Type to search

قومی

عالمی یوم خواتین اسپیشل: خواتین، اسلام اور مسلم معاشرہ

از: محمد رحمٰن پاشا

           ہر سال 8 مارچ کو دنیا بهر میں خواتین کا دن International Women’s Day منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر خواتین کی آزادی، حصہ داری اور خود اختیاری وغیرہ جیسے امور پر مذاکرات، کانفرنسیں اور بحثیں ہوتی رہتی ہیں۔

        خواتین سماج کا ایک اہم اور فعال حصہ ہے؛ ان ہی کے ذریعے معاشرے کی بہت سی ضروریات پوری ہوتی ہیں ۔خواتین معاشرتی زندگی کا ایک اہم بلکہ بنیادی ستون ہے _ ان ہی سے موجودہ اور آنے والی نسلیں تربیت training پا کر پروان چڑھتی ہیں ، ساتھ ساتھ ملک و قوم کی قیادت leadership سنبھالنے کی قابل بنتی ہیں _

           اسلام سے پہلے عورتوں کا تصور صرف لونڈی اور باندی کی حیثیت کا تها اور بہت حد تک صرف گهر کے کاموں تک محدود اور اسے صرف نفسی و جنسی خواہش کو پورا کرنے کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا_ اسلام نے خواتین کو عفت و عصمت اور پاک دامنی کا تصور دیا ہے _ ان کے لیے پردہ veil کا نظام دیا ہے _ آج دنیا بھر کے موجودہ معاشرہ میں عورت کا تصور ہی بدل گیا ہے _ الفاظ و اصطلاحات تو جدید اختیار کیے جاتے ہیں، لیکن ان کے ساتھ رویہ اور سلوک وہی پرانا ہوتا ہے جو اسلام سے پہلے روا رکھا جاتا تها _ مغرب کے یہاں تو خواتین کی عزت و احترام کا دور دور تک تصور نہیں ہے، اسلام نے عورت کو ماں، بہن، بیٹی، بیوی جیسے روپ میں نہایت ہی معزز رتبے عطا کیے، اور ان کے ساتھ اچهے سلوک پر بڑے بڑے اجر و انعام کا وعدہ کیا_ مغربی ماحول میں بوڑھے ماں باپ اور دیگر رشتہ داروں کو Old age home میں ڈال دیا جاتا ہے، اتنے گہرے رشتے کے ساتھ اور اتنا برا سلوک ….!! مغرب نے خواتین کو ننگا کر کے گویا دکھاوے کی آزادی تو دے دی ہے؛ اور بہ قول اقبال ؎

             زمانہ آیا ہے بے حجابی کا، عام دیدار یار ہو گا

             سکوت تھا پردہ دار جس کا، وہ راز اب آشکار ہوگا

مگر اسی کی وجہ سے عورت بے چین اور ہر وقت پریشان ہے_ اس کے برخلاف برقع پوش خاتون اہنے آپ کو زیادہ محفوظ اور آزاد محسوس کرتی ہے_

اسلام نے عورت کو کیا حقوق دییے ہیں ؟

    1- اسلام کی نظر میں عورت کی بھی ایک مکمل شخصیت ہے_ جیسے مرد ہے؛ اسی طرح بغیر کسی تفریق کے دونوں جنس gender کامل انسان ہے _

    2- نیکی اور خیر کے کاموں میں مرد و عورت کو یکساں ثواب و اجر عطا کیا جاتا ہے۔

    3- اسلامی معاشرے میں عورت گھر کی ملکہ ہوتی ہے اور وہ تربیت اولاد کی ذمہ دار بھی ہے۔ یہی اولاد نسلوں کی بقا اور تسلسل کا سبب بنتی ہے۔

    4- عورت پر بالجبر معاشی ذمہ داریوں عائد نہیں کی جاتی۔ ہاں اگر وہ کوئی ہنر جانتی ہیں تو اس کو اپنا ذریعے معاش بنا سکتی ہیں۔

    5- میراث میں حصّہ داری partnership in property

، پیسے جمع رکھنے کا حق Right of money safety

اور خرچ کرنے کی ساری ذمہ داری مرد پر ہوتی ہے۔

    6- ایسی ضرورت جو عورت کے پردے کے بغیر ممکن نہ ہو اس کو خود عورت کرسکتی ہے۔ جیسے خواتین کا علاج ومعالجہ ، تعلیم و تربیت اور دیگر شعبہ جات

    7- اطہار خیال freedom of expression اور اپنی رائے پیش کرنے کا حق وغیرہ وغیرہ

یہ ہیں اسلام کے عطا کیے ہوئے حقوق، لیکن خود مسلم معاشرے میں عورت کا جو عملی کردار ہے وہ بہت حد تک ادا نہیں ہو رہا ہے، موجودہ دور میں خود مسلم سوسائٹی میں عورت کی شخصیت کو دبا دیا گیا ہے، یہاں تک کہ شرعی اور جائز کاموں میں بھی خواتین کی شرکت نہیں ہو پاتی ہے۔ اس عملی تضاد پر بدلتے حالات اور ضروریات کے تحت نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔

نوٹ : اس مضمون کو محمد رحمٰن پاشا نے لکھا ہے اسے بنا کسی ردوبدل کے شائع کیا گیا ہے۔

Tags: