Type to search

قومی

بھوج کے ایک کالج میں پیریڈس کی جانچ کے لیے 68 لڑکیوں کے اتروائے انڈر گارمنٹس

احمدآباد،14فروری(اردو پوسٹ انڈیا ڈاٹ کام) گجرات کے کچ کی بھوج تحصیل میں شرمسار کردینے والا ایک واقع پیش آیا ہے۔ بھوج کے ایک گرلز انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر نے لڑکیوں کو کپڑے اتروا کر پیریڈس حیض کی جانچ کرانے کے لیے مجبور کیا۔ یہی نہیں، انسٹی ٹیوٹ ڈائریکٹر نے کسی بھی طرح کے الزام سے بچنے کے لیے لڑکیوں سے اپنے حمایت میں دستخط بھی کروا لیے۔ انسٹی ٹیوٹ کی خاتون ڈائریکٹر نے طلبہ کو انتباہ بھی دیا کہ مخالفت کرنے پر انہیں کالج چھوڑنا پڑے گا۔ اسکے بعد طالب علموں نے واقع کی مخالفت کرکے ڈائریکٹر کے خلاف کاروائی کی مانگ کی ہے۔ قومی کمیش برائے خواتین نے معاملے میں نوٹس لیتے ہوئے جانچ ٹیم تشکیل دی ہے۔

Gujarat: 68 girl students of Shree Sahajanand Girls Institute (SSGI) in Bhuj were reportedly asked to remove their innerwear to prove that they were not menstruating. pic.twitter.com/fG0YZZNd70

— ANI (@ANI) February 14, 2020

دراصل بھوج کے شری سہجانند گرلز انسٹی ٹیوٹ (ایس ایس جی آئی) کے طلبا کا الزام ہے کہ انہیں 12 فروری کو کلاس سے باہر نکال کر بیٹھایا گیا۔ انکے مطابق پرنسپل نے انہیں کلاس سے نکلوایا تھا۔ پیریڈس کے بارے میں پوچھا تاچھ کے بعد ایک۔ ایک طلبا کو جانچ کے لیے واش روم میں بلایا گیا۔ جہاں انکے کپڑے اترواکر پیریڈس کی جانچ کی گئی۔ اسکی مخالفت کرنے پر ڈائریکٹر نے کچھ طلبا کو آفس بلا کر دھمکی دینے کے ساتھ ہی جذباتی بلیک میل بھی کیا۔ ڈائریکٹر نے کہا کہ اگر انہیں ڈائریکٹرس کے لیے احترام کا احساس ہو تو کسی بھی قسم کی مخالفت میں قدم نہ اٹھائیں۔

رسوئی۔ مندر میں گھسنے اور ساتھیوں کو چھونے کی ہوئی تھی شکایت: طلبہ نے بتایا کہ چہارشنبہ کو ہاسٹل سے کالج میں فون آیا تھا کہ طلبہ کے پیریڈس کی جانچ کی جائے گی۔ اسکے بعد لڑکیوں کو ایک جگہ جمع ہونے کو کہا گیا۔ ان سے کہا گیا کہ جن لڑکیوں کو پیریڈس ہے وہ بیٹھ جائیں۔ اسکے بعد دو لڑکیاں کھڑی ہوکر الگ بیٹھ گئی۔ اسکے بعد سبھی لڑکیوں کو کپڑے اتار کر جانچ کے لیے مجبور کیا گیا۔ طلباء نے بتایا کہ کالج کی پرنسپل ریٹا بین اور دیگر ٹیچرس نے انہیں ایسا کرنے کے لیے مجبور کیا۔ ذرائع کے مطابق کسی نے شکایت کی تھی کہ اسٹوڈنٹ پیریڈس کے دوران رسوئی اور مندر میں گھسی تھی۔