Type to search

قومی

این آر سی کا کیا اثر ہوگا؟ زبیدہ بیگم کے بعد فخرالدین کی درد بھری داستاں

نئی دہلی ،20فروری(اردو پوسٹ انڈیا ڈاٹ کام )آسام کی فائنل این آر سی لسٹ سے باہر ہوگئے لاکھوں لوگ شہریت ثابت کرنے کے لیے ہر کوشش کررہے ہیں۔ لیکن کوئی ایسے لوگ ہیں جنکے پاس کاغذات تو بہت ہے لیکن اس وقت کوئی کاغز انکے کام نہیں آرہا ہے۔ اسی معاملے میں زبیدہ بیگم کی کہانی سامنے آچکی ہے۔ کچھ ایس ہی حال محمد فخر الدین خان کا ہے۔ 41 سال کے محمد فخر الدین خان آسام کے ان 19 لاکھ لوگوں میں سے ایک ہے جنہیں پچھلے سال اگسٹ میں جاری ہوئی این آر سی کی فائنل لسٹ سے باہر کردیا گیا۔ وہ آسام کے ہوجائی ضلع کے ڈوبوکا میں ایک چھوٹے کاروباری ہے۔ جن لوگوں کے نام این آر سی کی فائنل لسٹ سے باہر ہوئے ان میں سب سے زیادہ ہوجائی ضلع کے ہیں۔

گذشتہ چھ مہینے سے یہ لوگ این آر سی کی فائنل لسٹ کے نوٹیفائی ہونے کا انتظار کررہے ہیں۔ اسی کے بعد وہ اپنے دستاویزوں کی بنیاد پر غیر ملکی ٹریبونل میں اپیل کرپائیں گے۔ یہ لوگ اپنی زمین کے ریکارڈ ، پرانی ووٹر لسٹ وغیرہ لیکر تیار بیٹھے ہیں۔ زیادہ تر لوگ اپنے پاس موجود سبھی کاغذات کا پہلے ہی استعمال کرچکے ہیں۔

آسام میں این آر سی سے باہر محمد فخر الدین خان نے کہا، اپیل کا موقع آنا ابھی باقی ہے۔ ہمیں نہیں پتہ ہمیں فائنل لسٹ سے باہر کیوں کیا گیا، ہم اب اور پریشان اور الجھن ہے کہ جو کاغذات ہمارے پاس ہیں وہ کام کریں گے یا نہیں۔ ہم نے سب کے (مصدقہ) سرٹیفائیڈ کاپی تیار رکھی ہے۔

فی الحال آسام کی این آر سی لسٹ ٹھنڈے بستے میں ہے۔ بی جے پی اب چاہتی ہے کہ اس این آر سی لسٹ کو خارج کردیا جائے یا اسے پھر سے تیار کیا جائے۔ وہ یہ بھی چاہتی ہے کہ جن ہندوں کو باہرکیا گیا ہے انہیں شہریت قانون کے راستے اندر لے آیا جائے۔ اس درمیان سوال یہ بنا ہوا ہے کہ جو دستاویز لوگوں کے پاس ہے، وہ کام آئیں گے بھی یا نہیں۔

بشکریہ این ڈی ٹی وی ہندی ۔ خبر اور فوٹو