Type to search

تلنگانہ

کرناٹک کی یہ شیرنی بھگوؤں کو دہاڑ دی – مسکان خان

مسکان خان

از قلم: امام علی مقصود فلاحی۔

متعلم: جرنلزم اینڈ ماس کمیونیکیشن۔
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد۔


جیسا کہ ہمیں معلوم ہے کہ چند روز سے مسلسل سرزمین کرناٹک میں مسلم باحجاب طالبات کے ساتھ وہاں کی حکومت ناقابل برداشت عمل کر رہی ہے، جسکی تردید آج ملک کا مسلم بچہ بچہ کر رہا ہے۔

وہ اس لئے کہ کرناٹک کی سرزمین کی ایک کالج میں جہاں ہندو مسلم طلباء و طالبات مخلوط ہوکر اعلٰی تعلیم حاصل کرتے ہیں، جہاں ہمیشہ مسلم لڑکیاں حجاب میں آکر تعلیم حاصل کرتی ہیں، لیکن ابھی چند دنوں قبل کالج کے پرنسپل نے یہ اعلان جاری کیا کہ جو بھی اس کالج میں تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہے وہ حجاب اتار کر آئے، لیکن اسکے بعد بھی لڑکیا حجاب میں ہی جاتی رہیں اور تعلیم حاصل کرتی رہیں، جسکی ان باحجاب لڑکیوں کے ساتھ غلط رویہ اختیار کیا جانے لگا، انہیں علحیدہ کمرے میں انکے والدین کی اجازت کے بنا بیٹھایا جانے لگا۔

لیکن ایک دن ساری ہی لڑکیوں کو کالج کے اندر آنے سے روکا جانے لگا اسی وقت چند باحجاب طالبات اپنے ایمانی جوش میں آکر وہاں کے پرنسپل سے سوال پوچھنا شروع کر دیتی ہیں اور وہیں گیٹ کے باہر احتجاج کا بازار گرم کر دیتی ہیں۔

اسکے بعد سے ہی معاملہ طول پکڑ لیتا ہے، اور دیکتھے ہی دیکتھے ڈھیر ساری طالبات یک جٹ ہو کر اور شہر کرناٹک کے الگ الگ حصوں میں احتجاج کرنا شروع کر دیتی ہیں، اسی کو دیکھتے ہوئے کچھ بھگواداری لڑکے اور لڑکیاں بھی جمع ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر مسلم لڑکیا حجاب پہنے گیں تو ہم بھگوا گمچھا اوڑھیں گے، پھر وہی ہوتا ہے اور مقابلہ بازی شروع ہوجاتی ہے، یہاں مسلم لڑکیاں نقاب میں آرہی ہیں تو وہاں ہندو لڑکے اور لڑکیاں بھگواداری کر رہے ہیں۔

جسکی وجہ مزید عداوت و دشمنی طول پکڑتی جا رہی ہے،‌جیسا کہ ابھی دیکھنے میں آیا ہے کہ ایک باحجاب طالبہ اسکوٹی لیکر جیسے ہی کالج میں داخل ہوتی ہے ویسے ہی پندرہ بیس ہندو لڑکے بھگوے کلر کا رومال لیکر اسکے پیچھے پڑ جاتے ہیں اور اسے گھیر کر جے شری رام کا نعرہ لگاتے ہیں، لیکن قربان جائیں اس لڑکی پر جسکا ایمان جوش میں آتا ہے اور وہ بھی سب کے بیچ دہاڑتی ہوئی اللہ اکبر کا نعرہ لگا کر اپنے ایمان کی پیاس بھجاتی ہے، جسے دیکھ کر ہمارے بھی ایمان جوش میں آجاتا ہے کہ ایک تنہاء لڑکی پندرہ بیس لوگوں کا مقابلہ کرتی ہوئی اور اللہ اکبر کا نعرہ لگاتی ہوئی سب کے بیچ بڑی شان سے گذر جاتی ہے۔

اسکی بہادری دیکتھے ہوئے مولانا محمود مدنی صاحب بھی جوش میں آتے ہیں اور فی الفور پانچ لاکھ روپے نقد انعام دینے کا اعلان کردیتے ہیں، یہی وہ بہادر بیٹی ہے جسے آج ہر ہندوستانی مسلمان بڑے فخر کے ساتھ دیکھ رہا ہے، یہی وہ بیٹی ہے جو آج سوشل میڈیا پر چھائی ہوئی ہے۔

اس لئے اب ہماری بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اس بیٹی کا ساتھ دیں اور اسکی حوصلہ افزائی کریں۔

کیونکہ یہ لڑکیاں ہیں کب تک لڑتی رہیں گی، اس لئے ہم مردوں کی بھی ذمہداری بنتی ہے کہ ان بیٹیوں کا ساتھ دیا جائے۔

لیکن آج کل بہت سے لوگ ایسے بھی جو براہ راست انکار کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ خود اپنا معاملہ نپٹ لیں گی، کیونکہ وہ کالج کی بیٹیاں ہیں، قانون کو سمجھتی اور جانتی ہیں اسی کے بل بوتے اپنی لڑائی میں جیت حاصل کر لیں گی۔

لیکن میں یہ کہتا ہوں کہ صرف قانون پڑھ لینے سے اور اسے سمجھ لینے سے کام نہیں چلے گا کیونکہ یہ ایسا دور چل رہا ہے اور یہ ایسا ملک بن چکا ہے جس میں قانون کے ساتھ ساتھ اتحاد و اتفاق اور طاقت و قوت کا ہونا بھی ضروری ہے۔

کیونکہ اگر صرف قانون کے ذریعے ہی سارا معاملہ حل ہوجاتا تو آج ایودھیا میں رام مندر نہیں ہوتی بلکہ بابری مسجد ہوتی، اگر سارا معاملہ قانون کے ذریعے ہی ہوجاتا تو آج مسلم اور دلت قوم اپنے پیچھے نہ ہوتی بلکہ انہیں انکا پورا حق دیکر آگے بڑھا دیا گیا ہوتا۔

اگر سارا معاملہ قانون ہی کے ذریعے ہوجاتا تو آج مسلم کمیونٹی اور انکے نبی کو نشانہ نہ بنایا جاتا۔

معلوم ہوا کہ صرف قانون کے ذریعے ہی سارا کام نہیں ہوگا بلکہ اسکے لیے طاقت و قوت اتحاد و اتفاق بھی چاہیے۔

جیسا کہ حال ہی میں کسانوں کا واقعہ گذرا ہے یہ ایک ایسا معاملہ تھا جسمیں اکثر لوگ نہ قانون کو سمجھتے تھے نہ قانون کو پڑھتے تھے لیکن پھر بھی وہ جیت گئے، اور اسکی سب سے بڑی وجہ انکی یکجھتی رہی، انکا اتحاد و اتفاق رہا اسی کے ذریعے وہ لوگ آج جیت گئے۔

پتہ یہ چلا کہ کہ صرف قانون پڑھ لینے سے معاملہ حل نہیں ہوگا جب تک کہ اسمیں اتحاد و اتفاق اور یکجھتی نہ ہو۔

اسی لئے آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ کرناٹک کی بیٹیاں اپنے مشن میں کامیاب ہو جائیں تو انکا ساتھ دینا پڑے گا، اتحاد و اتفاق کو برقرار رکھنا پڑے گا، اور اسکی سب اچھی شکل یہ ہے کہ ہر ریاست سے مسلم نوجوان کھڑے ہوں اور ان بھگواداری لوگوں کے خلاف اپنی نجی عدالتوں میں اور پولیس تھانوں میں مقدمہ رج کرائیں اور ان بیٹیوں کا اپنے علاقے میں بیٹھ کر ہی ساتھ دیں۔


 نوٹ: اس مضمون کو امام علی بن مقصود شیخ فلاحی نے لکھا ہے۔ یہ مضمون نگار کی اپنی ذاتی رائے ہے۔ اسے بنا ردوبدل کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔اس سے اردو پوسٹ کا کو کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کی سچائی یا کسی بھی طرح کی کسی معلومات کے لیے اردو پوسٹ کسی طرح کا جواب دہ نہیں ہے اور نہ ہی اردو پوسٹ اس کی کسی طرح کی تصدیق کرتا ہے۔

Tags:

You Might also Like