Type to search

تلنگانہ

شاد نگر کیس: ایکشن میں آئی پولیس، ایس آئی سمیت 3 پولیس اہلکار معطل

حیدرآباد،یکم ڈسمبر(اردو پوسٹ انڈیا ڈاٹ کام) حیدرآباد میں ایک خاتون ڈاکٹر کے ساتھ عصمت ریزی کے بعد کیے گئے قتل نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ریاست کی پولیس نے اب اس معاملے میں لاپرواہی برتنے والے پولیس اہلکار پر کروائی کی ہے۔ سائبر آباد کے پولیس کمشنر نےاس معاملے میں 3 پولیس اہلکاروں کو معطل کردیا ہے۔

سائبر آباد پولیس کمشنر نے کہا، 28-27 نومبر کی رات کو ایک خاتون کے لاپتہ ہونے کے معاملے میں شمس آباد پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کرنے میں دیری سے متعلق ڈیوٹی میں لاپرواہی برتنے کے معاملے میں آج جانچ کی گئی۔ پولیس کمشنر نے آگے بتایا کہ جانچ کے نتائجوں کی بنیاد پر اب انسپکٹر ایم روی کمار، ہیڈ کانسٹیبل پی وینوگوپال ریڈی اور ہیڈ کانسٹیبل اے ستہ نارائن گوڑ کو اگلے حکم تک معطل کردیا گیا ہے۔

خاتون ڈاکٹر کے افراد خاندان والوں نے یہ الزام لگایا تھا کہ سابئر آباد پولیس انہیں دوڑاتی رہی۔ اگر اس نے فوری کروائی کی ہوتی تو لڑکی کو زندہ بچایا جاسکتا تھا۔ ماں نے بتایا کہ واقع کے بعد میری چھوٹی بیٹی پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرنے پہنچی لیکن اسے دوسرے پولیس اسٹیشن شمس آباد بھیج دیا گیا۔ پولیس نے کروائی کے بجائے کہاکہ یہ معاملہ اسکے علاقے میں نہیں آتا ہے۔

بعد میں متاثرہ کےخاندان کے ساتھ کوئی سپاہی لگائے گئے اور صبح چار بجے تک تلاشی مہم چلائی گئی لیکن اسکا پتہ نہیں چلا سکا۔ متاثرہ کی بہن نے کہا، ایک پولیس اسٹیشن سے دوسرے پولیس اسٹیشن جانے میں ہمارا کافی وقت برباد ہوگیا، اگر پولیس نے وقت برباد کیے بنا کروائی کردی ہوتی تو میری بہن آج زندہ ہوتی۔