Type to search

قومی

کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کے درمیان سادگی سے منائی جائے گی عید

delhi-jama-masjid

نئی دہلی،23مئی(بھاشا) کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کے مدنظر لاگو ملک گیر لاک ڈاؤن کے درمیان عید کا تہوار اس سال بے حد سادگی سے منایا جائے گا۔ ملک بھر میں پیر کو عید منائے جانے کے امکانات ہے۔ پرانی دہلی کے رہنے والے اکرم قریشی نے کہا، عید پیار کا تہوار ہے اور اس دن دوستوں اور پڑوسیوں سے گلے ملا جاتا ہے لیکن اب کورونا وائرس کی وجہ سے ہاتھ تک نہیں ملا سکتے۔

لاک ڈاؤن کی پابندیوں اور وبا کے ڈر کے ساتھ ہی بڑی تعداد میں مہاجروں کے شہر سے چلے جانے کی وجہ سے ہر سال کی طرح اس بار عید پر ویسی رونق نہیں دیکھے گی۔ وبا کی وجہ سے جامع مسجد اور فتح پوری مسجد سمیت شہر کی سبھی مساجد بند ہیں۔ الوداع جمعہ کی نماز بھی لوگوں نے گھروں میں ہی ادا کی۔ اسی طرح عید کی نماز بھی مساجد اور عید گاہ میں جماعت کے ساتھ پڑھنے کے بجائے گھروں میں ہی ادا کی جائے گی۔

فتح پوری مسجد کے شاہی امام مفتی مکرم احمد نے کہا، کورونا وائرس وبا کے مدنظر رمضان کے دوران بھی وبا سے لوگوں کو گھروں میں رہنے کی اپیل کی گئی۔ لوگوں کو مساجد جانے کے بجائے گھروں میں ہی عید کی نماز ادا کرنی چاہیئے۔ لاک ڈاؤن کے چوتھے مرحلے میں دوکانیں کھولے جانے کی چھوٹ ملنے کے باوجود عید پر دیکھائی دینے والی چہل پہل اور رونق اس بار غائب ہے۔

جامع مسجد کے آس پاس کا علاقہ رمضان کے مہینے سے سحری اور افطار کے وقت گلزار رہتا تھا۔ لیکن اس بار ضرورت کے سامان کی کچھ ہی دوکانیں کھلی ہوئی ہے۔

بازار مٹیا محل مرچنٹ ایسوسی ایشن کے صدر قریشی نے کہا ، “تقریبا 450 میں سے 20 -22 دکانیں کھلی ہوئی ہیں۔ عید کے موقع پر نئے کپڑے خریدنے کے ساتھ ہی مختلف پکوان بنائے جاتے ہیں لیکن پچھلے دو مہینے سے دوکانیں بند ہیں۔ کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے تہوار منانے کے لیے لوگوں میں جوش نہیں ہے اور پیسے کی بھی کمی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سویاں خاص طور پر بنائی جاتی ہے لیکن اس بار جعفر آباد اور اندرلوک نے سویاں بنانے والے کارخانے میں پیداوار نہیں ہوئی۔ کیونکہ مہاجر مزدور اپنے گاؤں جاچکے ہیں۔

چاندنی چوک میں کام کرنے والے واحد انصاری نے کہا، پچھلے دو مہینے سے مجھے آدھی تنخواہ ہی مل رہی ہے۔ عام طور پر ہم عید پر پورے خاندان کے کپڑے خریدنے کے لیے اچھی خاصی رقم خرچ کرتے تھے لیکن اس بار صرف بچوں کو ہی نئے کپڑے دلا پایا۔