Type to search

قومی

بے بس ماں

بے بس ماں

از قلم:: ہاجرہ تاج ۔


ہر روز کی ایک لڑائی، ہر روز کا ہنگامہ جیسے گھر سر پر اٹھا لیا ہو۔ بیٹے کی بڑی بڑی آوازیں ہر طریقہ سے ماں باپ کوکوسنا ، جو جی میں آیا کہہ دینا ۔ماں کو بہت دین دار بنے کا طعنہ دینا ، کبھی دین کا کام کرنے اور گھر میں نہ ٹکنے کاطعنہ دینا۔ کبھی بیگم کی تائید میں کہہ دینا کہ میری بیوی ملازمہ نہیں ہے روز رات کا کھانا بنانا اسکی ذمےداری نہیں ہے۔توبہ! زبان  ہے کہ آتش فشاں ۔ الله کی پناہ ! ماں باپ کے ہر عمل پر انکو کوسنا۔ حلال کی کمائی کی وجہ سے معاشی حالات کمزور رہتے  جسکی وجہ سے اکثر ایسے حالات پیدا ہوجاتے  کہ دل کو مارنا ہی پڑتا۔ اس پر اولاد کے طعنے۔

بے بس ماں زہر کا گھونٹ پی کر رہ جاتی۔ اور خود اپنے دل  سے بار بار سوال کرتی رہتی کہ کہاں میں نے غلطی کی ہے جواس انداز میں  سامنے آرہاہے۔ ماں ہوں سمندر بن جاتی ہوں اس اذیت کو اس ذلت کو سمندر میں رکھ لیتی ہوں، جانتی ہوں زبان کھولی تو جو کچھ  بچی کچی عزت ہے وہ بھی خاک ملا دیئگا  ۔دل کی تکلیف تو خدا اور اسکے بندے کو ہی معلوم ہے۔ماں ہوں بد دعا تو نہیں دے سکتی لحاظہ  دعا کےلئے ہی ہاتھ اٹھا دیتی ، خدا یا! میرے بیٹے کو نیک ہدایت دینا زبان کی تکلیف خنجر کی تکلیف سے بڑھ کر ہے۔

خدا یا! تو دلوں کا حال جاننے والا ہے ۔تو ہی تو ہے جو زخموں کا بھرنے والا ہے ۔میں نےتو نیک نیتی سے نیک تمناؤں سے بیٹے کی آرزو کی تھی تاکہ بڈھا پے کا سہارا بنے ۔مگر آج میں خود سوال اپنے آپ سے سوال  کرتی ہوں ، کیامیں نے بیٹے کے ساتھ نیک اور صالح اولاد کی دعا نہیں کی تھی؟

میں نے اس کی ہر خواہش ہر آرزو کو سب سے اوپر رکھا کہ آج میں اسکی سنوں گی تو وہ کل کو میرے بڈھا پے میں میری بات  مانے گا ۔بڑا بیٹا ہونے کی وجہ سے  اس کے مقام و مرتبے کو ملحوظ رکھتے ہوئے اسکے ہر کاروبار میں ساتھ دیا اس کیوجہ سے ہونے والے ہر نقصان کو جھیلا پر اسے کچھ نہیں کہا صرف گھر کے بڑے ہونے کا احساس دلاتی رہی اس کی زبان سے نکلی ہوئی ہر بات کو , مانو پتھر کی لکیر بنادی۔ آج وہ بڑا ہوگیا جو جی میں آیا کہہ دیتا ہے کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ میرے اور بھی تو بچے ہیں مگر ایسا تو کوئی نہیں ۔

شادی ہوئی تو اک نئی مصیبت گھر آگئی ۔ہر لمحہ ماں سے بیوی کا موازنہ کرتا میری بیوی کو دیکھو کتنی اچھی ہے ۔سیکھو اس سے طریقہ سلیقہ اور نہ جانے کیا کیا، سوچتی ہوں تو سلسلہ ختم ہی نہیں ہوتا۔ہر بات دل میں دفن کرلیتی ہوںکہ اس کے باپ کو پتہ چل گیا تو گھر سے نکال دینگے ۔ڈرتی ہوں بیٹا ناراض ہوکر چلاگیا تو بڈھاپے کے سہارے کا کیا ہوگا ؟یہی سب سوچ کر سمندر بن جاتی ہوں اور سب کچھ اسی میں ڈبو دیتی ہوں ۔ بہت سوچ

سمجھ کر اس فیصلہ پر پہنچی ہوں کہ بیٹے کو خوش دیکھنا ہے تو  بیٹے سے زیادہ بہو کو خوش رکھو تاکہ وہ میرےخلاف بیٹے کو ورغلا نہ سکے  ۔اس کی ہر بات خوش دلی سے قبول کرلوں تاکہ اس کا موڈ آف نہ ہو اور وہ  بیٹے کا دل ماں سے بدگماں نہ کر دے ۔

 بہو اگر کسی کی اجازت کے بغیر بھی میئکے چلی جائے  اور دیر تک سوتی رہے , ترش لہجہ میں جواب بھی دے دے تو کوئی  گلہ شکوہ  نہ کرنا  ۔اور بیٹے کو اپناحاکم بنا لوں ۔شاید یہی واحد راستہ ہے اپنی عزت بچائے رکھنے کا۔

بہت سال گذر گئے ۔اب بیٹا بیرون ملک رہنے لگا اپنے بیوی بچوں کے ساتھ سکون سے۔ سال میں ایک مرتبہ عمرے کے نام پرماں باپ کو  بلا لیتا ہے بہو بھی بہترین طریقہ سے پیش آتی ہے گھر کو سلیقہ سے سجا رکھا ہے ۔لمحے بھر کو میں ماضی کی یادوں میں کھو جاتی ہوں یہی بہو تو تھی جو کئی سال  میرے ہاں رہ کر آئی ہے تب تو ایسا سلیقہ نظر نہیں ایا  اور رات کے پکوان کی ذمےداری پر جو ہنگامہ ہوا وہ آج بھی یاد ہے کل کی بات کی طرح ۔خیر! دلوں کا حال تجھ سےبہتر کون جانے ہے ؟  تبھی بیٹا پانی لےکر آجاتا ہے وہیں پر ہاتھ دھلوانے کے لئے ، امی!  اٹھئے مت بس آپ یہیں بیٹھے رہییں آرام سے،  اسکی آواز پر میں چونک جاتی ہوں یہ فیصلہ کرنا مشکل ہورہا تھا کہ یہ خواب ہے یا وہ خواب تھا ۔ایک مہینہ کےویزے پر آئی تھی شائد مشکل سے دس دن رہ پائی بیٹے کے گھر ۔اک شور سا بپا تھا دل میں، اور میں سن نے کی کوششکر رہی تھی اس آواز کو جو اس شور  میں کہیں دبی جارہی تھی۔

چند سال پہلے کیا یہ عزت مجھے میرے گھر پر میسرتھی ؟ آج یہ اعزاز کیوں بخشا جارہا ہے ؟ اسی لئے ناں! کہ میں نے تیری بد تمیزیوں کا کوئی جواب نہیں دیا !!کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ شائد میرا فیصلہ صحیح تھا ۔میں اگر دل کو سمندر  نہ کرتی  اور  جو کچھ ہورہا تھا اس پر آواز اٹھاتی اوربیٹے سے بہو کے کرتوت نہ چھپاتی تو شاید مجھے یہ عزت  حاصل نہ ہوتی ۔بیٹے کے پاس چند دن جو گزارتی ہوں اس میںن بیٹا میرا اس طرح خیال نہ  کرتا ۔ آج بہو جو عزت کررہی ہے نہ کرتی ۔ ماں ہوں پر ملازموں سے بدتر تھی میری حیثیت ۔کوئی کوئی تو ملازموں کی ناراضگی کے ڈر سے  اسکے انے سے پہلے پہلے ہی برتن سمیٹ لیتے ہیں ۔اور کوئی انکے چائے  ناشتہ کا انتظام کرتے ہیں کہ کہیں وہ ناراض ہوکر کام ہی نہ چھوڑ دے ۔ دل کے سمندر میں بہت شور بپا  تھا  لیکن زبان کو تالے لگ گئے  ماں ہوں سمندر بن  جاتی ہوں ۔

پر دل کے خون سے سینچ کر میں نے بڑاکیا۔ تیری ہر بات کو ادا کی طرح مانا  تیری ہر ضد کو فرض کی طرح ادا کیا میں نے ۔مجھے ڈر لگا رہتا کہ تو مجھے چھوڑ کر نہ چلا جائے لیکن تجھے کوئی فکر نہیں مجھ سے دور ہوجانے کی۔اسکا سکون تو  اسکے بیوی بچوں میں ہے یہ میں اچھی طرح جانتی ہوں ۔

سوال تو بہت کرتی ہوں میں  اپنے آپ سے اور کوئی نہ کوئی جواب خود ہی سے مجھے مل  جاتا ہے ۔ میری بےجا محبت،میرے ہی لگام نہ لگانے کی وجہ ہی اسکی زبان درازی کی وجہ بنی اور مجھے اس موڑ پرلاکھڑا کردیا۔بیٹا بڑھاپے میں چھوڑ نہ چلا جائے اسی ڈر اور خوف کی وجہ سے خو کو ملازمہ بنالیا میں نے ۔ آج ۔۔۔۔۔۔۔۔

کبھی کبھی بیٹے کے منہ سے اچھی بات یا تعریفی الفاظ نکل گۓ ماں کےلئے تو دل ہے کہ قابو میں نہیں رہتا جھوم اٹھتا  ہے میرا بیٹا،  میرا لال !۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امی آپ کے ہاتھ کا کھانا بہت یاد  آتا ہے ، کہنے کی دیر ہوتی  کچن میں گھنٹوں ٹھہر کر اسکی پسند کا کھانا بنادیا ۔اگر بیٹاخوش ہوگا تو بہو بھی خوش ہوگی اور اس طرح سے میری عزت ہوگی اور بیٹے اور بہو کے سامنے سر اٹھا کر چل سکوںگی اس خیال کے آتے ہی پھر نئے جوش سے اپنے جسمانی تکلیف کو نظر انداز کرتے ہوے کمر باندھ لیتی ہوں ۔بہترین پکوان ، لوازمات اور ڈھیر سارے تحفے ، پتہ نہیں اور کیا کیا ، اور ایسا کیا کروں جس سے بیٹا اور بہو خوش ہوجائیں ۔

میں جو اس غم کے سمندر میں  ڈوب رہی ہوں تیری محبت میں اس سے نکل کر کنارے لگ جاؤں گی ۔میں جانتی ہوں  میں نےط تجھ سے اندھی محبت کی ہے اور تجھی کو بڈھا پے کا سہارا ماں لیا یہ بھول گئی کہ بہترین سہارا خدا کا سہارا ہوتا ہےجو ہر لمحہ اپنے بندوں کے ساتھ رہتا ہے جو اسکا ساتھ چاہے انکا ساتھ بھی دیتا ہے میرا ایمان کمزور پڑھ گیا اپنی اولاد کےسامنے  ۔میری اور بھی اولاد ہے مگر میں نے سب پر تجھ کو فوقیت دی تجھے اعلی مقام دیا اور خود تیری نظر میں اپنےمقام سے گر گئی خیر محبت نام ہی اندھے پن کا ہے جس میں  کچھ نظر ہی نہیں آتا۔حال ہی میں اک حدیث نظروں سے گزری جسے

پڑھ کر میرا دل کانپ اٹھا۔

حدیث :- ابن ماجہ ۔

ابو حریرہ  رضی الله تعالی عنہ کہتے ہیں رسول

الله  صلی الله علیہ وسلم صحابہ کرام رضی

الله تعالی کے ساتھ تشریف فرماتھے ایک آدمی حاضر ہوا اور پوچھنے لگا کہ یا رسول ا !  قیامت کب آئے گی؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا، قیامت کے بارےمیں جس سے پوچھا گیا ہے وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا ۔(یعنی تمہاری طرح اس کو بھی علم نہیں )لیکن میں تجھے اس کی بعض   نشانیاں بتا دیتا ہوں جب عورت اپنا مالک  ( نافرمان اولاد ) جنے تو قیامت کی نشانیوں میں سے ہےاور ننگے پاؤں ننگے بدن والے لوگوں کے سردار بنیں تو یہ قیامت کے نشانیوں میں سے ہے اور جب بکریوں کے چرواہے بلندو بالا عمارتیں تعمیر کریں تو یہ  قیامت کی نشانیوں میں سے ہے قیامت کا وقت ان پانچ چیزوں میں سے ہے جسکا علم ا

تعالی کے سوا کسی کو نہیں ۔پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی ۔ترجمہ:-” بے شک قیامت کا علم ا  ہی کے پاس ہے بارش وہی برساتا ہے  (یعنی اس کو علم ہے بارش کب ہوگی۔) ماؤں کے رحموں میں جو کچھ ہے اسے بھی وہی جانتا ہے۔کوئی کچھ نہیں جانتا ہے  وہ کل کیا کرے گا۔(الله جانتا ہے )نہ ہی کوئی شخص یہ جانتا ہے کہ وہ کہاں مرے گا۔( الله جانتا ہے )

شاید بيٹا میں نے تجھے اپنا حاکم بنا لیا  اور تو نے مجھے اپنی ملازمہ ، میں نے تجھے اعلی مقام دیا اور تو نے مجھے اپنے مقام سے گرادیا ۔تیری اولاد کو تیری بیوی کو ہر لمحہ خوش

 کرنے کی فکر رہتی  ، تیری ناراضگی، تیری خنجر سے تیز چلتی زبان سے بہت خوف کھاتی ہوں ۔ہمت کرکے چکھ کہہ بھی دوں تو مجھے معلوم ہے کہ گھر گھر نہیں رہے گا۔ یہ سوچ کر بیٹا!  میں نے تجھے اپنا حاکم تسلیم کرلیا ۔خدا جانے اب اس میں ۔۔۔۔۔۔۔۔

غلطی میری ہے، یا پھر میں  بے بس ہوں ؟؟؟   –::–::–::–::–::–::–::–::–::–::–::–::–::–::–


 نوٹ: اس مضمون کو ہاجرہ تاج نے لکھا ہے۔ یہ مضمون نگار کی اپنی ذاتی رائے ہے۔ اسے بنا ردوبدل کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔ اس سے اردو پوسٹ کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کی سچائی یا کسی بھی طرح کی کسی معلومات کے لیے اردو پوسٹ کسی طرح کا جواب دہ نہیں ہے اور نہ ہی اردو پوسٹ اس کی کسی طرح کی تصدیق کرتا ہے۔