Type to search

قومی

عرفانہ زرگر : لاک ڈاؤن میں سرینگر کی خواتین میں بانٹ رہی فری سینیٹری نیپکن

عرفانہ زرگر

سرینگر،3 اگسٹ(اردو پوسٹ انڈیا ڈاٹ کام) عرفانہ زرگر کشمیری خواتین اور لڑکیوں کے لیے مدد بن کر سامنے آئی۔ ۔ ۔۔۔ کورونا وائرس لاک ڈاؤن میں جہاں بہت سے لوگ ضرورت مند کی مدد کے لیے آگے آئے ہیں، اور کھانے پینے کا سامان مہیا کرا رہے ہیں، وہی جموں کشمیر میں ایک خاتون دوسری خواتین کے لیے ایک مددگار چہرا بن کر ابھری ہے۔

لاک ڈاؤن کے درمیان سرینگر کی عرفانہ زرگر یہاں خواتین کو مفت سینیٹری پیڈ بانٹ رہی ہے۔ عرفانہ اس دوران سرینگر اور آس پاس کے گاؤں میں خواتین، لڑکیوں کو فری میں سینیٹری نیپکن دے رہی ہے۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے یہاں خواتین کو ہر مہینے سینیٹری پیڈ کی سپلائی خریدنے میں مشکل ہورہی تھی۔

عرفانہ نے ان خواتین کے لیے ’ایوا سیفٹی کٹ، پہل شروع کی ہے۔ انہوں نے یہ پہل اپنے مرحوم والد غلام حسن زرگر کو نذر کیا ہے۔ انہوں نے اب تک سرینگر میں 15 بیت الخلا میں ماہواری کٹ بانٹے ہیں۔

عرفانہ زرگر نے بتایا، میں نے یہ کانسپٹ پہلے بیت الخلا سے شروع کیا تھا۔ میں نے سرینگر کے 15 بیت الخلا اور پھر گاؤں کو کور کرنا چاہتی تھی۔ اگر میرے بھائی اور بہن میرے ساتھ ہیں تو اللہ کی دعا سے میں اس پہل (انیشیٹو) کو اور آگے لے جاؤنگی۔ لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد میں اس مشن کو آس پاس کے گاؤں میں لے جانا چاہتی ہوں۔

کشمیر کی دارالحکومت سرینگر کے نوشہرہ سے تعلق رکھنے والی 29 سالہ خاتون عرفانہ زرگر اپنی تنخواہ میں سے نصف رقم ضرورت مند خواتین تک صاف ستھری اور صحت مند عادت بنائے رکھنے میں مدد کرنے کے لیے سینیٹری نیپکن، اینٹاسپاسموڈکس اور ہینڈ واش وغیرہ ہوتا ہے۔

عرفانہ نے کہا کہ خواتین سماج کے تعمیر کا اہم حصہ ہوتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ انکے صحت کا بھی خیال رکھا جائے۔

انکے اس پہل کی تعریف مقامی لوگوں نے بھی کی ہے اور انکی مدد کررہے ہیں۔

سرینگر کی رہائشی مریم جین نے کہا، وہ اچھا کام کررہی ہے۔

لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہم باہر نہیں جاپاتے تھے،

ایسے میں ہم ان سے رابطہ کرتے تھے، اور وہ ہماری مدد کرتی تھی۔

عرفانہ اپنے کام سے سماج میں ایک مثبت تبدیلی لارہی ہے۔

اور خواتین ۔ لڑکیوں کی زندگی آسان اور صحت مند بنا رہی ہے۔

اندازے کے مطابق ہندوستان میں 12 کروڑ سے ذیادہ خواتین کو پیریڈس کی وجہ سے روزمرہ کی زندگی میں مشکلیں آتی ہے۔

لیکن تقریبا ماہواری آنے والی 35.5 کروڑ خواتین میں سے

بس 36فیصدی خواتین کی سینیٹری نیپکن کا استعمال کرتی ہیں۔

نوٹ : یہ خبر این ڈی ٹی وی پر شائع ہوئی ہے جسکا یہ اردو ترجمہ ہے۔