Type to search

بین الاقوامی

کورونا وائرس: سمندری جہاز میں پھنسی ہندوستانی لڑکی، مدد کی اپیل کی

جاپان،14فروری(اردو پوسٹ انڈیا ڈاٹ کام) ممبئی کے ٹھاکر ودیا مندر کالج سےپڑھائی کرنے والی 24 سالہ سونالی ٹھککر نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا ہوگا کہ کبھی انکا شوق انکے لیے موت کے خوف کی وجہ بن جائے گا۔ عالیشان زندگی اور سمندر کی لہروں پر مستی کرنے کی خواہش لیکر جاپان کے لگژری کروز شپ کو ڈائمنڈ پرنسیس جوائن  کرنے والی سونالی ٹھککر ان دنوں موت کے سائے میں جی رہی ہے۔ کورونا وائرس نےانکے کروز پر سوار 218 لوگوں کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔ اور اب سونالی پی ایم مودی سے جان بچانے کی گذارش کر رہی ہے۔

جاپان پرنسیس کروز پر کورونا وائرس کا اثر کافی تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اب تک 218 لوگوں کو اس وائرس سے متاثر پایا گیا ہے۔ یہ جہاز کے آخری تین فروری سے سمندر کے بیچوں بیچ کھڑا ہے اور اس وائرس سے اب تک متاثر نہیں ہوئے لوگ چاہا کر بھی جہاز سے نکل نہیں پا رہے ہیں۔ اس کروز میں سوار کل 2500 لوگوں میں سے چھ مسافر اور 130 عملہ کے لوگ ہندوستانی ہے۔ اسی میں سے ایک ہے سونالی ٹھککر۔

جاپان کے یوکوہاما سرحد پر موجود اس کروز سے 80 لوگوں کو جمعہ کو جانے دیا گیا لیکن ان میں ذیادہ تر بزرگ ہے۔ ان لوگوں کو بسوں میں بھر کر لے جایا گیا۔ یہ 80 لوگ کروز کے بنا کھڑکی والے کمروں میں بند تھے۔ ان میں سے کئی لوگوں کو انفیکشن ہوگیا تھا۔ کروز کے اندر سیکیورٹی افسر کا کام کرنے والی سونالی پیر سے ایک دیگر ساتھی کے ساتھ ایک کمرے میں الگ ۔ تھلگ ہے۔ انہیں سردی اور بخار ہوگیا تھا۔ اتوار کو کروز انتظامیہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ کورونا سے ماتثر مسافروں میں 21 جاپانی، 5 آسٹریلیائی اور 5 کینڈائی ہے۔

سونالی سمیت  عملے کے سبھی 138 لوگوں کے  تھوک کے نمونوں کی چہارشنبہ کو جانچ کی گئی ہے۔ اسکے رپورٹ کاانتظار کیا جارہا ہے۔ ہمیں اضافی لوگوں اور اضافی ڈاکٹروں کی ضرورت ہے تاکہ جہاز پر سوار سبھی لوگوں کی جلدی سے جانچ کی جاسکے۔ ابھی ہمیں دو سے تین دنوں تک جانچ کی رپورٹ کا انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔ میں ہندوستانی حکومتت سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ جاپان حکومت سے کہے کہ جتنے لوگوں کو کورونا وائرس نہیں ہے انہیں الگ کردیا جائے۔

سونالی نے کہا کہ عملہ ابھی محفوظ ہے لیکن وہ کب تک محفوظ رہیں گے۔ ہر دن انفیکشن لوگوں کا عدد بڑھ رہا ہے۔ میرے والدین پریشان ہے۔ وہ لگاتار مجھ سے کہے رہیں کہ جلد ہی کچھ مدد ان تک پہنچائے گی۔ لیکن مجھے ایک کیبن میں پچھلے 3 دنوں سے بند کردیا گیا ہے۔ سونالی کے گھر ممبئی میں انکے والدین ان سے لگاتار ویڈیو کال کرکے بات کررہے ہیں۔

Tags:

You Might also Like