Type to search

اسپورٹس

جب سچن تندولکر نے اظہرالدین سے کہا تھا، فیل ہوا تو واپس نہیں آوں گا

اسپورٹس ڈسک،3 اپریل(اردو پوسٹ انڈیا ڈاٹ کام) اس بات سے سبھی واقف ہے کہ سچن تندولکر نے اپنے کیریئر کی شروعات مڈل آرڈر سے کی تھی اور نوجوت سنگھ سدھو کے زخمی ہونے کے بعد سے ہی وہ نیوزی لینڈ کے خلاف پہلی انگیز کی شروعات کرنے اترے تھے۔ سچن نے بتایا ہے کہ انہوں نے اس وقت کے کپتان محمد اظہر الدین اور مینجر اجیت واڈیکر سے آکلینڈ میں انگیز کی شروعات کرنے کو کہا تھا۔

اپنے نجی ایپ 100 ایم بی پر بات کرت ہوئے سچن نے کہا، جب میں نے صبح ہوٹل چھورا تو مجھے نہیں پتہ تھا کہ میں انگیز کی شروعات کرنے والا ہوں۔ ہم میدان پر پہنچے اور اظہر اور اجیت سر ڈریسنگ روم میں تھے۔ انہوں نے کہا کہ سدھو فٹ نہیں ہے تو کون اووپننگ کرے گا۔ میں نے کہا کہ میں کرونگا، مجھے اپنے اوپر پورا یقین تھا کہ میں ان گیند بازوں پر اٹیک کرسکتا ہوں۔

انہوں نے کہا، پہلا ردعمل تھا کہ اوپینگ کیوں کرنا چاہتا ہوں؟ لیکن مجھے اپنے اوپر یقین تھا کہ میں کرسکتا ہوں، ایسا نہیں تھا کہ میں وہاں جاکر لانگ شاٹ کھیل واپس جاؤنگا، میں اپنا عام کھیل جاری رکھوں گا، جو اٹیک کرنا ہے۔ سچن نے اس میچ میں 49 گیندوں پر 82 رن بنائے تھے۔ اسکے بعد سچن ونڈے ٹیم کے باقاعدہ اوپنر بن گئے۔

 

انہوں نے کہا، تب تک صرف مارک گریٹ بیچ نے 1992 میں ایسا کیا تھا کیونکہ تب تک عام ٹرینڈ یہی تھا کہ پہلے 15 اوور آرام سے کھیلے جائے کیونکہ گیند نئی ہے۔ آپ پہلے گیند کی چمک ختم کردو اور پھر تیزی سے رن بناؤ۔ اس لیے مجھے لگا کہ اگر میں جاکر پہلے 15 اوور تیزی سے رن بنا سکا تو یہ مخالف ٹیم پر کافی دباؤ بنا دے گا۔ میں نے کہا تھا کہ اگر میں نا کامیاب رہا تو میں آپ کے پاس دوبارہ نہیں آوں گا، لیکن مجھے ایک موقع دیجئے۔

Tags:

You Might also Like