Type to search

صحت

… پیپر کپ میں چائے پیتے ہیں تو سنبھل جائیں، آپ کی صحت کو

پیپر کپ

صحت ڈسک، کھڑگ پور،8 نومبر(پی ٹی آئی بھاشا) کاغذ کے بنے ایک بار استعمال شدہ کپوں ( پیپر کپ ) سے چائے پینے سے صحت کے لیے نقصاندہ ہے اور اگر کوئی شخص ان میں دن میں تین بار چائے پیتا ہے تو اسکے جسم میں پلاسٹک کے 75000 مائیکرو ذرات چلے جاتے ہیں۔ آئی آئی ٹی کھڑگپور (انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی کھڑگ پور) کے ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے۔

تحقیق کی رہنمائی کرنے والی آئی آئی ٹی کھڑگ پور میں ایسوسی ایٹ پروفیسر گوئل نے کہا کہ ایک بار استعمال ہونے والے کاغذ کے کپوں میں پیئے مشروبات پینا عام بات ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا، ہمارے تحقیق میں اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ ان کپوں میں پلاسٹک اور دیگر نقصاندہ مادے کی وجہ گرم مائع (لیکویڈ ) مادے آلودہ ہوجاتی ہے۔ ان کپوں کو بنانے کے لیے عام طور پر ہائیڈروفوبک فلم کی ایک پرت چڑھائی جاتی ہے، جو بنیادی طور پر: پلاسٹک کی بنی ہوتی ہے۔ اسکی مدد سے کپ میں مائع (لیکویڈ) مادہ ٹکا رہتا ہے۔ یہ پرت گرم پانی ڈالنے پر 15 منٹ کے اندر گلنے لگتی ہے۔

گوئل نے کہا، ہمارے تحقیق کے مطابق ایک پیپر کپ میں 15منٹ کے لیے 100 ملی لیٹر گرم مائع مادہ رکھنے سے اس میں 25000 مائیکرون سائز کے پلاسٹک کے مائیکرون ذرات گھولنے لگتے ہیں۔ یعنی روزآنہ تین کپ چائے یا کافی پینے والے شخص کے جسم میں پلاسٹک کے 75000 مائیکرو ذرات چلے جاتے ہیں۔ جو آنکھوں سے دیکھائی نہیں دیتے۔ اسکے صحت پر سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔

انوائرنمنٹل (ماحولیاتی) انجینئرنگ اور میجمنٹ پڑھ رہے ریسرچر انوجا جوزف اور وید پرکاش رنجن نے اس تحقیق میں گوئل کی مدد کی۔ آئی آئی ٹی کھڑگپور کے ڈائریکٹر وریندر کے تیواری نے کہا یہ مطالعہ بتاتا ہے کہ خطرناک بائیو پروڈکٹ اور ماحولیاتی آلودگی کے مقام پر اسکے استعمال کو بڑھاوا دینے سے پہلے اچھی طرح غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم نے پلاسٹک کے کپوں اور گلاسوں کی جگہ ایک بار استعمال شدہ کاغذ کے کپوں کا استعمال تیزی سے شروع کردیا ہے۔

بشکریہ پی ٹی آئی بھاشا: ہندی میں شائع ہوئی اس خبر کو  اردو میں شائع کیا گیا ہے۔