Type to search

تلنگانہ

کیا واقعی کورونا انسانوں کا پیدہ کردہ ہے؟

از قلم: امام علی بن مقصود شیخ فلاحی

آج جس دور میں ہم اپنی زندگی بسر کر رہے ہیں یہ دور فتنوں کے رنگ میں رنگا ہوا ہے اور پوری دنیا کورونا

Imam Ali bin Maqsood Sheikh Falahi 

امام علی بن مقصود شیخ فلاحی

 

وائرس کے گڑہے میں ڈوبی ہوئی ہے. وہ ممالک جو خود کو سپر پاور ممالک قرار دیتے تھے وہ بھی اب اپنے گٹھنے ٹیک دیئے ہیں. وہ ممالک جہاں ہمیشہ ہمیش چہل پہل کا نظارہ ہوا کرتا تھا وہ بھی اب سیل ہو چکے ہیں.

کورونا وائرس نے اپنا ایسا قہر دکھایا کہ بچہ ہو یا بوڑھا,مرد ہو یا عورت, بھائی ہو یا بہن, حاکم ہو یا محکوم ہر ایک کورونا کے خوف سے اپنے گھر میں منحصر ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ کورونا وائرس آیا کہاں سے, آخر اسکا موجد ہے کون ؟ کیا واقعی کورونا انسانوں کا پیدہ کردہ ہے؟ یا نہیں۔

تو آے ذرا اس پر بھی تبصرہ کردینا مناسب سمجھتا ہوں۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ کورونا وائرس انسانوں کا ایجاد کردہ ہے اور بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ انسانوں کا ایجاد کردہ نہیں ہے۔ جن لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ انسانوں کا پیدہ کردہ ہے انکی دلیل یہ ہے کہ پوری دنیا اس راے پر متفق ہے کہ کورونا وائرس چین کے ووہان شہر سے پھیلا ہے جیسا کہ میڈیسن کے نوبل انعام یافتہ پروفیسر لوک مونٹاگنر نے اظہار خیال کیا ہے کہ کورونا وائرس ووہان کی لیب سے ہی برآمد ہوا ہے، SARS-COV2 وائرس AIDS کی ویکسین بنانے کی کوشش میں پیدا ہوا اور غلطی سے منتشر ہو گیا،

اسی طرح امریکی ٹی وی چینل فاکس نیوز نے اپنے ذرائع کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا کہ ایک خاص مقصد کے تحت یہ وائرس ووہان کی لیب میں پیدا کیا گیا جس میں وہ اپنی طاقت ظاہر کرنا چاہتا تھا نیز یہ اب تک کا سب سے خفیہ پروگرام تھا۔ فاکس نیوز کے اس دعوے پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہم اس کی تحقیق کر رہے ہیں، خبر ہے کہ امریکی خفیہ ایجنسی اس کی جانچ کر رہی ہے، حقیقت جو بھی ہو ووہان کی لیب دنیا کے نشانے پر ہے، اس سلسلے میں کئی باتیں کہی گئیں کبھی کہا گیا کہ یہ وائرس ووہان کی لیب میں ریسرچ کے دوران چمگادڑوں سے منتشر ہواتو کبھی کچھ اور۔

اسی کے بالکل برعکس بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ وباء انسانوں کا پیدہ کردہ نہیں ہے جیساکہ ڈبلیو ایچ او (عالمی ادارہ صحت) نے اس بات کا دعویٰ کیا ہے کہ یہ وباء چین سے نہیں پھیلا بلکہ صرف چین پر الزام تراشی کی گئی ہے یہی وجہ تھی کہ امریکہ نے ڈبلیو ایچ او کو آڑے ہاتھوں لیا اور اسکی فنڈنگ بھی روک دی اور کہا کہ عالمی ادارہ صحت چین کی طرفداری کر رہا ہے۔

اسی طرح امریکی ٹی وی چینل سی این این نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ کورونا وائرس کو ووہان کی لیب سے ضم کرنا درست نہیں ہے، کیونکہ ابھی تک کوئی ایسا ثبوت نہیں ملا ہے کہ یہ انسانوں کا ایجاد کردہ ہے، اسی طرح چین بھی اپنے اوپر الزام تراشی کو بے بنیاد قرار دے رہا ہے اور ڈبلیو ایچ او کے بیان کو اہم ثبوت کے طور پر پیش کررہا ہے کہ اس بات کا کوئی پختہ ثبوت نہیں ہے کہ کورونا وائرس بذریعہ انسان لیب میں پیدا کیاگیا۔

غرض یہ کہ امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ کورونا انسانوں کا پیدہ کردہ ہے اور عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ انسانوں کا پیدہ کردہ نہیں ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے ہے کہ کس کی بات مانی جائے ایا ڈبلیو ایچ او کی بات اختیار کی جائے یا امریکہ کی بات قبول کی جائے ؟

اس سوال کو یہاں رکھتے ہوئے اگر قرآنی آیات پر غور و خوض کیا جائے تو ڈبلیو ایچ او (عالمی ادارہ صحت) کی بات یقینا درست معلوم ہوتی ہے کہ یہ وائرس انسانوں کا پیدہ کردہ نہیں ہے بلکہ یہ قدرتی ہے اور قدرت کی جانب سے تخلیق کی گئی ہے یعنی کہ عذابِ الٰہی ہے بایں وجہ کہ اللہ کی یہ سنت رہی ہے کہ جب بھی کوئی قوم حد سے تجاوز کر جاتی ہے تو من جانب اللہ کوئی نہ کوئی وائرس (عذاب) انہیں آپکڑتا ہے جیساکہ اللہ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
فَكُلًّا اَخَذۡنَا بِذَنۡۢبِهٖ‌ ۚ فَمِنۡهُمۡ مَّنۡ اَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِ حَاصِبًا‌ ۚ وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ اَخَذَتۡهُ الصَّيۡحَةُ‌ ۚ وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ خَسَفۡنَا بِهِ الۡاَرۡضَ‌ ۚ وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ اَغۡرَقۡنَا‌ ۚ اللہ نے ان‌ آیات میں چار قوموں کا تذکرہ کیا ہے اور بتلایا ہے کہ جب ہم نے ان لوگوں کو دیکھا کہ یہ لوگ گناہوں کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا بیٹھے ہیں تو ہم نے ان پر طرح طرح کے وائرس (عذاب) بھیجے کسی پر پتھر کی بارش کی تو کسی پر چینخ والی وائرس ڈالی، کسی کو زمین میں دھنسا دیا تو کسی کو ہم نے غرق کر دیا۔

معلوم ہوا کہ جب بھی کوئی قوم گناہوں کے رنگ میں رنگ جاتی ہے تو ضرور بالضرور کوئی نہ کوئی وائرس (عذاب) انہیں آپکڑتا۔

جیسا کہ آپ تمامی حضرات اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ پوری دنیا گناہوں کے رنگ میں ڈوبی ہوئی تھی، جگہ جگہ شراب خانے بنے ہوئے تھے، سنیما ہال بنے ہوئے تھے، زنا کاری ہو رہی تھی، سود کھایا جارہا تھا، مظلوموں پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے تھے، ظالم بیٹھے ٹھٹھا مار رہے تھے، مظلوم خون کے آنسوں رو رہے تھے، مسلمانوں کو جلاوطن کر نے کی کوشش کی جارہی تھی، غرضیکہ پوری دنیا گناہوں کے گہوارے میں بیٹھی ہوئی تھی ایسے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت کا اعادہ کیا اور شراب خانوں پر قفل لگا دیا، زنا کاری کا دروازہ بند کردیا، سود کا نام و نشان مٹا دیا، ظالموں کا ہاتھ جکڑ دیا، مظلوموں کو گھر بٹھا دیا۔

بہر کیف ان تمام باتوں کا لب لباب یہ برآمد ہوا کہ یہ کورونا وائرس کسی بشر کا ایجاد کردہ نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے۔

 نوٹ: اس مضمون کو امام علی بن مقصود شیخ فلاحی نے لکھا ہے۔ یہ مضمون نگار کی اپنی ذاتی رائے ہے۔ اسے بنا ردوبدل کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔اس سے اردو پوسٹ کا کو کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کی سچائی یا کسی بھی طرح کی کسی معلومات کے لیے اردو پوسٹ کسی طرح کا جواب دہ نہیں ہے اور نہ ہی اردو پوسٹ اس کی کسی طرح کی تصدیق کرتا ہے۔

Tags:

You Might also Like