Type to search

وائرل

کیرالا کی ریحانہ شاہ جہاں نے 24 گھنٹے میں حاصل کیے 81 سرٹیفیکٹ

ریحانہ شاہ جہاں

وائرل ڈسک، 30 اگسٹ (اردو پوسٹ انڈیا ڈاٹ کام) بہت کم لوگ ہی ہوتے ہیں جنہیں کم وقت میں شہرت، کامیابی اور نام ملتا ہے- اور ایسا کرجاتے ہیں جسکا اندازہ بھی نہیں ہوتا ہے۔

اسکولی تعلیم کے بعد کالج کی پڑھائی کرکے لوگ سالوں اپنے کامیابی کے سرٹیفیکٹ کا انتظار کرتے ہیں وہیں اور جب یہ ایک سرٹیفیکٹ ملتا ہے تو آپکی خوشی کا ٹھکانہ نہیں رہتا، اگر آپ کو صرف 24 گھنٹے میں 81 سرٹیفیکٹ مل جائیں تو آپ کیا کریں گے۔

 

جی ہاں ، کیرالا کی رہنے والی ریحانہ شاہ جہاں کو صرف 24 گھنٹے میں 81 سرٹیفیکٹ ملیں ہیں۔ ریحانہ نے یہ سرٹیفیکٹ حاصل کرکے پوری دنیا میں ہندوستان کا نام روشن کردیا ہے-

کیرالا کی رہنے والی ریحانہ شاہ جہاں نے دنیا کے سامنے کچھ ایسا کردیا ہے جسے جان کر ہر کوئی حیران ہے-

اگر حساب سے 24 گھنٹے میں 81 سرٹیفیکٹ کا مطلب دیکھا جائے تو ریحانہ نے ہر منٹ میں اوسط 3 سے زیادہ سرٹیفیکٹ حاصل کیے ہیں-

 

 

کیرالا کے کوٹائم کی رہنے والی ریحانہ شاہ جہاں دہلی کے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے کامرس میں ماسٹرس (ایم-کام) کی ڈگری حاصل کرنے کا خواب دیکھ رہی تھی-

 

 

حالانکہ قسمت میں کچھ اور ہی تھا، ادھے نمبر کی وجہ سے سیٹ نہ ملنے کی وجہ سے ریحانہ کافی مایوس ہوئی لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری، 25 سال کی ریحانہ نے دو پوسٹ گریجویشن کورس کے لیے آن لائن ایڈمیشن لیا-

سوشل ورک میں مارسٹرز کے لیے درخواست کرنے کے علاوہ ریحانہ نے گائیڈنس اینڈ کاؤنسلنگ میں بھی داخلہ لیا-
پی جی میں داخلے کے بعد ریحانہ مینجمنٹ کی پڑھائی بھی کرنا چاہتی تھی، داخلے کے لیے کامن انٹرنس ٹیسٹ (کیٹ) کی تیاری کے بعد ریحانہ نے کیٹ امتحان بھی پاس کیا-

ریحانہ شاہ جہاں اپنے بیچ کی ایک واحد ملیالی طالب علم تھی- انہوں نے جامعیہ ملیہ اسلامیہ میں ایم بی اے پروگرام میں داخلہ لیا-

 

پڑھائی کی طرف ریحانہ کا جوش ایسا تھا کہ انہوں نے ایک ہی دن میں سب سے زیادہ آن لائن سرٹیکیفکٹ حاصل کرنے کا ورلڈ ریکارڈ اپنے نام کرلیا- ریحانہ کو کل 81 سریٹیفیکٹ ملے ہیں-

کیرالا کے کوٹائم ضلع کے ایلیکل کی رہنے والی ریحانہ اپنی بہن نہلا سے متاثر تھی- دہلی کے لیڈری شری رام کالج سے آپریشنل ریسرچ میں ماسٹر ڈگری پوری کرنے کے بعد اب نہلا لندن میں کام کررہی ہے-

ریحانہ شاہ جہاں کا کہنا ہے کہ نہلا ہمیشہ سے ہی پڑھائی میں کافی تیزی رہی ہے- انہیں دیکھنے کے بعد خود ایک اوسط طالب علم کا ٹیگ ہٹانے کی ٹھان لی-

 

ریحانہ بتاتی ہے کہ جب انکی بہن کو دہلی کے لیڈی شری رام کالج میں داخلہ ملا تو وہ خود سنٹرل یونیورسٹی میں داخلہ لینے کے لیے قسمت آزمانا چاہتی تھی- لیکن وہ ایک چھوٹے سے فرق سے چوک گئی-

ریحانہ کے مطابق، ایک ساتھ دو پی جی ڈگری حاصل کرتے ہوئے انہوں نے دہلی میں ایک غیر سرکاری تنظیم (این جی او) ویمنس منیفسٹو، کے ساتھ کام کیا، یہ تنظیم خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے کام کرتی ہے-

ایک دن میں سب سے زیادہ سرٹیفیکٹ کا ورلڈ ریکارڈ بنانے والی ریحانہ کا کہنا ہے کہ کیٹ کا محتان پاس کرنے کے بعد انہیں احساس ہوا کہ وہ پڑھائی میں اچھا اسکور کرسکتی ہے-

 

صرف خواب دیکھنے کے بجائے کوشش کرنے کی ضرورت ہے- ریحانہ کے مطابق وہ سرٹیفیکیشن کورس کرکے اپنے پرفارمینس کی فہرست بڑھانا چاہتی ہے-

غور طلب ہے کہ ایک دن میں سب سے زیادہ آن لائن سرٹیفیکٹ کا پچھلا ورلڈ ریکارڈ 75 کا تھا-

ورلڈ ریکارڈ ہولڈر ریحانہ نے حال ہی میں دبئی میں ایک مینجمنٹ پروفیشنل کے طور پر اپنی شاندار نوکری چھوڑ دی- اسکی وجہ والد پی ایم شاہجہاں کی دیکھ بھال کرنا تھا-

ریحانہ کے خاندان میں والد، والدہ سی ایم رفعت اور شوہر ابراہیم ریاض ہیں- شوہر آئی ٹی انجنیئر ہے-