Type to search

قومی

جلیانوالہ باغ: جنرل ڈائر نے سوچا کہ لوگ مجھ پر ہنسیں گے ، پھر چلا دی تھی 1650 راؤنڈ فائرنگ

حیدرآباد،13اپریل(اردو پوسٹ انڈیا ڈاٹ کام) آج ہی کے دن 13 اپریل 1919 کو بیساکھی کے موقع پر پنجاب میں امرتسر کے جلیانوالہ باغ میں بریگیڈیئر جنرل ریجینالڈ ڈائر کی سربراہی میں انگریزی فوجیوں نے گولیاں چلا کر بڑھوں، خواتین، مردوں اور بچوں سمیت سینکڑوں لوگوں کو مار ڈالا،

اس قتل عام میں کئی لوگ زخمی بھی ہوگئے تھے، جلیانوالہ باغ قتل عام برطانوی تاریخ کا وہ بدنما صفحہ ہے جو انگریزوں کے مظالم کی عکاسی کرتا ہے۔

جلیانوالہ باغ امرتسر کے مشہور سنہری مندر کے پاس کا ایک چھوٹا سا باغیچا ہے۔ یہ باغ آج بھی برطانیہ حکمرانی کے جنرل ڈائر کی کہنا کہتا نظر آتا ہے۔ جب اس نے سینکڑوں لوگوں کو اندھادھن فائرنگ کرکے مار ڈالا تھا۔ 13 اپریل 1919 کی تاریخ آج بھی دنیا کے بڑے قتل عام میں سے ایک کے طور پر درج ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے جلیانوالہ باغ قتل عام کے شہدا کو سلام پیش کیا ہے ، انہوں نے کہا ہے کہ ان کی بہادری کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔

 

وہ اتوار کا دن تھا اور آس پاس کے دیہاتوں کے گاؤں کے کئی کسان ہندؤں اور سکھوں کے تہوار بیساکھی منانے امرتسر آئے تھے۔ لوگوں نے نئے کپڑے پہنے تھے اور بچوں کے لیے تو مانو یہ اتوار پچھلے کئی اتوار سے بہتر ہونے والا تھا۔ لیکن کسی کو ہونے والے حادثے کا اندازہ نہیں تھا۔

آپ کو بتادیں کہ بیساکھی کے دن گولڈن ٹیمپل میں درشن کے بعد دھیرے دھیرے لوگ جلیانوالہ باغ میں جمع ہونے لگے۔ کچھ وقت میں ہزاروں کی بھیڑ جمع ہوچکی تھی۔ یہ باغ چاروں طرف سے گھیرا ہوا تھا اندر جانے کا صرف ایک ہی راستہ تھا۔ جنرل ڈائر نے اپنے فوجیوں کو باغ کے ایک واحد داخلے راستہ پر تعینات کیا تھا۔

لوگ اپنی جان بچانا کے لیے ادھر ادھر بھاگنے لگے تھے۔ یہاں تک کے لوگ گولیوں سے بچنے کے لیے باغ میں موجود کنویں میں بھی کھود گئے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ کنویں سے کئی لاشوں کو نکالا گیا تھا۔ جس میں بچے ، بوڑھے، خواتین ، مرد شامل تھے۔ اسی کے ساتھ کئی لوگوں کی جان بھگدڑ میں کچلے جانے کی وجہ سے چکی گئی تھی۔