Type to search

تلنگانہ

کیا انصاف کی ماں مر چکی ہے؟

کیا انصاف کی ماں

قلم کلامی : امام علی مقصود شیخ فلاحی۔

مولانا آزاد نیشل اردو یونیورسٹی کے شعبہ ماس کمیونیکشن اینڈ جرنلزم کے طالب علم۔


روئے زمین پر اگرآپ نظر ڈالیں تو آپکو معلوم ہو گا پوری کائنات کا نظام عدل و انصاف پر مبنی ہے اور اسی پر چل رہا ہے ، چاند ہو یا سورج، زمین ہو یا آسمان، جمادات ہوں یا نباتات، ستارے ہوں یا سیارے سب کے سب ایک منصفانہ نظام پر قائم و دائم ہیں، آفتاب و ماہتاب اپنے اپنے وقت مقررہ پر رواں دواں ہیں، سورج اپنے وقت پر طلوع ہو رہا ہے اور چاند اپنے وقت پر نکل رہا ہے، ستارے اور سیارے اپنے وقت پر کام کررہے ہیں۔
ہوا کا نظام ہو یا بارش کا نظام سب کے سب عدل و انصاف کے پیش نظر اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں۔

کسی میں اتنی ہمت نہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ نا انصافی کریں ، کیوں ؟ اس لئے کہ اگر سورج نا انصافی کرنا شروع کر دے تو دنیا کا نظام تہس نہس ہوجائے گا، اگر چاند رات میں نکلنے سے انکار کردے تو لوگوں کی نیندیں حرام ہوجائیں گی، اگر ہوا غصے میں آکر تیز ہو جائے تو دنیا کی یہ رنگینیاں برباد ہوجائیں گی، اگر سمندر اپنے جوش آکر ابلنے لگے تو دنیا کا صفایا ہو جائے گا، اگر آسمان بارش کے بجائے آگ برسانے لگے تو لوگوں کی آہیں نکل جائیں گی۔
غرض یہ کہ وہ کائنات جو انسانوں کے لئے تیار کی گئی ہے اگر وہ اپنے سسٹم میں گڑبڑی کردے، اور عدل و انصاف کو پس پشت رکھ کر کام کرنا شروع کر دے تو دنیا کی تباہ کاری و بربادی یقینی سمجھ میں آتی ہے۔

قارئین‌ ! اب ذرا اپنے من میں ڈوب کر یہ غور کریں کہ جو دنیا انسانوں کے لئے بنائی گئی ہے اگر وہ اپنے سسٹم میں ناانصافی کرتی ہے تو دنیا کی تباہ کاری یقینی نظر آتی ہے ، تو کیا وہ لوگ جو خود اس کائنات کے لئے بنائے گئے ہیں اور اس میں رہنے کے لئے بسائے گئے ہیں، اگر وہ اپنے سسٹم میں گڑبڑی اور ناانصافی کریں، تو کیا دنیا کی تباہ کاری میں کوئی شبہ رہ جاتا ہے ؟ نہیں ہرگز نہیں ۔ اس میں تو دنیا کی بربادی بدرجہ اتم نظر آتی ہے۔

لیکن آج جو لوگ تخت نشیں ہیں اور جو لوگ حکومت کی باگ ڈور تھامے ہوئے ہیں وہ اس کو سمجھنے سے بالکل قاصر ہیں ، انہیں ہوش ہی نہیں کہ وہ کس سمت میں جارہے ہیں ، ملک کو کس حالت میں دیکھنا چاہتے ہیں۔

کیونکہ آج تو ہمارا ملک ملکی سطح پر بھی اور اندرونی سطح پر بھی ناانصافی کی کمر توڑے جارہا ہے، لوگ آہ و فغاں فریاد لگا رہے ہیں پر ملک ان پر کوئی سنوائی نہیں کر رہا ہے، مقدمے پر مقدمے درج کرائے جارہے ہیں پر ان پر کوئی سماعت نہیں ہورہی ہے، سالہا سال بیتے جارہے ہیں پر اس کوئی چرچا نہیں ہو رہا ہے، کوئی انصاف نہیں مل رہا ہے ، ایسا لگتا ہے کہ انصاف کی ماں مرچکی ہے اور اب وہ بھی کھٹیا دھر لیا ہے ۔

اسی لئے زمانے بیت جاتے ہیں لیکن انصاف کی کوئی گیت نہیں گاتا ، اور اگر انصاف کی بات بھی ہوتی ہے تو اسکی کمر توڑ کر ناانصافی کو اسکا جانشین بنادیا جاتا ہے۔

آج لوگ انصاف کی تلاش میں سڑکوں پر بیٹھ رہے ہیں پر انہیں انصاف نہیں مل رہا ہے۔

لوگوں نے تبریز انصاری کے لئے سڑکوں پر انصاف کی آواز لگائی تو انہیں یوں ہی ٹھکرادیا گیا۔
جب لوگوں نے پہلو خان کے لئے انصاف کی آواز بلند کی تو ان سے منہ موڑ لیا گیا۔
جب لوگوں نے جنید خان کی بات کی تو ان کا رخ‌ موڑ دیاگیا۔
اور جب لوگوں نے ملک کی آئین کو بچانا چاہا تو انہیں سڑکوں پر لاکھڑا کیا گیا، جب لوگوں نے ہاتھرس کے معاملے کو سمجھنے کو کوشش کی تو انہیں کورونا اور ایک سو چوالیس کے دھارے سے روکا گیا۔
ارنب گوسوامی کو پکڑا گیا تو اسے جلد ہی رہا کردیا گیا اور جب کیرالہ کے صحافی صدیق کپن کی باری آئی تو اسے سلاخوں کے آڑ میں رکھا گیا۔

اور ابھی چند دنوں قبل بہار میں گل ناز کو زندہ نظر آتش کردیا گیا، وہ بیچاری ابھی جوانی کے باغیچے میں قدم‌ رکھی ہی تھی ، والد کے سایہ سے محروم تھی ، ماں سمنا خاتون سلائی کرکے گھر اور گل ناز کی زندگی میں روشنی کی ہوئی تھی ، لیکن کیا کریں اسی کے گاؤں کا ایک لڑکا ستیش کمار نے اسکا جینا دوبھر کردیا تھا۔

گل ناز نے کئی بار ستیش کے گھر والوں سے فریاد بھی کی لیکن مدد کی ذرا سی ہوا بھی نہ اڑی ۔ گل ناز بے چاری پھر بھی منتیں کرتی رہی، فریاد کرتی رہی، خون کے آنسوں روتے رہی اور چیخ چیخ کر یہ بتلاتی رہی کہ، وہ ایک مسلمان لڑکی ہے، اللہ پر ایمان رکھتی ہے، محمد کو رسول مانتی ہے، قرآن کو خدا کا پیغام مانتی ہے، وہ بتوں کا انکار کرتی ہے، بت پرستی سے دور بھاگتی ہے، اس لئے وہ کسی غیرمسلم ہندو۔یادو سے نکاح یا پیار نہیں کرسکتی، لیکن ستیش کمار اس بے سہارا بچی کو مسلسل ٹارچر کرتا رہا، اسے اسے ڈراتا دھمکاتا رہا، اور شادی پر مجبور کرتا رہا، لیکن وہ بیچاری انکار کرتی رہی۔

30 اکتوبر شام 5 بجے جب گل ناز کسی کام سے گھر کے باہر نکلی، بدمعاش غنڈہ ستیش اپنے ساتھی غنڈوں سکل دیو اور چندن کمار کےساتھ ملکر اسے پریشان کرنے لگا، گل ناز نے مزاحمت کی، اور اسے برا بھلا کہنے لگی تو ستیش نے غصے میں آکر دونوں غنڈوں کےساتھ ملکر گل ناز پر کیروسین کا تیل چھڑکا اور اسے زندہ جلا دیا، وہ بیچاری جھلس کر رہ گئی ، اپنے باپ کی یاد میں رونے لگی کہ اگر میرا باپ ہوتا تو شاید یہ نوبت نہ آتی ، اگر میرا باپ ہوتا تو اب تک میری شادی کسی اچھے گھرانے میں کرا چکا ہوتا، اگر میرا باپ ہوتا تو میرا بازو بن کر میری حفاظت کرتا‌ اور ستیش کو کہیں ٹھکانے لگا دیتا۔

لیکن م ہوا کیا گل ناز بیچاری 15 دنوں تک زندگی اور موت کے درمیان درد ناک جنگ لڑتی رہی اور خون کے آنسوں روتے رہی، ماں تڑپ رولاتی رہی آخر اس کی موت ہوگئی۔
موت ہوتے ہی زمین ٹھہر گئی، اور آسمان آنکھیں پھاڑ کر دیکھنے لگا، یہ پیڑ پودے سہمے سہمے سے لگنے لگے کہ اب اسکی بوڑھی ماں جو شوہر کے پیار سے بھی محروم ہے اور اب نوجوان بچی بھی الوداع کہہ چکی ، وہ کیا کرنے والی ہے۔

پھر کیا تھا پرندوں نے اپنے پروں کو روک کر ، ساتھ ہی ساتھ ہوا بھی ٹھہر کر وہ واقعہ بھی دیکھا جسے دیکھ کر اور سن کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں، دل دہل جاتا ہے، نگاہیں اشک بار ہوجاتی ہیں۔

موت کے بعد بےسہارا و دل شکستہ بوڑھی ماں نے اپنی مری ہوئی بیٹی گل ناز کی نعش کو لیکر سڑک پر بیٹھ گئی، لوگوں کی چلت پھرت ہوتی رہی اور وہ انصاف کی بھیک مانگتی رہی ، جبکہ انصاف کا مطالبہ بھی حق تھا، لیکن اب تک اسے انصاف نہیں ملا، ماں بیچاری گھر میں تڑپ رہی ہے ، بیٹی کی یاد ستارہی ہے ، لیکن مجرمین اب تک آزاد ہیں، انصاف کا دور دور تک پتہ نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ انصاف کی ماں مرچکی ہے۔

قارئین !
جس ملک میں انصاف ہو گا اس ملک میں سکون و اطمینان بھی ہو گا، خوش حالی ہوگی، محبّت و الفت کے چشمے بھی رواں ہوں گے، اور جہاں نا انصافی ھو گی وہاں بے رونقی بے سکونی ھو گی یہاں تک کہ وہاں کی‌آب و ہوا بھی بدمزہ ہوگی ، اور محکوم بھی نافرمان ھو گی،لڑائی جھگڑے عام ہوں گے،کبھی ایک گھرانہ دوسرے گھرانے پر شملہ آور ہوگا تو کبھی ایک علاقہ دوسرے علاقے پر، کبھی ایک ضلع دوسرے ضلع کو دھمکی دے گا تو کبھی ایک ریاست دوسرے ریاست کا جینا حرام کرے گا۔ کیونکہ جس ملک میں عدل کا نظام کمزور ہوتا ہے، اور اسکے سسٹم میں گڑبڑی آجاتی ہے تو وہ ملک کبھی بھی خوشحالی و مست جوانی کا مزہ نہیں چکھ سکتا۔

بلکہ وہ ملک تو ہمیشہ تباہی کے دہانے پر کھڑا رہتا ہے، اس ملک میں کبھی بھی بربادی و قحط سالی آسکتی ہے۔
اس لئے اس بات کی از حد ضرورت ہے کہ ملک میں انصاف کی ہوا چلائی جائے ، سب کو انصاف دلایا جائے اور ناانصافی کو دربدر کیا جائے، اس سے رشتہ ناطہ توڑا جائے، تاکہ ملک میں امن و امان قائم ہوسکے۔

Email : imamalishaikh333@gmail.com


 نوٹ: اس مضمون کو امام علی بن مقصود شیخ فلاحی نے لکھا ہے۔ یہ مضمون نگار کی اپنی ذاتی رائے ہے۔ اسے بنا ردوبدل کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔اس سے اردو پوسٹ کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کی سچائی یا کسی بھی طرح کی کسی معلومات کے لیے اردو پوسٹ کسی طرح کا جواب دہ نہیں ہے اور نہ ہی اردو پوسٹ اس کی کسی طرح کی تصدیق کرتا ہے۔

Tags:

You Might also Like