Type to search

تلنگانہ

کورونا وائرس:کتنی حقیقت – کتنا پروپیگنڈہ محمد رحمن پاشا

کسی بھی بیماری کا علاج اور اس سے قبل احتیاطی اقدامات ضروری ہے، لیکن کورونا وائرس کے بارے میں جتنی تشویش اور حساسیت کا اظہار کیا جارہا ہے، کیا وہ واقعی اس طرح ہیں؟ کچھ رپورٹز تو ایسی بھی آئی ہیں ہے کہ چین کی ابھرتی ہوئی معیشت اور زندگی کے مختلف شعبہ جات میں اس کے غلبے کو ختم کرنے کے لیے عالمی سطح پر کورونا وائرس کے نام پر بیانیہ تخلیق کیا گیا ہے۔ کورونا وائرس مرض کے علاج کو ابھی تک دریافت نہیں کیا گیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت WHO کی ایک رپورٹ کے مطابق اس مرض سے صرف 3.4 فیصد ہی موت واقع ہونے کا خطرہ ہے۔

امریکہ میں چین کی کئی اشیاء کے بڑے بڑے بازار ہیں، جو تمام تر سہولیات کے ساتھ نہایت ہی سستے داموں میں فروخت ہوتے ہیں۔ امریکہ کے ایک بڑے مفکر نوم چومسکی نے پروپیگنڈہ کا نظریہ propaganda theory پیش کیا تھا۔ جس کے مطابق کسی بھی چیز یا فکر و خیال کو عوامی زندگی میں مسلط کرنا ہو اور لوگ اپنی نچی محفلوں میں بھی اس پر گفتگو کرنے کے لیے مجبور ہو؛ اس کے لیے اس چیز یا فکر سے متعلق خوب پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے۔ جو کہ اپنا دیرپا اثر چھوڑتا ہے۔

امریکی معیشت زوال پذیر ہے، وہاں نومبر 2020 میں انتخابات ہونے والے ہے۔ اس کے برعکس چین عالمی سطح پر اپنی قیادت کا لوہا منوانے کی کوشش میں لگا ہے۔ اس کا تعلیمی نظام اور سائنس و ٹکنالوجی پر زبر دست عبور امریکی قیادت کے لیے سخت ناگواری کا باعث ہے۔ چین ایک اور پروجیکٹ شاہراہ ریشم Belt and Raod Initiative پر بھی عمل کررہا ہے۔ جس کے ذریعے وہ آدھی دنیا سے بھی زائد حصہ پر سرمایہ کرکے زمینی سطح پر حمل و نقل کی سہولیات فراہم کرے گا۔ اس سے کئی ممالک کو معاشی فوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔

اس کے علاوہ جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں 24 جولائی تا 9 اگست 2020 تک اولمپکس گیمز ہونے والے ہیں۔ جس کے انعقاد پر خطرات منڈلا رہے ہیں۔ بہر حال اس وقت پوری دنیا میں کورونا وائرس کا اثر دیکھا جا رہا ہے۔ اس وائرل مرض کے علاج کی کوشش کہاں تک پہنچی اس بارے میں تو کوئی معلومات دستیاب نہیں ہے؛ لیکن اس مرض کو پہلے ہی متعدی اور لاعلاج قرار دیا گیا ہے۔ اگر اسلامی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو کہا گیا ہے کہ اس دنیا میں کوئی ایسی بیماری نہیں ہے، جس کا علاج نہیں ہو۔ بیماری آئی ہو اور اس کا صحیح علاج دستیاب نہ ہو ایسا ممکن ہی نہیں ہے۔ انسان کوشش کرے تو علاج کا سراغ ہاتھ لگ ہی جاتا ہے۔ پہلے ہی کورونا وائرس کو لاعلاج ڈیکلئیر کردیا جائے تو تحقیق و تفتیش کی روح ختم ہوجائے گی اور اس پر بڑھ چڑھ کر پروپیگنڈہ کرنے والے اپنے مقاصد حاصل کرلیں گے۔

Tags:

You Might also Like