Type to search

تلنگانہ

حیدرآباد: شدید بارش کی وجہ سے دیوار گر گئی، 2 ماہ کے معصوم سمیت 9 افراد جاں بحق

 حیدرآباد،14 اکتوبر(اردو پوسٹ انڈیا ڈاٹ کام) آندھرا پردیش اور تلنگانہ میں پچھلے تین دنوں سے وقفے وقفے سے بارش ہو رہی ہے۔ محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے آئندہ 24 گھنٹوں میں تیز بارش کی پیش گوئی کی ہے۔ آندھرا حکومت نے متاثرہ اضلاع کے عہدیداروں سے اس بارے میں خط لکھ کر الرٹ رہنے کے لئے کہا ہے۔

شدید بارش کے دوران دارلحکومت میں مختلف حادثات میں کم از کم 12 افراد جاں بحق ہوگئے۔ اور کئی زخمی ہوئے۔اہلکاروں نے بتایا کہ بارش کی وجہ سے حیدرآباد میں 20 سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیا۔
کئی مقامات پر درخت اکھڑ گئے۔ کئی گاڑیاں، کاریں، اور ٹووہیلرس پانی میں بہہ گئے۔ بنڈلہ گوڑاغوث نگر میں محمدیہ ہلز پر واقع ایک فارم ہاؤز کی دیوار گرنے کی وجہ سے پانچ مکانات منہدم ہوگئے اور ایک مہینہ کی شیر خوار لڑکی سمیت دیر رات تک ۹ مہلوکین کی میتوں کو ملبہ سے نکالا گیا اور دو زخمیوں کو دواخانہ منتقل کردیا گیا۔ بتادیں کہ یہ فارم ہاؤس مرحوم محمد پہلوان کی ملکیت ہے۔
حیدرآباد سے رکن پارلیمنٹ اور ایم آئی ایم پارٹی کے صدر بیرسٹر اسدالدین اویسی مقام واقع پر پہنچ گئے۔ بارکس ڈیویژن کارپوریٹر اور پولیس کے اعلی عہدیداروں نے انہیں صورتحال سے واقف کروایا۔
اسدالدین اویسی نے غوث نگر، محمدیہ ہلز، بندلہ گوڑہ میں راحت کے کاموں کا معائنہ کرنے کے بعد تالاب کٹہ، یثرب نگر کے زیر آب علاقوں کا بھی معائنہ کیا۔

حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی بھی موقع پر پہنچ گئے۔ انہوں نے ٹویٹ کیا ، ‘میں بنڈلہ گوڑہ کے محمدیہ ہلز میں معائنہ کرنے گیا تھا ، جہاں ایک باؤنڈری وال گر گئی تھی۔ اس حادثے میں 9 افراد ہلاک اور دو افراد زخمی ہوگئے۔ میں نے شمش آباد میں پھنسے لوگوں کو لفٹ دی اور اب تالاب کٹہ کے راستے میں ہوں۔

 

کاروان کے ایم ایل اے کوثر محی الدین نے ندیم کالونی، احمد کالونی، ٹولی چوکی، جمالی کنٹہ، شاہ حاتم تالاب، حکیم پیٹ، کے علاقوں کو دورہ کرتے ہوئے ڈی آر ایف ٹیم کی کشتی طلب کی۔ اور کئی خاندانوں کو تخلیہ کروایا۔
کمشنر پولیس حیدرآباد انجنی کمار نے شہریوں سے خواہش کی ہے کہ وہ گھروں میں ہی رہیں اور اپنے بچوں کو رات کے وقت گھر سے باہر نکلنے نہ دیں۔ لا اینڈ آرڈر اور ٹریفک کا عملہ چوکس ہے اور کسی بھی طرح کی مدد کے لیے تیار ہے۔

بتادیں کہ تلنگانہ میں بارش کی وجہ سے اب تک 12 لوگوں کی موت ہوگئی ہے۔ بارش کی وجہ سے کئی علاقوں میں پانی جمع دیکھنے کو مل رہا ہے۔ بھاری بارش کی وجہ سے آندھرا پردیش کے کئی اضلاع میں بھی نقصان کی بھی خبرہے۔ دراصل بنگال میں بنے گہرے دباؤکا علاقہ منگل کو آندھرا کے مشرقی گوداوری ضلع کے کاکیناڈا کے ساحلی علاقوں کے قریب سے ہوکر گذرا، جسکی وجہ سے کئی اضلاع میں بھاری بارش ہوئی۔

حمایت ساگر لبریز ہوگیا، جس کے دروازے دس سال بعد کھولے گئے۔ حمایت ساگرکی مکمل سطح آب1763.5فٹ ہے۔ حمایت ساگر اور اس کے آس پاس کے آبگیر علاقوں میں بارش کے سبب اس ذخیرہ آب میں 1.11 لاکھ کیوزکس پانی جمع ہوگیا۔ رات دیر گئے حمایت ساگر کے چار گیٹس کھولے گئے۔ فلڈ گیٹس کھولنے کے بعد موسی ندی کے نشیبی علاقوں میں رہنے والوں کو چوکس کردیا۔

Tags:

You Might also Like