Type to search

تعلیم اور ملازمت

اردو یونیورسٹی میں ایک محفل اردو کے نام

ایک محفل اردو کے نام

حیدرآباد/ 23 جنوری (امام علی فلاحی) انجمن طلباء قدیم مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کی جانب سے رنگا رنگ ثقافتی پروگرام ایک محفل اردو کے نام زیر سرپرستی پروفیسر نجم الحسن بروز ہفتہ، 21 جنوری، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں منعقد ہوا۔

 

 

اس پروگرام کا انعقاد مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے انجن طلباء قدیم بتعاون سینٹرل پبلک اسکول خلوت حیدرآباد عمل میں آیا ۔

اس موقع پر ڈائریکٹر آف سنٹرل پبلک اسکول خلوت جعفر اللہ فہیم نے لوگوں سے مخاطب ہوکر کہا کہ “آج ہمارے درمیان سے اردو زبان جو صرف ایک زبان ہے نہیں بلکہ ایک تہذیب ہے وہ اپنا دم توڑ رہی، اسی لئے میں نے یہ خیال کیا کہ میں اپنے اسکول کے سالانہ موقع پر جو پروگرام کروں گا وہ گانے اور ڈانس والا نہیں بلکہ ایک ایسی محفل سجاؤں گا جو اردو کے نام ہوگی، تاکہ ہماری تہذیب و ثقافت دوبارہ ہمارے درمیان زندہ ہو جائے” ۔

 

 

قابل ذکر بات یہ ہے کہ سینٹرل پبلک اسکول خلوت جہاں انگریزی زبان میں تعلیم دی جاتی ہے اس اسکول نے اردو زبان اور روایت حیدرآباد کو فروغ دینے کے لئے اپنے سالانہ جلسے میں بے مثال ثقافتی و روایتی جلسے کراے تھے جو کہ شہر حیدرآباد میں کافی مقبول ہوئے، اسی کے پیش نظر انجمن طلباء قدیم مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کی رہبری میں سینٹرل پبلک اسکول کے طلباء ، اساتذہ اور انتظامیہ کو مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نظامات فاصلاتی کے آغا حشر کاشمیری اڈوٹیریم میں ایک محفل اردو کے نام کے تحت مدعو کیا گیا، جس میں سینٹرل پبلک اسکول خلوت کے طلباء نے مختلف رنگا رنگ ثقافتی پروگرام کئے جو سارے کے سارے اردو کے نام و اصناف تھے۔
اس محفل میں کل سات پروگرام ہوئے جو سارے ہی اردو کے مشہور اصناف پر منحصر تھے، جسکے بل بوتے اردو زبان نے چلنا سیکھا تھا، جس میں حمد، نعت، نظم، دعا، ڈرامہ، قوالی اور مشاعرہ شامل تھے۔

 

“حمد” جو کہ اردو کی ایک مشہور صنف ہے، اسکی تعریف عائشہ فاطمہ نے کی جبکہ درجہ آٹھ کے سبحان اور انکے رفقاء نے حمد پیش کی‌۔

اردو زبان کی ایک اور مشہور صنف “نعت” ہے، جسکی تعریف دسویں جماعت کی زینب نے کی اور اسی جماعت سے تعلق رکھنے والے ایک طالبعلم “خواجہ” نے نعت پیش کی۔

ایک اور صنف “نظم” اس کی تعریف دسویں جماعت کی بتول فاطمہ نے کی اور آٹھویں جماعت کے خضر نے نظم پیش کی۔

“دعا” بھی اردو زبان کی ایک خوبی ہے یہی وجہ ہے کہ تقریباً سارے ہی شعراء نے اپنے انداز شعر میں خدا سے کسی چیز کی التجاء کی ہے، “دعا” کی تعریف “فردوس” نے بیان کی اور آٹھویں جماعت کے ایک گروپ نے سعدیہ تبسم کے ساتھ دعا پیش کی‌۔

 

ڈرامہ جو اردو ادب میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے،‌ اسی ڈرامے کی تعریف سعدیہ فاطمہ نے کی اور فلک فاطمہ، احمدی بیگم، محمد عاقب، حذیفہ اور مجاہد اللہ نے ڈراما پیش کیا ۔
“قوالی” دسویں جماعت کے طالب صدیق بن محسن نے پیش کی‌۔

آخر میں مشاعرہ ہوا جسکی نظامت دسویں دسویں جماعت کے محمد حنظلہ نے کی تھی۔

 

 

 

مانو انجمن طلبہ قدیم ایوب خان، صدر انجمن اعجاز علی قریشی، ڈین المونی پروفیسر نجم الحسن، اسوسیئیٹ پروفیسر محمد مصطفیٰ علی سروری اور ڈائریکٹر آف سنٹرل پبلک اسکول خلوت جعفر اللہ فہیم اس پروگرام میں پیش پیش رہے، مولانا آزاد نیشنل یونیورسٹی کے طلباء ساتھ ہی مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے طلبہ یونین کے صدر محمد فیضان، نائب صدر یونین مصباح ظفر، جوائن سکریٹری ماریہ ہدایت، ٹیزرار محمد قاسم بھی شامل حال رہے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *