Type to search

بزنس

جیو کے 5 سال ۔ ملک میں 1300 فیصدی بڑھی ڈیٹا کھپت

جیو اسپیڈ

ڈیٹا کی قیمتیں 93 فیصدی گھٹی

 برا ڈ بینڈ یوزرس کی تعداد 4 گنا بڑھی

پانچ سال پورے ہونے کا جشن منارہا ہے ریلائنس جیو


نئی دلی ۔ 5 ستمبر ۔ 2021 (پریس نوٹ) پانچ سال پہلے جب مکیش امبانی نے ریلائنس جیو کے لانچ کا اعلان کیا تو کسی کو بھی گمان نہیں تھا کہ جیو، ملک کی ڈیجیٹل معیشت کی ریڑھ ثابت ہوگا ۔ بھارت میں انٹرنیٹ کی شروعات ہوئے 26 سال گزر گئے ہیں ۔

کئی ٹیلی کام کمپنیوں نے اس سکٹر میں ہاتھ آزمایا، لیکن کم و بیش سبھی کمپنیوں کا فوکس وائس کالنگ پر ہی تھا ۔ 5 ستمبر 2016 کو جیو کی لانچ پر مکیش امبانی نے ’’ ڈیٹا از نیو آئل‘ ‘ کا نعرہ دیا اور اس سےکٹر کی تصویر بدل گئی ۔

اکتوبر سے دسمبر 2016 کی ٹرائی کی پرفارمینس انڈی کیٹر رپورٹ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ فی یوزر ڈیٹا کی کھپت صرف 878;46;63 ایم بی تھی ۔ ستمبر 2016 میں جیو لانچ کے بعد ڈیٹا کھپت میں زبردست دھماکہ ہوا اور ڈیٹا کی کھپت 1303 فیصد بڑھ کر 12;46;33 جی بی ہوگئی ۔

جیو کے مارکٹ میں اترنے کے بعد صرف ڈیٹا کی کھپت ہی نہیں بڑھی ڈیٹا یوزرس کی تعداد میں بھی بھاری اصافہ دےکھنے کو ملا ۔ ٹرائی کی براڈ بینڈ سبسکرائبر رپورٹ کے مطابق 5 سال پہلے کے مقابلہ براڈ بینڈ کی تعداد 4 گنا بڑھ چکی ہے ۔ جہاں ستمبر 2016 مےں 19;46;23 کروڑ براڈ بینڈ گراہک تھے وہےں جون 2021 میں ےہ79;46;27 کروڑ ہوگئے ہیں ۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ ڈیٹا کی کھپت میں بڑھوتری اور انٹر نیٹ یوزرس کی تعداد مےں بھاری اضافہ کی وجہ سے ڈیٹا کی قیمتوں میں ہوئی کمی ہے ۔ دراصل جیو کی لانچنگ سے پہلے تک 1 جی بی ڈیٹا کی قیمت قریب 160 روپے فی جی بی تھی جو 2021 میں گھٹ کر 10 روپے فی جی بی سے بھی نیچے آگئی ۔

یعنی پچھلے5 سالوں مےں ملک میں ڈیٹا کی قیمتیں 93% کم ہوئی ۔ ڈیٹا کی کم ہوئی قیمتوں کی وجہ سے آج ملک دنےا مےں سب سے کفاےتی انٹرنیٹ دستےاب کرانے والے ملکوں کی لسٹ میں شامل ہے ۔

ڈیٹا کی قیمتیں کم ہوئی تو ڈیٹا کھپت بڑھی ۔ ڈیٹا کھپت بڑھی تو ڈیٹا کی پیٹھ پر سوار کام دھندوں کے پنکھ نکل آئے ۔ آج ملک مےں 53 یونیکارن کمپنیاں ہے جو جیو کے ڈیٹا انقلاب سے پہلے تک 10 ہوا کرتی تھی ۔ ای کامرس ، آن لائن بُکنگ، آرڈر پلیسمنٹ، آن لائن انٹرٹینمنٹ، آن لائن کلاسیس جےسے الفاظ سے بھارت کا امیر طبقہ ہی واقف تھا ۔ آج رےلوے بُکنگ کھڑکیوں پر لائنیں نہیں لگتی ۔

کھانا آرڈر کرنے کے لئے فون پر انتظار نہیں کرنا پڑتا ۔ کس سنیما ہال میں کتنی سیٹیں کس رو میں خالی ہیں بس اےک کلک سے پتہ چل جاتا ہے ۔ یہاں تک کی گھر کی رسوئی کی خریداری بھی آن لائن مال دیکھ پرکھ کر اور ڈسکاونٹ پر خریدا جارہا ہے ۔

آن لائن دھندے چل نکلے تو ان کی ڈلیوری کیلئے ایک پورا جال کھڑا کرناپڑا ۔ موٹر سائیکل پر کسی خاص کمپنی کا سامان ڈلیور کرنے والے کرمچاری کا سڑک پر دکھائی دینا اب بے حد عام بات ہے ۔

موٹر سائیکل کے پہئیے گھومے تو ہزاروں لاکھوں پریواروں کو روزی روٹی ملی ۔ جومیٹو کے سی ای او نے کمپنی کے آئی پی او لسٹنگ کے اہم دن ریلائنس جیو کا شکریہ ادا کیا ۔

یہ شکرےہ ےہ بتانے کیلئے کافی ہے کہ ریلائنس جیو، بھارتےہ انٹرنیٹ کمپنیوں کیلئے کیا معنی رکھتی ہے ۔ نیٹ فلکس کے سی ای او ریڈ ہیسٹنگ نے امید جتائی تھی کہ کاش جیو جےسی کمپنی ہر ملک میں ہوتی اورڈیٹا سستا ہوجاتا ۔

ریلائنس جیو نے ڈیجیٹل معیشت کو بھی سہارا دیا ۔ بھگتان کیلئے آج بڑی تعداد میں گراہک نقدی چھوڑکر کر ڈیجیٹل بھگتان پلیٹ فارم کا استعمال کرنے لگے ہیں ۔

اس ڈیجیٹل ٹراسفارمیشن میں ریلائنس جیو کا اہم رول ہے ۔ 2016 کے بعد سے ہی ملک مےں ڈیجیٹل لین دےن کی قیمت اور سائز دونوں بڑھے ہیں ۔ یو پی آئی لین دین کی قیمت قریب 2لاکھ گنا اور سائز قریب4 لاکھ گنا بڑھا ہے ۔ ظاہر ہے اس طرح کے ایپس کے ڈاون لوڈ میں بھی بھاری اضافہ دیکھنے کو ملا ۔ 2016 کے 6.5 ارب ڈاون لوڈڈ ایپس کے مقابلے یہ اعدادو شمار 2019 میں 19 ارب ہوگیا ۔

Tags:

You Might also Like