Type to search

صحت

زیادہ دیر تک سونا صحت کے لیے بے حد خراب

زیادہ دیر تک سونا

ہیلتھ ڈسک، (اردو پوسٹ انڈیا ڈاٹ کام) یہ سچ ہے کہ رات کی اچھی نیند صحت کے لیے ضروری ہے، لیکن ذیادہ نیند سے ذیابطیس ، دل کی بیماری ، اور موت کا خطرہ سمیت کئی مسائل ہوسکتے ہیں- دیر تک سونا صحت کے لیے خراب ہوسکتا ہے۔

دور حاضر میں نیند کی جگہ سوشل میڈیا نے لے لی ہے۔ واٹس ایپ، ٹیوٹر اور انسٹاگرام جیسے ایپ نوجوانوں ، بچوں کو ان ایپس کی عادت ہوچکی ہے کہ وہ سونے سے پہلے اور صبح بیدار ہونے پر سب سے پہلے اسمارٹ فون کا دیدار کرتے ہیں۔ کہیں کسی نے کوئی میسج تو نہیں کیا؛؛؛۔

رات بھر غیر ضروری جاگنا نوجوانوں کا فیشن بنتا جارہا ہے۔ اور ان نوجوانوں کی صبح ، دوپہر کے قریب ہوتی ہے۔ ان عادتوں سے کم عمری میں ہی بیماریاں انہیں گھیر رہی ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ دیر سونے سے کیا مسائل ہوسکتے ہیں۔

زیادہ نیند آنا ذیابیطس کی بھی علامت ہوسکتی ہے کیونکہ ذیابیطس کے مریض تھکن اور غنودگی محسوس کرتے ہیں۔

کہتے ہیں ہر بالغ انسان کے لیے 8 گھنٹے کی نیند ضروری ہے، وہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ہر شخص کی صحت، جسامت اور اسے لاحق بیماریوں پر منحصر ہے کہ اسے کتنی نیند ضروری ہے۔

تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ ڈپریشن بھی ذیادہ نیند سے جڑا ہے- آپ کے لیے ضروری نیند کی مقدار آپ کی زندگی کے دوران اہم طور سے الگ الگ ہوتی ہے-

ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ جس طرح ہمارے لیے نیند کی کمی نقصان دہ ہے، ویسے ہی زیادہ نیند بھی ہمیں ویسے ہی نقصانات پہنچا سکتی ہے۔

یہ آپکی عمر اور ایکٹیویٹی لیول کے ساتھ ساتھ آپ کے عام صحت اور لائف اسٹائل کی عادتوں پر منحصر کرتا ہے-
مثال کے طور پر تناؤ یا بیماری کی مدت کے دوران ، آپ کو نیند کی ذیادہ ضرورت محسوس ہوسکتی ہے-

لیکن حالانکہ وقت کے ساتھ اور ہر شخض کے لیے نیند کی ضرورت الگ الگ ہوتی ہے-

ماہرین عام طور پر صلاح دیتے ہیں کہ بالغوں کو ہر رات سات سے نو گھنٹے کی نیند لینی چاہیئے-

نیند کی کمی وقت سے پہلے موت کے خطرے اور بے شمار مسائل کا سبب ہو سکتی ہے جیسے دل کی بیماری، ذیابیطس اور تناؤ بھی شامل ہے۔

لوگ بہت زیادہ کیوں سوتے ہیں؟
ضرورت سے زیادہ نیند اصل میں ایک طبی خرابی ہے۔ اس حالت کی وجہ سے لوگوں کو دن بھر ذیادہ نیند آنے لگتی ہے، جو عام طور پر جھپکی لینے سے دور نہیں ہوتی-

یہ انہیں رات میں عام طور سے لمبے وقت تک سونے کی وجہ بناتا ہے- نیند کی تقریبا لگاتار ضرورت کے نتائج ہائپرسومنیا والے بہت سے لوگ فکر ، کم توانائی اور یادداشت مسائل کے علامات کا تجربہ کرتے ہیں-

زیادہ سونے سے ہونے والے صحت کے مسائل
موٹاپا: بہت زیادہ یا بہت کم سونے سے بھی آپ کا وزن بہت ذیادہ ہوسکتا ہے- ایک تحقیق سے پچہ چلا ہے کہ جو لوگ ہر رات نو یا 10 گھنٹے سوتے ہیں، ان میں سات سے آٹھ گھنٹے کے درمیان سونے والے لوگوں کے مقابلے میں چھ سال کے عرصے میں 21فیصدی زیادہ موٹے ہونے کا امکان ہوتا ہے-

نیند اور موٹاپے کے درمیان یہ تعلق تب بھی بنا رہا جب کھانے کے استعمال اور ورزش کو مدنظر میں رکھا گیا-

پیٹھ درد: ایک وقت تھا جب ڈاکٹر پیٹھ درد سے متاثر لوگوں کو سیدھے بستر پر جانے کی بات کہتے تھے-
لیکن وہ دن چلے گئے ، جب آپ پیٹھ درد کا تجربہ کررہے ہوں تو آپ کو اپنے باقاعدہ ورزش پروگرام کو کم کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہوسکتی ہے-

اپنے ڈاکٹر سے جانچ کریں، جب بھی ممکن ہو، وہ معمول سے زیادہ سونے کی صلاح دیتے ہیں-

سر درد: کچھ لوگوں کو سردرد ہونے کا امکان ہوتا ہے، ویکینڈ یا چھٹی کے دن معمول سے زیادہ وقت تک سونے سے سردرد ہوسکتا ہے-

دیر تک سونا سردرد کا سبب بن سکتا ہے۔ محققین کا ماننا ہے کہ یہ سیروٹونن سمیت دماغ میں کچھ نیورو ٹرانسمیٹرز پر نیند کے اثر کی وجہ سے ہوتا ہے-
جو لوگ دن میں بہت زیادہ سوتے ہیں اور رات کی نیند میں خلل ڈالتے ہیں، وہ بھی صبح سردرد سے متاثر ہوسکتے ہیں-

طویل وقت کے لیے بستر پر رہنا کمر اور گردن کے درد میں اضافہ کرسکتا ہے کیونکہ اس سے کمر اور گردن کے پٹھوں میں کافی دیر تک غیر آرام دہ حالت میں رہتے ہیں۔

ڈپریشن: حالانکہ بے خوابی زیادہ سونے کے مقابلے میں ڈپریشن سے زیادہ جڑی ہوئی ہے-

ڈپریشن سے متاثر 15فیصد لوگ بہت زیادہ سوتے ہیں، یہ بدلے میں انکے ڈپریشن کو اور خراب کرسکتا ہے-
ایسا اس لیے ہے کیونکہ ٹھیک ہونے کے عمل کے لیے باقاعدہ نیند کی عادت ضروری ہے-

دل کی بیماری: ایک تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ جو خواتین روز رات نو سے 11 گھنٹے سوتی ہے، ان میں آٹھ گھنٹے سونے والی خواتین کے مقابلے میں کورونری دل کے مرض ہونے کا امکان 38فیصد ہوتا ہے-

محققین نے ابھی تک زیادہ نیند اور دل کی بیماری کے درمیان تعلق کے وجہ کی پہچان نہیں کی ہے-

دیر تک سونا دماغ کو بوڑھا کردیتا ہے جس کے باعث کم عمری میں ہی الزائمر ہونے کا خطرہ لاحق ہوجاتا ہے۔

دیر تک سونا سر درد اور میگرین کا سبب بھی بنتا ہے۔

اچھی اور بہترین نیند کے لیے آپ کے کمرے کو اندھیرا، پرسکون اور خاموش ہونا چاہیئے جبکہ آنکھوں پر ڈارکننگ بلائنڈز بھی پرسکون نیند لانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔


(نوٹ: صلاح سمیت یہ مضمون صرف عام معلومات فراہم کرتی ہے۔ یہ کسی بھی طرح سے طبی رائے کا متبادل نہیں ہے، مزید معلومات کے لئے ہمیشہ کسی ماہر یا اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ اردو پوسٹ اس معلومات کے لیے ذمہ داری قبول نہیں کرتا ہے۔ )