Type to search

ٹی وی اور فلم

کشور کمار برتھ ڈے اسپیشل : بالی ووڈ کے ورسٹائل گلوکار

کشور کمار

فلمی ڈسک،4 اگسٹ (اردو پوسٹ انڈیا ڈاٹ کام) سدا بہار گلوکار، اداکار کشور کمار 4 اگست کو انکی یوم پیدائش ہے۔ زندگی ایک سفر ہے سہانا، ایک لڑکی بھیگی بھاگی سی، میرے محبوب کامیات ہوگی، جیسے شاندار گانوں کو اپنی آواز دینے والے کشور کی پیدائش مدھیہ پردیش کے کھنڈوا میں 04 اگست 1929 کو متوسط بنگالی خاندان میں ایڈوکیٹ کنجی لال گانگولی کے گھر میں ہوئی۔

۔ کشور کا اصلی نام ابھاس کمار گانگولی تھا۔ بالی ووڈ میں کئی سنگرس آئے اور گئے لیکن کشور کی آواز کا جادو آج بھی برقرار ہے۔ کشور کمار کی یوم پیدائش پر جانتے ہیں ان سے جڑے کچھ دلچسپ باتے۔

کشور کو سال 1969ء میں فلم ارادھنا کے لیے بہترین سنگر کا فلم فیر ایورڈ ملا۔ ان کے گائیکی کے لیے ان کو 8 مرتبہ یہ اعزاز ملا۔

بھائی بہنوں میں سب سے چھوٹے شرارتی کشور کمار گانگولی عرف کشور کمار کا رجحان بچپن سے ہی باپ کے پیشے وکالت کی طرف نہ ہوکر موسیقی کی جانب تھا۔ عظیم اداکار اور گلوکار کے ایل سہگل کے نغموں سے متاثر کشور انہی کی طرح گلوکار بننا چاہتے تھے۔

کشور کمار ہندی فلم انڈسٹری میں ایک بہت ہی ورسٹائل گلوکار ہیں۔ وہ اپنے مست مگن اور انوکھے آواز کے لئے مشہور ہے۔ کشور کمار صرف ایک گلوکار ہی نہیں بلکہ مصنف، پروڈیوسر، ہدایت کار بھی تھے۔ لتا منگیشکر اور آشا بھوسلے جیسے بہت ہی مشہور فنکاروں کے ساتھ ایک سے بڑھ کر ایک ہٹ گانے دیئے۔ جنہیں لوگ آج بھی جوش سے سنتے ہیں۔ انہوں نے ہندی زبان میں نہیں بلکہ بہت سی دوسری زبانوں میں بھی خوبصورت اور ہٹ گانے گائے ہیں۔

سہگل سے ملنے کی خواہش لے کر کشور کمار 18 سال کی عمر میں ممبئی پہنچے، لیکن ان کی خواہش پوری نہیں ہو پائی۔ اس وقت تک ان کے بڑے بھائی اشوک کمار بطور اداکار اپنی شناخت بنا چکے تھے اور وہ چاہتے تھے کہ کشور ہیرو کے طور پر اپنی شناخت بنائیں لیکن خود کشور کمار اداکاری کے بجائے گلوکار بننا چاہتے تھے حالانکہ انہوں نے موسیقی کی ابتدائی تعلیم کبھی کسی سے حاصل نہیں کی تھی۔

بالی ووڈ میں اشوک کمار کی شناخت کی وجہ سے کشور کو بطور اداکار کام مل رہا تھا۔ اپنی خواہش کے باوجود انہوں نے اداکاری کرنا جاری رکھا۔ جن فلموں میں وہ بطور آرٹسٹ کام کیا کرتے تھے انہیں اس فلم میں گانے کا بھی موقع مل جایا کرتا تھا۔ کشور کی آواز سہگل سے کافی حد تک ملتی جلتی تھی۔ بطور گلوکار سب سے پہلے انہیں سال 1948 میں بمبئی ٹاکیز کی فلم ضدی میں سہگل کے انداز میں ہی اداکار دیو آنند کے لیے ’’مرنے کی دعائیں کیوں مانگوں‘‘ گانے کا موقع ملا۔

انہوں نے کبھی کوئی موسیقی کی تربیت نہیں لی تھی،

لیکن انکی میٹھی آواز سن کر کوئی بھی یہ نہیں کہے سکے گا،

کہ انہوں نے موسیقی میں تربیت نہیں لی ہو۔

اور یہی بات تو انکی خاص ہے۔

انہوں نے گجراتی، بنگالی، مراٹھی اور دیگر زبانوں میں ایک سے بڑھ کر ایک

گانے گائے جنہیں فینس آج بھی بے حد پسند کرتے ہیں۔

اپنے وقت کی مشہور ہیروئین مدھو بالا سے انہیں محبت تھی،

ان کی علالت کے وقت میں اداکارہ سے شادی کی اور موت تک وہ ان کے خدمت کرتے رہے۔

کشور 13 اکتوبر 1987ء کو انتقال کرگئے۔