Type to search

بزنس

اب “کے وائی سی” کو لیکر زیادہ پریشان نہ ہوں

نئی دہلی/23اگسٹ(اردوپوسٹ)  حکومت کے “پی ایم ایل اے” ایکٹ میں تبدیلی کے بعد بینکوں سے لیکر انشورنس کمپنیوں ، میوچل فنڈز کیلئے “کے وائی سی” کرنا آسان ہوجائے گا۔ ایکٹ میں تبدیلی کے بعد ، کمپنیوں کے لئے فیزیکل دستاویزات لینا ضروری نہیں ہوگا اور ڈیجیٹل دستاویزات کے ذریعہ بھی “کے وائی سی” پور مانی جائے گی- ٹیلی کام کمپنیوں اور بینکوں کے لیے آدھار کے ذریعہ “کے وائی سی” کے بعد بھی اسے حکومت کا بڑا قدم مانا جارہا ہے- موجودہ بدلاؤ کے بعد سیبی، ریزور بینک ، آئی آر ڈی اے آئی، ڈیجیٹل کے وائی سی، سے جوڑے آسان قوانین بناپائیں گے-

پیمنٹ کونسل آف انڈیا کے چیئرمین ایمریٹس نوین سوریہ کے مطابق نئے ترمیم کے بعد ڈیجیٹل “کے وائی سی” کو حوصلہ افزائی ملے گی اور کمپنیوں کو اپنی پہنچ زیادہ گراہکوں تک بڑھانے میں سہولیات ملے گی-

ڈیجیٹل کے وائی سی کی خاص باتیں

حکومت نے “پی ایم ایل اے” ایکٹ میں بدلاؤ کیا

ای-کے وائی سی پر حکومت کا بڑا اعلان

فیزیکل پرپس اور فوٹو کی “کے وائی سی” کے لیے ضرورت نہیں

میوچول فنڈ، انشورنس سے جوڑی “کے وائی سی” میں آسانی ہوگی

بینک اور ٹیلی کام کمپنیوں کو آدھار کے وائی سی کی ریاعت ملی تھی

اب کمپنیوں رضا کارانہ طور پر آدھار مانگ کرپائیں گی

کمپنیاں گراہک سے جوڑے معلومات ڈیجیٹل فارمیٹ میں رکھ پائے گی

ڈیجیٹل لاکر کے ذریعہ بھی کے وائی سی ممکن ہوگی

سیبی، آر بی آئی، آئی آر ڈی اے آئی، اب ڈیجیٹل کے وائی سی کی گائیڈ لائنس جاری کرپائے گی

کے وائی سی کے لیے فیزیکل پیپر، فوٹو ضروری نہیں؟

Tags: