Type to search

قومی

تاریخ کو بدلنے والے تماشائی بن گئے

تاریخ کو بدلنے

آج روزنامہ منصف کے سنڈے ایڈیشن میں میرا مضمون شائع ہوا ہے احباب کے مطالعہ کے لئے یہاں بھی پیش کر رہا ہوں
محمد مصطفی علی سروری


مارچ 2020 ہندوستان کی تاریخ میں اس حوالے سے بھی ہمیشہ یاد رکھا جائے گا کہ اس مہینے میں پورے ملک بھر میں لاک ڈاؤن نافذ کردیا گیا۔ کارخانے، صنعتی پیداوار، بازار، دوکانات، ذرائع حمل و نقل ہر ایک کو بند کردیا گیا۔ سوائے اشیائے ضروریہ کے۔ ہر آدمی اپنے گھروں تک محدود ہوکر رہ گیا تھا۔ اب گھروں میں رہ کر کوئی کرے تو کیا کرے۔ اسمارٹ فون، ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ کا استعمال کافی بڑھا اور ان سب کا استعمال ہر فرد نے اپنی دلچسپی اور ضرورت کے لحاظ سے کیا لیکن قارئین ہندوستان کے طول و عرض میں لوگوں نے جس طریقے سے اپنا وقت انٹرنیٹ اور یوٹیوب پر گذارا اس میں ایک چیز قدرے مشترک تھی اور وہ چیز کیا تھی وہ دراصل ترکی کا ٹیلی ویژن سیریئل تھا جس کا نام آج ملک کا بچہ بچہ جان چکا ہے۔ کیونکہ آج کا بچہ انٹرنیٹ کا دلدادہ ہے اور انٹرنیٹ پر دھوم مچانے والا سیریئل کچھ اور نہیں ”ارطغرل غازی“ ہے۔ ترکی کا تیار کردہ ارطغرل غازی سیریئل اردو زبان میں کیسے بنا؟ اور پھر اچانک یہ برصغیر ہند و پاک میں مقبول کیسے ہوا؟ تفصیلات کے مطابق پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے جب ترکی کے اس سیریئل کو اپنے ملک کی عوام کو دیکھنے کا مشورہ دیا تو ان کی ہدایت پر پاکستان ٹیلی ویژن نے سال 2020ء رمضان کے آغاز پر اس ترکش سیریئل کو اردو زبان میں ڈب کر کے پیش کرنا شروع کیا۔

ارطغرل غازی کون تھے؟ ارطغرل غازی تیرہویں صدی کے اناتولیہ (ترکی) کی تاریخ سے ماخوذ ایک عظیم الشان داستان ہے۔ ایمان، انصاف اور محبت کی روشنائی سے لکھی ایک بہادر جنگجو کی کہانی جس نے اپنی ثابت قدمی اور جرأت سے نہ صرف اپنے قبیلے بلکہ تمام عالم اسلام کی تقدیر بدل ڈالی۔

اوغوز ترکوں کے خانہ بدوش کائی قبیلے کو ایک ایسے وطن کی تلاش تھی جہاں ان کی نسلیں پروان چڑھ سکیں۔کائی قبیلے کے سردار سلیمان شاہ کے بیٹے ارطغرل غازی نے اسلام کی سربلندی کی خاطر اپنی جان، مال اور عزیز واقارب کو خطرے میں ڈال کر اپنے جنگجوؤں کے ساتھ مختلف ادوار میں صلیبوں، منگولوں، سلجوک سلطنت میں موجود غداروں اور دیگر اسلام دشمن عناصر کو شکست دی۔ 1280 میں ارطغرل کی وفات کے بعد اس کے بیٹے عثمان نے عظیم سلطنت عثمانیہ کی داغ بیل ڈالی اور یوں خانہ بدوشوں کے اس قبیلے نے تین براعظموں پر چھ سو سال تک حکومت کی۔

یہ ڈرامہ سیریئل تاریخی کرداروں اور واقعات سے ماخوذ ہے۔ پی ٹی وی کے ساتھ ساتھ ارطغرل غازی پر بنے اس سیریئل کو یوٹیوب پر بھی پیش کیا گیا جہاں پر انٹرنیٹ کے توسط سے اس کو دیکھنے والوں کی تعداد کروڑوں تک پہنچ گئی۔

کیا ارطغرل غازی ترکی کی جانب سے بنایا جانے والا پہلی ٹیلی ویژن سیریئل ہے جس کو عالمگیر شہرت ملی۔ ترکی کے ادیب اور محقق ماریان بریحمر کے مطابق پچھلے کچھ عرصے کے دوران ترکی کے ایک سے زائد سیریئلس ایسے رہے جن کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی جس میں ارطغرل غازی سرفہرست ہے۔

کرونا وائرس کا لاک ڈاؤن ہی برصغیر میں ارطغرل غازی کی مقبولیت کا واحد سبب نہیں ہے۔ ترکش محقق کے مطابق ارطغرل غازی سیریئل کی مقبولیت کا بڑا سبب اس کا اسلامی پس منظر اور اسلامی کرداروں سے تعلق ہے۔ لیکن پاکستان کے برخلاف ہندوستان میں بلا کسی مذہبی امتیاز کے سینکڑوں ایسے غیر مسلم بھی ہیں جو بڑے شوق اور اہتمام کے ساتھ ارطغرل غازی کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔

ہندوستانی مسلمانوں میں بھی اس سیریئل میں بتلائے گئے تاریخی لباس کے تئیں پسندیدگی کس قدر بڑھ گئی ہے اس کا اندازہ کپڑوں کے تاجر و دوکانداروں کو اس وقت ہوا جب لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد خواتین اور لڑکیاں ان دوکانات پر پہنچی تو انہوں نے ارطغرل غازی کی اہلیہ حلیمہ خاتون کی جانب سے پہنے جانے والے اسکارف اور لباس کی فرمائش شروع کردی۔ قارئین اس ترکش سیریئل کی عوامی مقبولیت کا اندازہ مزید اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ترکی کی سرکاری ٹیلی ویژن TRT کی جانب سے یہ سیریئل جب یوٹیوب پر اردو زبان میں 25/ اپریل 2020 کو پیش کیا گیا تو اندرون دو ماہ ارطغرل غازی سیریئل کے پہلے ایپی سوڈ کو تقریباً 6 کروڑ ناظرین نے دیکھا جیسے جیسے اس سیریئل کا نیا ایپی سوڈ آن لائن یوٹیوب پر پیش کیا جارہا ہے تو صرف ایک دن میں ہی اس کو ڈھائی ملین ناظرین دیکھ رہے ہیں۔

18/ مئی تا 24/ مئی 2020ء کے دوران دنیا بھر میں سب سے زیادہ دیکھنے جانے والے یوٹیوب چیانلس کی فہرست میں ارطغرل غازی سیریئل 13 کروڑ 71 لاکھ سے زائد ناظرین کے ساتھ 33 ویں نمبر پر ریکارڈ کیا گیا۔

ارطغرل غازی کو یوٹیوب سے پہلے Netflix نے سال 2017 میں ہی ہندوستانی ناظرین کے پیش کردیا تھا۔ ابھی تک ارطغرل غازی سیریئل کے جملہ پانچ سیزن بنائے جاچکے ہیں۔ ترکی میں اس سیریئل کی نمائش سال 2014ء میں ہی کی گئی تھی۔ ترکی کے علاوہ اس سیریئل کو دنیا بھر کے کئی ملکوں میں مختلف پلیٹ فارمس پر پیش کیا گیا۔

غیر مسلموں میں بھی اس سیریئل کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ونیزویلا کے صدر نکولاس مادو رو نے بھی اس سیریئل کو بے حد پسند کیا اورسال 2018ء کے دوران انہوں نے ارطغرل غازی کے شوٹنگ کے سیٹ کا بھی دورہ کیا۔

قارئین اب میں اہم بات کی طرف آتا ہوں کہ آج کی دنیا میں میڈیا ایک اہم اور بہت موثر وسیلہ ہے جس کو بطور ہتھیار بھی استعمال کیا جارہا ہے۔ سبب چاہے کچھ بھی ہو ترکی نے ٹیلی ویژن سیریئل کے ذریعہ اس وسیلے کا خوبصورتی سے استعمال کیا۔ ترکش ریسرچ اسکالر محقق اور ادیب ماریان بریحمر کے مطابق ہالی ووڈ کے بعد ترکی دوسرے نمبر پر ہے جو دنیا بھر میں ٹیلی ویژن پروگرامس ایکسپورٹ کر رہا ہے۔ بلقان کی ریاستوں کے علاوہ خلیجی ملکوں، روس، چین اور کوریا کے علاوہ جنوبی امریکہ، خاص کر چلی، میکسیکو اور ارجنٹائن میں ترکی کے ٹیلی ویژن پروگرام کافی مقبولیت رکھتے ہیں۔

کیا ارطغرل غازی ترکی کا پہلی ٹیلی ویژن سیریئل ہے جس نے عالمی سطح پر مقبولیت حاصل کی تو اس کا جواب نفی میں ہے کیونکہ سال 2006ء میں Arabian Nights پہلا سیریئل تھا۔ ترکی کے اس سیرئل کو دنیا کے 70 ملکوں میں دیکھا اور سراہا گیا۔ اس کے بعد ترکش ڈراموں اور سیریئل کی عالمی مقبولیت کا گراف مسلسل بڑھتا ہی جارہا ہے اور ترکی کے محقق ماریان بریحمر کے مطابق سال 2023ء تک ترکی کی فلم ساز صنعت کو ایک بلین ڈالر کی آمدنی کی توقع ہے۔

میڈیا لوگوں کی ذہن سازی کرتا ہے۔ میڈیا لوگوں کی رائے ہموار کرتا ہے۔ میڈیا حکومتوں کے لیے ایجنڈے طئے کرتا ہے۔ میڈیاء مسائل کی نشاندہی کرتا ہے۔ میڈیا حکومت اور عوام کے درمیان رابطے کا اہم کردار ادا کرتا ہے۔ میڈیا حکومتی پالیسیوں سے عوام کو واقف کرواتا ہے اور میڈیا آزاد ہو تو حکومتی پالیسیوں کی خامیوں کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔

ہندوستانی مسلمان اورمیڈیا کے متعلق تھوڑا غور کریں تو پتہ چلے گا کہ مسلمان اچھے اداکار بنے، اچھے موسیقار بنے، اچھے صدا کار بنے، اچھے صحافی بھی بنے لیکن میڈیا کے ذریعہ ان تمام مقاصد کو حاصل کرنے والے نہ بن سکے۔ جو دشمنانِ مسلمان میڈیا کے ذریعہ کرتے آئے ہیں۔

میڈیا ایک باضابطہ پروفیشنل میدان ہے۔ میڈیا کے حوالے سے باضابطہ نظریات ہیں جن میں Agenda Setting کا نظریہ بھی شامل ہے۔ افسوس کے ہندوستانی مسلمان میڈیا کی اہمیت کو صحیح نہیں سمجھ سکے اور صحیح استعمال تو دور کی بات ہے، جن مسلمانوں کو میڈیا میں کام کرنے کا شوق ہے وہ بھی کیمرہ کے سامنے آکر بولنے کو ہی میڈیا کی اصل سمجھنے لگے ہیں۔

نتیجہ کیا نکلا کہ مسلمانوں کی اکثریت صرف میڈیا کی تماشائی بن کر رہ گئی ہے۔ بلکہ اسمارٹ فون کے کیمروں نے تو ایک ایسے وائرس کو پروان چڑھایا کہ سوشیل میڈیا کی اہمیت ہی گھٹ گئی جس کو کسی کو بولنا آگیا وہ اور جس کسی کو لکھنا آگیا وہ میڈیا کا ماہر بن گیا۔ حالانکہ کیا بولنا اور کیا لکھنا ہی نہیں کیسے بولنا اور کیسے لکھنا، اس کی باضابطہ تربیت ضروری ہے۔ کیونکہ میڈیا ایک پروفیشن ہے جہاں کام کرنے کے لیے پروفیشنل ازم کی ضرورت ہے۔ کاش کہ کوئی سمجھائے۔

ارطغرل غازی سیریئل کا مقصد تفریح نہیں اور نہ ہی ہیرو پرستی ہے بلکہ تاریخ کے تاریخی کرداروں سے دور حاضر کو واقف کروانا ہے تاکہ موجودہ نسل بھی تاریخ کو بدلنے والی بنے نہ کہ تماشائی۔یہ بھی سچ ہے کہ جو تاریخ کو نہ تو پڑھتے ہیں اور نہ اس سے سیکھتے ہیں وہ تاریخ کی غلطیوں کا اعادہ ہی کرتے ہیں۔

Tags:

1 Comment

  1. امام علی فلاحی September 13, 2020

    ماشاءاللہ