Type to search

صحت

کانوں کے مسائل کے لیے ہیڈ فون اور ایئر فون نہیں، یہ عادت ہے ذمہ دار

ہیلتھ ڈسک، (اردو پوسٹ انڈیا ڈاٹ کام) موسیقی ایک علاج ہے، ایک تھراپی ہے۔ جو ہمارے تناؤ کو دور کرکے ہمیں مثبت توانائی سے بھردیتی ہے۔ جب کبھی ہمارا موڈ خراب ہوتا ہے تو ہمارے فرینڈس بھی ہمیں پسندیدہ موسیقی سننے کی صلاح دیتے ہیں۔ کیونکہ موسیقی ہمارے دماغ کو سکون بخشتی ہے۔  اور خوشی بڑھانے کا کام کرتا ہے۔ لیکن کیا آپ کو پتہ ہے کہ اگر اس میوزک کو انجوائے کرتے ہیں تو آپ کے دماغ پرسکون کے ساتھ ہی کئی دوسری بیماریوں اور پریشانیاں مل سکتی ہے۔

آپ کو ہیڈفون یا ایئرفون استعمال کرتے وقت میوزک ساؤنڈ کا ضرور خیال رکھنا چاہیئے۔ کیونکہ ایک حد سے زیادہ لاؤڈ (تیز) آواز میں لگاتار میوزک سننے پر نہ صرف کانوں کی صحت کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ دماغ پر بھی اسکا برا اثر پڑتا ہے۔ میوزک ساؤنڈ سے جوڑی ایک اسٹیڈی کے مطابق اگر کوئی شخص ایک دن میں ایک گھنٹے سے زیادہ لاؤڈ ساؤنڈ یعنی کہ کانوں کی سننے کی اہلیت کے حساب سے 80 ڈیسبل یا اس سے زیادہ آواز پر ہیڈ فون اور ایئر فون پر موسیقی سنتا ہے تو اسکے بہرے ہونے کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔

ایئرفون اور ہیڈ فون نہیں یہ ہے دقت

کئی لوگوں کو ایئر فون اور ہیڈ فون میں فرق کو لیکر الجھن رہتا ہے۔ دراصل ہیڈ فون کااستعمال کرتے وقت ہم کانوں پر اسے باہر سے استعمال کرتے ہیں اور ایئرفون کو کانوں کے اندر ڈال کر استعمال کرتے ہیں۔ لیکن ہماری صحت کے لیے ہیڈ فون یا ایئر فون کا استعمال نقصان دہ نہیں ہے بلکہ انکے کی تیز آواز میں لگاتار میوزک سننا ہماری صحت پر غلط اثر ڈالتا ہے۔

ہوتی ہے کئی پریشانیاں

انکے زیادہ استعمال سے نہ صرف ہماری سننے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے بلکہ کئی بار بہرے پن کی حالت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ ساتھ ہی کانوں کے سن ہونے کی دشواری، کانوں میں درد رہنا، سر میں بھراپن رہنا، نیند آنے میں مشکلڈ، دماغی طور سے تھکان محسوس کرنا، کانوں میں انفکشن ہونا یا کانوں میں ہر وقت شور سنائی دیتے رہنے کی مسئلہ کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ اس لیے ہیڈ فون اور ایئر فون کا استعمال کرتے وقت اس بات کا پورا خیال رکھیں کہ تیز آواز پر انکا استعمال نہ کریں۔

Tags:

You Might also Like