Type to search

تلنگانہ

آن لائن خرید و فروخت کیا ویب سائٹ پر جائز ہے؟

آن لائن خرید و فروخت

: امام علی مقصود شیخ فلاحی


آن لائن خرید و فروخت ۔ آج کا یہ دور مختلف قسم کی مادی ترقیوں سے لبریز ہوتا جارہا ہے،

اور دن بدن حیرت انگیز تحقیقات و تجربات سے روشناس ہوتا جارہا ہے،

اسی ترقی کا یہ نتیجہ نکلا کہ ماکولات و مشروبات میں نت نئی قسم کا سلسلہ جاری و ساری ہے،

اور اسی کے ساتھ یہ بھی منظرعام پر آرہا ہے کہ تجارتی کاروبار میں ایسی ایسی شکلیں پیدا ہوتی جارہی ہیں۔

کہ جنکا زمانہ ماضی میں کوئی وہم و گمان بھی نہیں تھا، لیکن یہ بات واضح رہے کہ اسلام کے نزدیک ہر معاملہ کا حل موجود ہے خواہ اس معاملہ کا تعلق زمانۂ قدیم سے ہو یا زمانۂ جدید سے ، لہذا جب بھی کسی مسلمان کے سامنے کوئی معاملہ درپیش آئے تو اسے ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے یہ چاہئیے کہ وہ اسکا حکم شرعی معلوم کرے کہ وہ شریعت اسلامیہ میں جائز ہے یا نہیں، اگر جائز ہے تو اسے استعمال کرے ورنہ اسے اس سے اجتناب برتے۔

بہر حال آج جس دور میں ہم اپنی زندگی بسر کر رہے ہیں وہ دور سائنس جدید و انٹر نیٹ کے منزل پر رواں دواں ہے اور اس حد تک پرواز کر چکا ہے کہ الف سے لیکر یا تک ہر چیز کا انحصار انٹر نیٹ پر ہو چکا ہے۔

اور انٹر نیٹ ایک ایسا نظام عمل ہے جس پر مختلف قسم کے ویب سائٹ موجود ہیں جس کے ذریعے لوگ کسی بھی قسم کی اشیاء کو پسند کرتے ہیں اور اسکا آڈر دیتے ہیں اور اسے اپنی ملکیت میں لے آتے ہیں۔
جسکا طریقہ یہ ہوتاہے کہ اگر کسی شخص کو کسے شئی کی خریداری مطلوب ہوتی ہے تو پہلے ویب سائٹ پر جاکر اسکی معلومات حاصل کی جاتی ہے، اور مبیع کی کیفیت و وصفیت معلوم کی جاتی ہے،اور اس کی قیمت وغیرہ کی معلومات حاصل کی جاتی ہے۔

اور اس ویب سائٹ پر یہ بھی بتادیا جاتا ہے کہ قیمت کیسے ادا کی جائے گی؟ مثلاً کریڈٹ کارڈ سے یا چیک وغیرہ سے ۔

اور اس ویب سائٹ پر اپنا نام و پتہ و فون نمبر بھی درج کیا جاتا ہے تاکہ وہ چیز گھر تک پہنچنے میں کامیابی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔

اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس طرح کی خرید وفروخت جائز ہے یا نہیں ؟ کیونکہ شریعت اسلامیہ میں خرید وفروخت کے اصول کچھ اس طرح بیان کئے گئے ہیں۔

پہلا اصول : طرفین کی رضامندی۔

دوسرا اصول : ایجاب و قبول۔

تیسرا اصول : ایجاب و قبول میں اتصال۔

چوتھا اصول : ثمن کی ادائیگی۔

بہر حال شریعت اسلامیہ میں خرید وفروخت کے چند اصول ہیں اگر وہ اصول و ضوابط آن لائن (ویب سائٹ خریداری) پر پائے گئے تب ہی خرید وفروخت کرنا جائز ہوگا والا فلا۔

پہلا اصول : “طرفین کی رضامندی” ۔ عقد بیع کا ایک عام اصول یہ ہےکہ عقد بیع کی صحت کے لئے “خرید وفروخت کرنے والے دونوں فریق کی رضامندی ضروری ہے۔

اگر بائع راضی ہے اور مشتری راضی نہیں ہے یا اس کے بالکل بر عکس ہے تو یہ بیع درست و جائز نہیں ہوگی۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آن لائن خرید وفروخت میں آپسی رضامندی پائی جاتی ہے یا نہیں۔

تو اس سلسلے میں بتادوں کہ بقول مفتی شعیب اللہ خان صاحب اس آن لائن خرید و فروخت میں بھی آپسی رضامندی پائی جاتی ہے۔

کیونکہ ایک شخص اپنی رضامندی ہی سے ویب سائٹ پر اشتہارات شائع کرتا ہے۔

پھر جب کوئی شخص اس ویب سائٹ پر پہنچ کر کوئی معاملہ طے کرتا ہے۔

تو خریدی جانے والی چیز کی تفصیلات اسکے سامنے آجاتی ہے۔

جس میں چیز کی نوعیت و کیفیت سب کچھ معلوم ہوجاتی ہے۔

اور وہ شخص ان سب چیزوں کو جان کر اپنی جانب سے رضامندی کا اظہار اس خانہ میں کلک کرکے دیتا ہے۔

جو اس کے لئے وہاں مقرر ہوتا ہے، جس سے آپسی رضامندی کا اظہار ہونا‌ ظاہر ہوتا ہے۔
معلوم ہوا کہ آپسی رضامندی ویب سائٹ پر بھی پائی جاتی ہے۔

دوسرا اصول : “ایجاب و قبول”
ایجاب وقبول کے سلسلے میں فقہاء نے جو تحریر کیا ہے،

وہ یہ ہے کہ خریدنے اور بیچنے والے مبیع کے تعلق سے جو کلام کرتے ہیں۔

وہ ایجاب وقبول ہے، جبکہ امام مالک امام شافعی اور امام احمد رحمہم اللہ کے نزدیک “ایجاب” وہ کلام ہے جو بائع سے صادر ہو اور “قبول” وہ کلام ہے جو خریدار کی جانب سے اسکے جواب میں صادر ہو۔
جبکہ حنفیہ یہ کہتے ہیں کہ ‘ایجاب’ اس پہلے کلام کو کہتے ہیں جو لین دین کے معاملے میں رضامندی پر دلالت کرتا ہے، خواہ وہ بائع کی جانب سے صادر ہو یا‌ مشتری کی جانب سے۔

الغرض ایجاب وقبول وہ کلام ہے جس سے معاملہ کرنے کے بارے میں متعاقدین کی رضامندی کا علم ہوتا ہے۔

بہر حال جب یہ معلوم ہو گیا کہ ایجاب و قبول کیا ہے تو اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ ایجاب وقبول ویب سائٹ کی خریداری میں پایا جاتا ہے یا نہیں ؟

تو اسکا جواب یہ ہے کہ ویب سائٹ پر ‘ایجاب وقبول’ دونو پایا جاتا ہے ۔
‘ایجاب’ تو اس طرح کہ بائع کی جانب سے جن چیزوں کی پیشکش کی گئی ہے۔ وہ ایجاب ہی کے حکم میں ہے،
‘کیونکہ فقہائے مالکیہ کے یہاں ایک جزئیہ ملتا ہے جو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ویب سائٹ پر بھی ایجاب و قبول پایا جاتا ہے۔ اور وہ جزئیہ یہ ہے کہ “دعوت عامہ بھی ایجاب کے حکم میں ہے” ۔

لہذا ویب سائٹ پر اشیاء کی دعوت عام دینا ایجاب ہی کے حکم میں ہو گا ۔
اور ‘قبول’ کے تعلق سے “شیخ محمد بن جبر الا لفی” (استاذ فقہ المعھد العالی للقضاء الریاض) نے اپنے کتاب “التعاقد الا الکترونی فی میزان الشرع الاسلامی” میں لکھا ہے کہ “قبول مکمل ہوجاتا ہے۔

کسی بھی ایسے طریقے سے جو عرف عام میں قابل اعتبار سمجھا جاتا ہو،

جیسے لفط، یا اشارہ، کتابت یا رمز ، یعنی ایسے نشان پر کلک کر نا جو متعین علامت کا حامل ہو ۔”

معلوم ہوا کہ آن لائن خرید وفروخت (ویب سائٹ) پر ایجاب وقبول ہوتا ہے۔

تیسرا اصول : “ایجاب وقبول میں اتصال”
اسکا مطلب یہ ہے کہ عقد کرنے والے دونوں فریق ایک ہی مجلس میں حاضر ہوں ، اور ایک جانب سے ایجاب کے فوراً بعد اسی مجلس دوسرا فریق اسے قبول کر لے۔
لیکن اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آن لائن خرید و فروخت ویب سائٹ پر تو ایجاب وقبول میں اتصال نہیں پایا جاتا ہے کیوں کہ ویب سائٹ پر تو بائع کئی دن پہلے اپنے مبیع کا اشتہار شائع کردیتا ہے (ایجاب کرتا ہے) اور مشتری کئی دنوں بعد اسے قبول کرتا ہے نیز مجلس بھی متحد نہیں ہے۔
تو اسکا جواب یہ ہے کہ میں ایجاب وقبول میں اتصال کی دو قسمیں بیان‌کی گئی ہیں۔

(١) دونوں فریق ایک ہی مجلس میں حاضر ہوں ، جو کہ ظاہر ہے۔

(٢) دونوں فریق ایک ہی مجلس میں حاضر نہ ہوں بلکہ غائبانہ طور پر ہوں جیسے کسی شخص کے ذریعے یا کسی خط کے ذریعے غائبانہ طور پر ایجاب کیا جائے اور خط پہنچنے کے بعد اسے قبول کر لیا جائے۔

اس دوسری صورت کو ‘البحر الرائق’ نے ‘ہدایہ’ سے نقل کرتے ہوئے لکھاہے۔

اسی طرح یہی دوسری صورت درالحکام شرح مجلة الاحکام میں بھی نقل کی گئی ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ یہاں تو مجلس حسی طور پر نہیں ہوتی ہے ، تو مجلس کا کیا مطلب ہے۔
اسکا جواب یہ ہےکہ
اس سلسلے میں اکثر فقہاء کی آراء یہ ہے کہ مجلس سے مراد کوئی حسی مجلس ہونا ضروری نہیں ہے۔

بلکہ دو غائب لوگوں کا معاملہ بھی جائز مانا گیا ہے، جیسا کہ اوپر گزرا ، لہذا مجلس سے مراد وہ زمانہ ہے جس میں ایک فریق سے دوسرے فریق کی بات جاری ہے ، خواہ وہ بات بالمشافہ ہ ہو یا خط و کتابت سے ہو۔

اور یہی بات علمائے قانون میں سے شیخ عبد الرزاق السنہوری نے الوسیط فی شرح القانون المدنی میں لکھا ہے۔

“کہ مجلس وہ مکان ہے جو متعاقدین کو جمع کرے، اور اس میں مکان کا مادی مفہوم ملحوظ نہیں ہے بلکہ اس میں ملحوظ وہ وقت ہے جس میں متعاقدین معاملہ کرتے ہیں” .
معلوم ہوا کہ آن لائن خرید و فروخت ( ویب سائٹ) پر بھی ایجاب و قبول میں اتصال پایا جاتا ہے۔

چوتھا‌اصول : “ثمن کی ادائیگی”
کارو بار میں جب ایجاب وقبول متحقق ہو جائے تو مشتری پر لازم ہوتا ہے کہ وہ قیمت ادا کردے۔
مگر سوال یہ ہے کہ ویب سائٹ پر قیمت کی ادائیگی کا طریقہ کیا ہے ؟
تو اس تعلق سے فقہائے عصر کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص اس طرح بینک اکاؤنٹ سے رقم کی ادائیگی کرے کہ بائع کے بینک اکاؤنٹ میں اس کی ادائیگی منتقل کر دے تو اس صورت میں قبضہ متحقق مانا جائے گا۔

جیسا کہ شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی صاحب ‘فقہ البیوع’ میں رقم طراز ہیں کہ بعض اوقات نقد کی ادائیگی بینک ٹرانسفر کے ذریعے ہوتی ہے۔
اور وہ اس طرح کہ زید کا اکاؤنٹ کرنٹ کھاتے بینک (الف) میں ہو ، اور عمرو کا بھی اکاؤنٹ بینک (ب) میں ہو ، اب اگر زید بینک الف کو آڈر دے کہ اتنے پیسے عمرو کے اکاؤنٹ میں منتقل کر دے پھر جب یہ مبلغ رقم عمرو کے اکاؤنٹ میں داخل ہو جائے تو عمرو کو اس رقم پر قابض مانا جائے گا۔

بہر حال ! وہ تمام اصول و ضوابط جو ملت اسلامیہ نے بیع و شراء میں قائم کر رکھا ہے وہ تمام اصول و قواعد دور جدید میں رونما ہونے والے طرح طرح کے ٹکنالوجی جیسے انٹر نیٹ وغیرہ میں بھی منطبق ہوتے ہیں اسی وجہ سے آن لائن خرید وفروخت کرنا بالکل درست و جائز ہے۔


 نوٹ: اس مضمون کو امام علی بن مقصود شیخ فلاحی نے لکھا ہے۔ یہ مضمون نگار کی اپنی ذاتی رائے ہے۔ اسے بنا ردوبدل کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔اس سے اردو پوسٹ کا کو کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کی سچائی یا کسی بھی طرح کی کسی معلومات کے لیے اردو پوسٹ کسی طرح کا جواب دہ نہیں ہے اور نہ ہی اردو پوسٹ اس کی کسی طرح کی تصدیق کرتا ہے۔

Tags:

You Might also Like