Type to search

ٹی وی اور فلم

کامیابی کا سفر مشکلوں بھرا رہا : اداکارہ پیا باجپائی

اداکارہ پیا باجپائی

فلمی ڈسک، 10 فروری (ارد وپوسٹ انڈیا ڈاٹ کام) چھوٹے شہروں سے لوگ بڑے خواب لیکر ممبئی شہر آتے ہیں، مگر یہاں کی زمین پر قدم رکھتے ہی انکا سامنا ایک نئی دنیا سے ہوتا ہے- جہاں جدوجہد سے زندگی بسر کی جاتی ہے- لڑکیوں کے لیے یہاں اور مصیبت ہے- ایسی ہی مصیبتوں سے دو چار ہوئی اداکارہ پیا باجپائی-

 

 

 

اترپردیش کے اٹاوا سے تعلق رکھنے والی پیا باجپائی کے لیے ممبئی آنا اور یہاں خود کو قائم کرنا کافی مشکل رہا- وہ والدین سے جھوٹ بولکر ممبئی آئی تھی-

 

 

لال رنگ، مرزا جولیٹ، اور لوسٹ جیسی فلموں میں نظر آچکی اداکارہ پیا باجپائی نے حال ہی میں ایک میڈیا ادارے کو دیئے انٹرویو میں بتایا کہ سالوں پہلے جب انہوں نے اپنا شہر چھوڑا تو انہیں خود پر اتنا یقین تو تھا کہ وہ کچھ بن کر ہی واپسی ہونگی-

 

حالانکہ اٹاوا کے ٹاپ 10 لوگوں میں وہ جگہ بنا پائیں گی، اسکا خیال تک انہیں نہیں تھا- پیا کے مطابق ایک کمپیوٹر کورس کرنے کے بعد انہوں نے نوئیڈا میں رسپشن کی نوکری کی-

 

مگر اس نوکری میں انیں دلچسپی نہیں تھی- پیا باجپائی ایکٹینگ کی دنیا میں قسمت چمکانا چاہتی تھی اور انہوں نے والد سے ممبئی جانے کی ضد کی-

 

والد تیار نہ ہوئے پیا نے اپنے والد سے جھوٹ بولا کہ وہ ایک ٹی وی شو میں کام کرنے کا آفر ملا ہے- گھر والوں نے بھی یقین کرلیا اور اس طرح ممبئی جانے کا سفر شروع ہوا-

 

پیا باجپائی کے مطابق ممبئی پہچنے کے بعد انکے پاس رہنے کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا- شروعات میں وہ دو دن دادر علاقے میں ایک لاج میں ٹہری- اسکے بعد وہ اندھیری منتقل ہوئی- انہیں ایک چول میں ایک پی جی میں جگہ ملی، لیکن شرط یہ تھی کہ انہیں کتے کے ساتھ روم شیئر کرنا تھا-

 

اس دوران پیا باجپائی نے پرکاش میگزین میں کارڈینیشن کا کام کیا۔ پیا کے مطابق، جس دفتر میں وہ کام کرتی تھی، اس کے مالک نے اسے کھانے پینے کی سہولت فراہم کی، لیکن پھر بھی اس کے سر پر چھت نہیں تھی۔ انہوں نے مالک سے دفتر میں رہنے کے لیے پوچھا تو اجازت نہیں ملی- مالک نے پیا کی بے بسی کو سمجھا اور اس طرح پیا کو رہنے کی جگہ مل گئی۔ اب وہ دفتر پیا باجپائی کے لیے گھر بن گیا ہے۔ جدوجہد کرتے ہوئے، پیا کو گجراتی ٹوتھ پیسٹ کا اشتہار ملتا ہے۔ پھر آہستہ آہستہ پرنٹ اشتہار میں کام ملنے لگا۔ اس کے بعد انہیں ایک بڑے برانڈ کے صابن کا اشتہار ملا، جس کے لیے انہیں اچھی خاصی فیس ملی۔

 

 

 

اشتہارات کی دنیا میں خود کو منوانے کے بعد پیا ساؤتھ انڈسٹری کا رخ کیا- وہاں پیا نے قریب 18-17 فلموں میں کام کیا-

پیا باجپائی کہتی ہے کہ میں پیسے بہت کما رہی تھی، لیکن یہ افسوس تھا کہ میرے اپنے لوگوں کو میرا کام نہیں دیکھ رہا ہے- اسکے بعد ہندی فلموں کے لیے کام کرنا شروع کیا- اور اداکار رندیپ ھدا کے ساتھ فلم لال رنگ میں کام کیا- پھر مرزا جولیٹ میں نظر آئی-

 

 

اداکارہ پیا باجپائی کی پیدائش 22 ڈسمبر 1993 کو اترپردیش کے اٹاوا میں ہوئی- وہ ایک اداکارہ اور ماڈل ہیں جو بنیادی طور پر بالی ووڈ اور ٹالی وڈ فلموں میں نظر آتی ہیں۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Pia Bajpiee (@piabajpai)

 

وبائی مرض کوویڈ کے دوران کے اپنے 27 سالہ بھائی کھو دینے والی اداکارہ پیا باجپائی نے سال 2008 میں تمل فلم پوئی سولا پورم سے ڈیبیو کیا، اسکے بعد سال 2009 میں فلم نینو کیلسکا سے تیلگو فلم میں ڈیبیو کیا-

پیا باجپائی جلد ہی اداکارہ یامی گوتم کی فلم لوسٹ میں نظر آئیں گی-