Type to search

تلنگانہ

میرے پاس میرا برتھ سرٹیفیکٹ نہیں، والد، دادا کا کہاں سےلاؤں : کے سی آر

کے چندر شیکھر

حیدرآباد،8مارچ(اردو پوسٹ انڈیا ڈاٹ کام) تلنگانہ کے وزیر اعلی کے چندر شیکھر راؤ نے ہفتے کے روز ریاستی اسمبلی میں انکشاف کیا کہ ان کے پاس بھی پیدائشی سند (برتھ سرٹیفیکٹ ) نہیں ہے۔ راؤ نے قومی پاپولیشن رجسٹر (این پی آر) کے نئے فارمیٹ کا ذکر کرتے ہوئے راؤ نے کہا ، “جب میرے خود کے پاس پیدائشی سند نہیں ہے تو میں اپنے والد کا سرٹیفکیٹ کہاں لاؤں گا۔”
نیا فارمیٹ یکم اپریل سے لاگو ہونا ہے۔ وزیراعلیٰ کے طور پر مشہور ، 66 سالہ کے سی آر نے مزید کہا ، “یہ میرے لئے بھی باعث تشویش ہے۔ میں گاؤں کے اپنے گھر میں پیدا ہوا تھا۔ اس وقت کوئی ہاسپٹل نہیں تھا۔ گاؤں کے بزرگ” پیدائشی نام “لکھتے تھے۔ جس پر کوئی سرکاری مہر نہیں ہوتی تھی۔ “انہوں نے کہا ،” جب میں پیدا ہوا تھا تو ہمارے پاس 580 ایکڑ اراضی اور ایک عمارت بھی تھی۔ جب میں اپنا پیدائشی سند پیش نہیں کرپا رہا تو دلت ، قبائلی اور غریب لوگ کہاں سے برتھ سرٹیفکیٹ لائیں گے.

دن میں دوسری بار ایوان میں اس معاملے پر بات کرتے ہوئے کے سی آر نے کہا کہ تلنگانہ راشٹر سمیتی کی اپنی کچھ ترجیحات اور اصول ہیں ، جن سے وہ کبھی سمجھوتہ نہیں کرئیں گے۔ وزیر اعلی نے کہا کہ شہرتی قانون ایکٹ کی سب سے بری بات یہ ہے کہ یہ ہندوستانی آئین کے بنیادی اصول کے خلاف ہے۔ جیسے آئین سبھی شہریوں کو انکی ذات ، مذہب اور مسلک سے قطع نظر یکساں سلوک کرنے کا وعدہ کرتا ہے۔ انہوں نے کہا ، “کوئی بھی سول سوسائٹی ایسے قانون کو قبول نہیں کرے گا جو ایک خاص مذہب کے لوگوں کو باہر رکھتا ہے۔

کے سی آر نے کہا کہ ایوان اس معاملے پر مکمل بحث کرنے کے بعد ایک قرارداد پاس کرئے گا۔ تاکہ پورے ملک کو اس معاملے میں ایک مضبوط پیغام دیا جاسکے۔ یہ معاملہ ملک کے مستقبل ، اس کے آئین اور دنیا میں اس کے قد سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کیا کہ ایسے قانون کی وجہ سے ملک اعزاز کھو رہا ہے۔ راؤ نے کہا، ہم اس قانون کا حصہ ہیں اور ہم اپنی سرحد میں رہ کر جو کرسکتے ہیں وہ کریں گے اور کسی سے بھی نہیں ڈریں گے۔

Tags:

You Might also Like