے کے لیے ایک سکھ نے اپنا فلیٹ بیچ دیا

حیدرآباد،9فروری(اردو پوسٹ انڈیا ڈاٹ کام) دہلی کے شاہین باغ میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف قریب دو مہینے سے دھرنا مظاہرہ چل رہا ہے۔ اس مظاہرے میں لوگ مختلف طریقہ سے حصہ لے رہے ہیں۔ ان میں سے ہی ایک ڈی ایس بندرا مظاہرین کے لیے لنگر لگا رہے ہیں۔ انہوں نے مظاہرین کے کھانے کا انتظام کرنے کے لیے اپنا فلیٹ تک فروخت کردیا۔

شاہین باغ میں لنگر لگانے والے ڈی ایس بندرا دہلی ہائی کورٹ میں وکیل ہے۔ احتجاج میں لوگوں کی خدمت کرنے کے لیے انہوں نے اپنا فلیٹ تک فروخت کردیا ۔انکا کہنا ہے کہ گرودوارے میں لنگر لگاتے ہیں۔ اس سے اچھا ہے کہ ملک کے ان لوگوں کی خدمت کی جائے جو آئین کی حفاظت کے لیے لڑ رہے ہیں۔

ڈی ایس بندرا بتاتے ہیں کہ انہوں نے کھورجی اور مستطفے آباد میں لنگر کی شروعات کی تھی۔ لیکن بعد میں وہاں کے ساتھیوں کے حوالے کردیا اور اب وہ شاہین باغ میں لنگر کھلا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ شاہین باغ میں پوری ذمہ داری کے ساتھ کام کررہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہم کسی سے بھی کیش (رقم) نہیں لے رہے ہیں۔ پھر بھی پنجابی کے ساتھ دیگر سبھی برادریوں کے لوگوں کا ساتھ مل رہا ہے۔ کوئی سبزی لیکر آرہا ہے ، کوئی ریفائنڈ تیل لیکر آرہا ہے۔ اس طرح عوام سے ہر طرح کی مدد مل رہی ہے۔

ڈی ایس بندرا نے کہا کہ جب ہم خاندان کے چھ لوگ گرودوارے جاتے ہیں تو ماتھا ٹیکتے ہیں اور 50-50 روپے چندہ کرتے ہیں ، اس سے بہتر ہے کہ ہم انسانیت کے لیے کام کریں۔

مالی صورتحال کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ واہے گرو، نے جو دیا ہے اسے رکھنے کا کیا فائدہ ہے۔ جو ایشور نے دیا ہے اسے لوگوں کی خدمت میں لگانے میں ہی فائدہ ہے۔ فلیٹ اس لیے بیچ دیا کہ لنگر کا خرچ اٹھانے کے لیے پیسے کی ضرورت تھی۔ کیش نہیں تھا۔ اس لیے پراپرٹی بیچنے کا فیصلہ کیا۔

ایک ویڈیو میں انہوں نے کہا کہ لنگر ایک بار شروع ہوجائے تو ہم اسے بند نہیں کرتے، لنگر چلتا آرہا ہے پچھلے537سالوں سے،، کیمرے پر یہ چیز بولنے کی نہیں ہے۔ لیکن پھر بھی میں آپکو بتا دیتا ہوں کہ میرے پاس تین فلیٹ تھے، میں نے ایک بیچ دیا ہے، جسکے پیسوں سے یہ لنگر چل رہا ہے۔

پہلے بیوی نے ایسا کرنے سے روکا۔ لیکن اب وہ مدد کرتی ہے۔ اگر ایک سال تک لنگر چلانا ہے تو بھی چلاؤنگا، دو فلیٹ اور ہے ضرورت پڑی تو انہیں بھی بیچ دونگا۔ بتادیں کہ یہ لنگر پنجاب سے آئے لوگوں کے لیے انہوں نے اسے شروع کیا تھا۔

ڈی ایس بندرا نے بتایا کہ فلیٹ بیچنے سے پہلے انہوں نے بچوں کی رائے لی تھی۔ انہوں نے بتیا کہ بچی کی حامی سے فیلٹ بیچنے کا فیصلہ کیا۔ ایک بیٹی ہے جو ایمٹی یونیورسٹی سے ایم بی اے کررہی ہے۔ بیٹے کی موبائل کی دوکان ہے۔ میرے بچوں کا کہنا ہے کہ گردوارے میں چندہ کرنے سے اچھا ہے کہ شاہین باغ میں مظاہرہ کرنے والے لوگوں کے لیے کھانے کا انتظام کیا جائے۔

ابھی رہنے کے لیے ہمارے پاس ایک فلیٹ ہے۔ اسی لیے لنگر کے لیے پیسہ جمع کرنے کی خاطر دوسرا فیلٹ بیچ دیا۔ بتایں کہ ڈی ایس بندرا کے علاوہ پنجاب سے آئے لوگوں نے بھی الگ سے لنگر لگایا ہوا ہے۔
بندرا کے اس کام سے سوشل میڈیا پر انکی بہت تعریف ہورہی ہے۔

Tags:

You Might also Like