Type to search

قومی

میں مسلم نہیں ہوں پھر بھی پہلے دن سے لڑ رہی ہوں، کیونکہ۔ ۔ ۔

نئی دہلی،16ڈسمبر(اردو پوسٹ انڈیا ڈاٹ کام) جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے طلبا کی طرف سے شہریت قانون کے خلاف کا معاملہ زور پکڑ چکا ہے۔ اتوار کی شامم دہلی کے جامعہ نگر سے لوگ سرائے جولنا کے پاس ڈی ٹی سی کی تین بسوں کو آگ لگنے سے بات شروع ہوئی اور پھر دہلی لرز اٹھا۔ جامعہ کے طلبا کا الزام ہے کہ پولیس نے یونیورسٹی میں گھس کر ان سے مارپیٹ کی۔

جھارکھنڈ کے رانچی کی رہنے والی ایک طلب علم میڈیا کے سامنے آئی اور روتے ہوئے اپنی تکلیف سنائی۔ طلب علم نے کہا، جب یہ سب شروع ہوا تو ہم لائبری میں تھے، ہمیں سپروائزر کی طرف سے ایک کال آیا کہ سب خراب ہوتا جارہا ہے، میں جانے ہی والی تھی تبھی طلباء کا ایک گروپ بھگاتے ہوئے آئے اور 30 منٹ میں لائبری طلباء سے بھر گئی۔ میں نے دیکھا کہ کچھ لڑکوں کے سر سے خون نکل رہا ہے۔ کچھ پولیس والے اندر آئے اور زور ۔ زور سے گالیاں دینے لگے۔ انہوں نے سبھی کو باہر جانے کے لیے بولے، میں اپنے ہاسٹل کی بلڈنگ کی طرف آگے بڑھنے لگی۔ میں نے دیکھا کہ لڑکے سڑک پر گرے پڑے ہیں۔ وہ بے حوش تھے۔

طالب علم نے مزید کہا ، ‘جب ہم لوگ جارہے تھے تو ہمارے ہاتتھ اوپر تھے، آخرکار میں ہاسٹل پہنچ گئی۔ تھوڑی دیر بعد کچھ لڑے ہمارے ہاسٹل میں بھاگتے ہوئے اور کہا کہ لڑکیوں کو پٹنے کے لیے خاتون پولیس اہلکار یہاں آرہے ہیں۔ میں ان سے بچنے کے لیے دوسری جگہ چلی گئی۔ کچھ دیر بعد میں ہاسٹل میں لوٹی۔ میں نے دیکھا کہ لڑکوں کے کپڑے خون سے بھیگے ہیں۔

طلبا نے روتے ہوئے کہا، ہمیں لگتا تھا کہ طلبا کے لیے دہلی سب سے محفوظ ہے اور یہ ایک سنٹرل یونیورسٹی ہے، مجھے لگتا تھا کہ ہمارے لیے یونیورسٹی سب سے محفوظ ہے۔ ہمیں کبھی کچھ نہیں ہوگا، ہم پوری رات روتے رہے، یہ کیا ہورہا ہے۔ اب مجھے اس پورے ملک میں محفوظ محسوس نہیں کررہی ہوں۔ میں مسلم نہیں ہوں پھر بھی میں پہلے دن سے آگے کھڑی ہوں، تو میں کیوں لڑ رہی ہوں۔ ہماری پڑھائی کا کیا فائدہ ہے اگر ہم صحیح کے ساتھ کھڑے نہیں ہوسکتے۔

Tags:

You Might also Like