Type to search

بزنس

سیبی نے ریلائنس ۔ فیوچر گروپ کے سودے کو دی منظوری

ریلائنس فیوچر گروپ

  ممبئی۔ 21؍ جنوری۔ (پریس نوٹ) امیزون کو جھٹکا دیتے ہوئے سیبی یعنی سیکورٹی اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا نے فیوچر گروپ کو ریلائنس کو اپنے اثاثے فروخت کرنے کے منصوبہ کو منظوری دے دی ہے۔ 24,713  کروڑ روپے   کے اس سودے پر سیبی کی مہر سے ریلائنس۔ فیوچر  کو بڑی  راحت ملی ہے۔ امریکی ای کامرس  کمپنی ایمزون  مسلسل ریلائنس ۔ فیوچر سودے کی مخالفت کررہی ہے۔  سودے   کی مخالفت میں ایمزون نے  سیکورٹی اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا( سیبی)، سٹاک  ایکسچینجوں اور دیگر ریگولیٹری ایجنسیوں کو کئی خط لکھے تھے۔   خطوط میں  ایمزون  نے سودے کو اجازت نہیں دینے کی اپیل کی تھی۔  ایمزون    کی درخواست  کو درکنار کرتے ہوئے سیکورٹی اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا نے کچھ شرائط کے ساتھ اس سودے  کو مشروط  منظوری دے دی ہے۔

 کمپیٹیشن کمیشن آف انڈیا ( سی سی آئی) سودے کو پہلے ہی منظوری دے چکا ہے۔ اب سیبی کی منظوری کے بعد   این سی ایل  ٹی  کی منظوری ملنا باقی ہے۔ سیبی نے سودے کی پوری معلومات  فیوچر کے شیئر  ہولڈرز  کے ساتھ شیئر کرنے  کا  حکم بھی جاری کیاہے۔  فیوچر۔ ریلائنس گروپ کے اس سودے پر سیبی کی اجازت عدالت  میں  زیر التوا معاملوں کے نتائج  پر منحصر کرے گی۔ فیوچر کمپنی بورڈ نے ریلائنس رٹیل کو جائیداد فروخت کے لئے 24,713 کروڑ روپے کے سودے کی تجویز کو منظوری  دی تھی، جسے 21 دسمبر کے فیصلے میں دلی ہائی کورٹ   نے جائز  قرار دیات تھا۔ عدالت نے فیوچر رٹیل اور ریلائنس رٹیل  کے سودے کو پہلی نظر میں قانونی طور سے صحیح مانا تھا۔

  ایمزون نے 2019 میں فیوچر کوپنس کی 49% حصہ داری 2,000 کروڑ روپے  میں لی تھی۔ ڈیل   میں ایک شرط   یہ بھی تھی کہ کسی  دوسری کمپنی کے ساتھ  ڈیل کرنے سے پہلے فیوچر کو  پہلے ایمزون کو بتانا پڑے گا۔ ایمزون کے منع کرنے پر فیوچر کسی اور کو  ہولڈنگ نہیں بیچ سکے گی۔  ایمزون نے فیوچر کے ساتھ  ہوئی اس ڈیل  میں کل تین   قرار   کئے تھے، اس پر  دلی ہائی کورٹ نے ایف ڈی آئی  پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے  کہا تھا کہ’’  لگتاہے کہ ان    سمجھوتوں کا استعمال فیوچر رٹیل   پر کنٹرول  کیلئے کیا گیا اور وہ بھی  بغیر کسی منظوری کے، یہ فیما۔  ایف ڈی آئی  قوانین کے  خلاف ہے۔‘‘

 ایمزون نے فیوچر ۔ ریلائنس ڈیل کے خلاف سنگاپور انٹر نیشنل آربیٹیشن سینٹر میں پٹیشن دائر کی تھی۔ آربیٹیشن  سینٹر نے گذشتہ سال 25 اکتوبر کو   فیوچر ۔ ریلائنس  ڈیل پر روک لگا دی تھی، لیکن   فیوچر کا کہنا ہے  کہ آربیٹیشن  سینٹر کا فیصلہ اس پر لاگو  نہیں ہوتا۔

 ریلائنس انڈسٹریز کی سبسیڈائری  کمپنی ریلائنس رٹیل وینچرز لمیٹڈ(RRVL) نے اس سال اگست میں فیوچر گروپ  کے رٹیل اینڈ ہول سیل بزنس اور لاجیسٹکس اینڈ ویئر ہاوسنگ بزنس  کے ایکویژین کا اعلان کیا تھا۔ اس ڈیل کے بعد فیوچر گروپ کے 420  شہروں میں پھیلے ہوئے 1,800 سے زیادہ سٹورز تک  ریلائنس کی پہنچ بن جاتی ۔ یہ ڈیل 24713 کروڑ میں فائنل ہوئی تھی۔

Tags:

You Might also Like