Type to search

قومی

لاک ڈاؤن کی وجہ سے ویران ہے رمضان میں گلزار رہنے والا بازار

دہلی،28اپریل (بھاشا) اپنے خاص ذائقوں کے لیے مشہور نوابوں کے شہر لکھنؤ کے لیے اس مرتبہ رمضان بالکل الگ ہے۔ دن بھر روزہ رکھنے کے بعد افطار کے وقت لوگوں کو لذت دینے والے کھانے پینے کے بازار لاک ڈاؤن کی وجہ سے ویران ہے۔ ہر رمضان میں خاص کر پرانے لکھنؤ کے بازار سے لیکر صبح سحری تک گلزار رہتے تھے۔

لوگوں کی معمول بدل جاتا تھا اور وہ افطار کے بعد تراوی کی نماز ادا کرکے رات بھر ان بازاروں میں چہل قدمی کرتے اور صبح سحری کے وقت کھانے پینے کا سامان خرید کر گھر لوٹتے تھے۔ کباب، تندوری چکن، اور مٹن کے مختلف ڈشوں کے ساتھ ساتھ شیرمال، روٹی اور کولچے نہاری کی دوکانوں پر خاص طور سے رونق رہتی تھی۔ مگر اس بار لاک ڈاؤن نے سب پر تالا لگا دیا ہے۔ لکھنؤ کے لیے ایسے رمضان پہلے کبھی نہیں گذرے۔

لاک ڈاؤن کی وجہ سے اس بار تراویح کی نماز بھی گھر میں ہی پڑھ رہے ہیں۔ شہر قاضی مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے پیر کو بھاشا کو بتایا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے اس مرتبہ لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ تراویح سمیت تمام نمازیں اپنے گھر میں ہی ادا کریں۔ ایسا کرکے وہ نہ صرف خود کو بلکہ سماج کو بھی کورونا انفیکشن سے محفوظ رکھ سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سچ ہے کہ رمضان میں کھانے پینے کی دوکانیں نہیں کھولنے کی وجہ سے بازاروں میں وہ رونق نہیں ہے لیکن رمضان کا مطلب اچھے کھانے سے نہیں بلکہ بہترین عباددت سے ہے۔

رمضان اللہ کا دیا ایک تحفہ ہے جس میں لوگ عبادت کرکے اپنی دعا قبول کرا سکتے ہیں۔ اللہ نے چاہ تو اس رمضان میں ہو رہے مالی نقصان کی بھرپائی بھی ہوجائے گی۔ بہرحال لاک ڈاؤن کی وجہ سے کاروبار بند ہے اور کاروباریوں کا بھاری نقصان ہورہا ہے۔ لکھنؤ کی مشہور ادریس بریانی کے مالک ابو بکر نے بتایا اس مرتبہ رمضان میں کاروبار پوری طرح بند ہے۔ اس سے پہلے رمضان سے ایک دو ماہ پہلے تیاریاں کی جاتی تھی۔ مگر اب سب کچھ بگڑ گیا ہے۔

انہوں نے کہا، بازار میں ناشتہ نہیں مل رہا ہے تو بریانی کیسے بنے گی۔ بکرا منڈی میں جانور نہیں آنے سے ناشتہ نہیں مل رہا ہے بہرحال، جو نقصان ہو رہا ہے اسکی بھرپائی اگلے کئی سالوں تک نہیں ہوسکے گی۔ ابوبکر نے کہا کہ ہر سال رمضان کے وقت میں دگنی فروخت ہوتی تھی اور دو شفٹ میں کام کیا جاتا تھا، مگر کورونا کے مدنظر انسان کی زندگی کہیں ذیادہ قیمتی ہے۔ ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ چیزیں جلدی ٹھیک ہو۔

Tags:

You Might also Like