Type to search

قومی

ستر سال بعد کسے ملے گا حیدرآباد نظام کے 35 ملین پاؤنڈ ؟ انگلینڈ کی کورٹ سے ہوگا فیصلہ

hyderabad nizam

حیدرآباد/26جون(اردو پوسٹ) ستر سال بعد انگلینڈ اور اینڈ ویلز کورٹ حیدرآباد کے نظام کے پیسوں سے جوڑے ایک تاریخی کیس پر فیصلہ سنانے والا ہے۔ اس کیس میں ہندوستان ‘ پاکستان اور حیدرآباد کے ساتویں نظام خاندان کے تینوں دعویدار ہے۔ بات 1948 کی ہے جب حیدرآباد کے اس وقت کے نظام نے ایک ملین پاؤنڈ (0.1 کروڑ پاؤنڈ) کی رقم لندن کے ایک بینک کو بھیجی تھی۔ جسکی آج کی ممکنہ قیمت 35 ملین پاؤنڈ (یعنی 3.5 کروڑ پاؤنڈ) لگائی جارہی ہے۔ غور طلب ہے کہ منگل کو 1 پاؤنڈ کی قیمت قریب 88 روپے تھی۔
کسے ملے گا حیدرآباد کے نظام کا پیسہ؟
میڈیا رپورٹ کےمطابق جب یہ کیس شروع ہوا ہے۔ اس میں کئی اتار۔چڑھاؤ آئے ہیں۔ اس رقم پر ہندوستان اور حیدرآباد کے نظام کے خاندان ایک طرف اور دوسری طرف پاکستان دعوی کررہا ہے۔ پاکستان اس بنا پر دعوی کرتا ہے کہ یہ رقم اسکی عوام کو گفٹ کے طور پر بھیجی گئی تھی یا 1948 میں حیدرآباد

میر عثمان علی خان اور لال بہادر شاستری

اسٹیٹ کو ہندوستان میں شامل کیے جاتے وقت اس سے وہاں کی مدد کی جانی تھی۔
انتظار کرتے ۔ کرتے دم توڑ چکے ہیں کئی جانیشین
اتنی بڑی رقم کے دعویداروں میں مخفم جاہ اور ہندوستان کے صدر بھی شامل ہے۔ حیدرآباد کے ساتویں نظام نے ایک ملین پاؤنڈ کی یہ رقم لندن میں پاکستان کے اس وقت کے سفیر حبیب ابراہیم کو اس شرط پر بھیجی تھی کہ وہ اسے یقین کے ساتھ اسے محفوظ رکھیں گے۔ لندن کے نٹ ویسٹ بینک میں پڑے اس رقم کے ساتھ لگاتار سود جوڑتا گیا ہے۔ دعویداروں کے وکیل نے بتایا کہ ساتویں نظام کے جانیشین مکرم جاہ ’ اور انکے چھوٹے بھائی نے اپنے دادا کی گفٹ ملنے کا دہائیوں تک انتظار کیا۔ پاکستان نے اس پر 70 سال سے روکاوٹ لگائے رکھا ہے۔ اور ہم امید کرتے ہیں کہ حالیہ سنوائی میں اسکا کوئی آخری حل نکل آئے گا۔
ہندوستان کادعوی کیوں ہے مضبوط؟
دراصل اپنی موت سے دو سال پہلے ہی 1965 میں نظام نے ان پیسوں کو ہندوستان کو تحریری طور پر سپرد کرنے کی بات کہی تھی۔ جبکہ پاکستان اس سے بھی تقریبا دو دہائی پہلے سنبھال رکھنے کے لیے دی گئی اس رقم پر اپنا دعوی جتانے لگا ہوا ہے۔ جسٹس Marcus Smith کی عدالت میں حال ہی میں اس پر فیصلہ آجائے گا۔ اس کیس کی سنوائی دہائیوں تک House of Lords ہاؤس آف لاڈرس سمیت برطانیہ کے کئی عدالتوں میں چل چکا ہے۔ لیکن اب جاکر آخری فیصلہ آنے کی امید ہے.

Tags: