Type to search

تلنگانہ

حیدرآباد: سڑک پر اترے گاندھی ہاسپٹل کی آوٹ سورسنگ نرسیں

Gandhi Hospital

حیدرآباد،14جولائی (اردو پوسٹ انڈیا ڈاٹ کام) سکندرآباد میں واقع گاندھی ہاسپٹل میں جہاں کورونا مریضوں کا علاج ہورہا ہے۔ اور بڑی تعداد میں مریض یہاں شریک ہے۔ اور ایسے آوٹ سورسنگ نرسیں اپنی تنخواہوں کو لیکر دھرنے پر چلی گئی۔ بتادیں کہ اس سے پہلے بھی جونیئر ڈاکٹرس مریضوں کے افراد خاندان کی طرف سے حملوں کو لیکر احتجاج کیا تھا۔ لیکن اس بار نرسوں نے تنخواہ کو لیکر احتجاج کررہی ہے۔ ان نرسوں کا ایک ایسے وقت دھرنا دینا ایک فکر کی بات ہے۔ کیونکہ یہاں کورونا سے متاثر مریض شریک ہے۔

گاندھی ہاسپٹل کے آوٹ سورسنگ نرسنگ اسٹاف کا مظاہرہ چوتھے دن جاری رہا۔ اسٹاف نے مانگ کی ہے کہ انہیں وقت پر تنخواہ کی ادائیگی کرنے کے ساتھ باقاعدہ بنایا جائے۔ حالانکہ گاندھی ہاسپٹل کے انتظامیہ نے انہیں ہر مہینے 25ہزار روپے تنخوادہ دینے سے انکار کردیا۔ ساتھ ہی ڈیلی انسینٹیو 300 روپے دینے سے بھی انکار کردیا۔

آوٹ سورسنگ اسٹاف کے ایک نرس نے کہا کہ گذشتہ 15سال سے وہ کام کررہی ہے۔ اس نے بتایا کہ نرس کی تقرری ہونے پر ریاستی حکومت ہر مہینے 25000 ہزار روپے تنخواہ دیتی ہے۔ اس نے مانگ کی ہے کہ آوٹ سورسنگ کے اسٹاف کے سبھی نرسوں کو تقرری کرنے کے ساتھ ہر مہینے 35ہزار روپے تنخوادہ دیی جائے۔

دیگر ایک نرس نے کہا کہ یہ کیسا انصاف ہوگا، جب وہ نئے تقرر کردہ نرس کی طرح کام کرئے اور اس سے بھی کم تنخواہ پائے۔ حالانکہ نئے تقرر کردہ نرس کو ہر مہینے 25ہزار روپے تنخواہ دی جاتی ہے۔ اور کئی سال کا کام کرنے کا تجربہ ہونے کے باوجود اسے بھی ہر مہینے 25ہزار روپے دیئے جاتے ہیں۔ نرس نے سبھی نرسوں کو ہر مہینے 35ہزار روپے دینے کی مانگ کی ہے۔

آپکو بتادیں کہ تلنگانہ میں کورونا مریضوں کی تعداد دنوں دن ریکارڈ سطح پر پہنچ رہی ہے۔ فی الحال یہ تعداد 35ہزار کے پار پہنچ رہا ہے۔ ہاسپٹلس میں کورونا انفیکشن مریضوں کا بے حال ہورہا ہے۔ اس سلسلہ میں گاندھی ہاسپٹل میں کورونا وائرس سے متاثر کئی مریض شریک ہے۔ اس سے پہلے ہی مریضوں کی لاپرواہی کی مہر گاندھی ہاسپٹل پر لگی ہے۔ ایسے آوٹ سورسنگ پر مامور عملے کے کام بند اور مظاہرہ کی وجہ سے مریضوں کی حالت بدتر ہوتی جارہی ہے۔