Type to search

قومی

کیا ہے شہریت ترمیمی بل، کیوں ہو رہی ہے اسکی مخالفت

شہریت ترمیمی بل کی لوک سبھا کے بعد اب راجیہ سبھا سے بھی منظوری مل گئی۔ صدر جمہوریہ کی مہر لگنے کے بعد اب شہریت ترمیمی بل قانون بن جائے گا۔ پارلیمنٹ نے چہارشنبہ کو شہریت ترمیمی بل کو منظوری دے دی جس میں افغانستان، بنگلہ دیش اور پاکستان سے مذہبی ظلم وستم کی وجہ سے ہندوستان آئے ہندو، سکھ، جین، پارسی اور عیسائی کو ہندوستانی شہریت فراہم ہے۔ راجیہ سبھا نے چہارشنبہ کو تفصیلی بحث کے بعد اس بل کو پاس کردیا۔ ایوان نے بل کو سلیکٹ کمیٹی کو بھیجنے جانے کے اپوزیشن کی تجویز کو خارج کردیا۔ بل کے حق میں 125 ووٹ ملے تو 105 ارکان نے اسکے خلاف ووٹ دیا۔ بتادیں کہ لوک سبھا اس بل کو پہلےہی پاس کرچکا ہے۔

آئے جانتے ہیں اس بل کی اہم باتیں

 شہریت ترمیمی بل کے قانون کی شکل اختیار کرلینے کے بعد پاکستان، افغانستان، بنگلہ دیش میں مذہبی ظلم وستم کی وجہ سے وہاں سے بھاگ کر آئے ہندو، عیسائی ، سیکھ ، پارسی ، جین اور بدھ مذہب کو ماننے والے لوگوں کو سی اے بی کے تحت ہندوستان کی شہریت دی جائے گی۔

 شہریت ترمیمی بل کو جنہوں نے 31 ڈسمبر 2014 کی تاریخ تک ہندوستان میں داخل کرلیا ہے، وہ ہندوستانی شہریت کے لیے حکومت کے پاس درخواست کرسکتے ہیں۔

ابھی ہندوستانی شہریت لینے کے لیے 11 سال ہندوستاتن میں رہنا لازمی ہے۔ نئے بل میں یہ بات فراہم ہے کہ پڑوسی ملکوں کے اقلیت اگر پانچ سال بھی ہندوستان میں رہے ہوں تو انہیں شہریت دی جاسکتی ہے۔

 یہ بھی انتظام کیا گیا ہے کہ انکے بے گھر ہونے یا ملک میں غیر قانونی رہائش کو لیکر ان پر پہلے سے چل رہی کوئی بھی قانونی کروائی مستقل شہریت کے لیے انکی اہلیت پر کوئی اثر نہیں کرے گا۔

 او آئی سی کارڈ رکھنے والے اگر شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو انکا کارڈ رد کرنے کا حق مرکز کو ملے گا اور انہیں سنا بھی جائے گا۔

شہریت ترمیمی بل کی وجہ سے جو مخالفت کی آواز اٹھی اسکی وجہ یہ ہے کہ اس بل کے قواعد کے مطابق پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش سے آنے والے مسلمانوں کو ہندوستان کی شہریت نہیں دی جائے گی۔ کانگریس سمیت کئی پارٹیاں اسی بنیاد پر بل کی مخالفت کررہی ہے۔

ملک کی شمال مشرقی ریاستوں میں اس بل کی مخالفت کی جارہی ہے ، اور انکی تشویش ہے کہ پچھلے کچھ دہائیوں میں بنگلہ دیش سے بڑی تعداد میں آئے ہندوؤں کو شہریت دی جاسکتی ہے۔

وزیرداخلہ امیت شاہ نے کہا کہ ہندوستان کے مسلمان ہندوستانی شہری تھے، ہیں اور بنے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان تینوں ملکوں میں اقلیتوں کی آبادی میں اچھی کمی آئی ہے۔ شاہ نے کہا بل میں ہراساں کا شکاری ہوئے اقلیتیوں کو شہریت دینے کاانتظام کرنے کا بل ہے۔ شاہ نے اس بل کے مقصد کو لیکر ووٹ بینک کی سیاست کے اپوزیشن کے الزامات کو خارج کرتے ہوئے ملک کو یقین دلایا کہ مجوزہ قانون بنگال سمیت پورے ملک میں لاگو ہوگا۔ انہوں اس بل کے آئین کے مخالف ہونے کے اپوزیشن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کو اس طرح کا قانون بنان کے اختیار خود آئین میں دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو تشویش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ وہ ہندوستان کے شہری ہیں اور  بنے رہیں گے۔

حمات میں ۔ بی جے پی، اے آئی اے ڈی ایم کے ، بی جے ڈی ، جے ڈی یو ، اکالی ، دیگر۔

مخالفت میں- کانگریس ، ٹی ایم سی ، ایس پی ، آر جے ڈی ، این سی پی ، سی پی آئی-ایم ، ٹی آر ایس ، ڈی ایم کے ، بی ایس پی ، عاپ کے علاوہ مسلم لیگ ، سی پی آئی اور جے ڈی ایس۔

Tags:

You Might also Like