Type to search

بزنس

جیو امپیکٹ :چار سال میں قریب 40 گنا کم ہوئی ڈیٹا کی قیمتیں

ڈیٹا کی قیمتیں

 ڈیٹا کھپت: 155 ویں سے پہلے نمبر پر پہنچا ملک
    دیہی بھارت میں ڈیٹا سبسکرائبر کا نمبر دوگنا سے زیادہ 
 چار سال میں قریب 40  کروڑ گراہک جڑے
 گراہک، مارکٹ  شیئر اور ریونیو  میں کمپنی بنی نمبر  ون


 نئی دہلی۔ 4 ستمبر (پریس نوٹ) چال سال پہلے ریلائنس جیو نے ٹیلی  مواصلات  کے شعبہ میں قدم رکھا تھا تو کسی  کو امید نہیں تھی کہ وہ یہ کمپنی کچھ ہی سالوں میں اس سیکٹر کی تصویر  بدل  کر رکھ  دے گی۔ 2016  میں 1 جی بی ڈیٹا 185 سے200 روپے جی بی  تک ملتا تھا۔  آج ریلائنس  جیو   کے پاپولر پلانس  کے مطابق  گراہک کیلئے فی جی بی ڈیٹا کی قیمت قریب 5 روپے بیٹھتی ہے۔ ڈیٹا  کی کفایتی    قیمتوں کی وجہ سے ڈیٹا  کھپت   میں بھی بھاری  اچھال آیا  ہے ۔ جیو  کے جنم سے پہلے جہاں ڈیٹا  کھپت صرف 0.24 جی بی فی گراہک ہر مہینے  تھی، وہیں آج یہ  کئی گنا بڑھ کر 10.4 جی بی  ہوگئی ہے۔

 کورونا دور میں کفایتی ڈیٹا کی اہمیت کھل کر سب کے سامنے آئی ۔ ’ ورک فروم ہوم‘   ہو یا بچوں کی آن لائن  کلاس، روزمرہ   کا سامان  منگوانا ہو  یا آن لائن ڈاکٹرکے ساتھ  اپوائنٹمنٹ ، سب کا سب تبھی ممکن  ہوسکا جب ڈیٹا   کی قیمتیں ہماری  جیب پر بھاری نہیں پڑی۔   یہ جیو کا ہی امپیکٹ  ہے کہ ڈیٹا کی قیمتیں گراہکوں کی پہنچ میں ہیں ۔  ریلائنس  جیو اسے  ڈیٹا انقلاب   کہتی رہی ہے۔

 2016  میں ریلائنس کی سالانہ جنرل  میٹنگ میں جب مکیش  امبانی بولنے کھڑے ہوئے تو ملک ڈیٹا  کھپت کے معاملے میں 115 ویں نمبر  پر تھا۔ آج 4 سال  بعد ریلائنس  جیو کے ڈیٹا انقلاب کی بدولت ملک  دنیا میں ڈیٹا  کھپت  کے معاملے میں نمبر ون ہے۔ ٹرائی کے مطابق  امریکہ اور چین مل کر  جتنا موبائل 4 جی ڈیٹا کھپت کرتے ہیں ان سے زیادہ اکیلے  بھارت  کے لوگ ڈیٹا کا  استعمال  کرتے ہیں۔ ملک  کا 60 فیصدی  سے زیادہ ڈیٹا جیو نیٹ ورک پر استعمال  ہوتا ہے۔

   جیو فائبر کے نئے پلانس کے ساتھ ریلائنس جیو نے ایک بار  پھر بازارمیں  ہلچل  مچا دی ہے۔ پہلی بار  کوئی کمپنی ٹرو ان لمیٹڈ  ڈیٹا  کھپت والا پلان لائی ہے- مطلب  پلان کے ساتھ کنیکشن  کی سپیڈ ہی کم  یا زیادہ ہوگی۔ گراہک  جتنا چاہے اتنا ڈیٹا استعمال  کرسکتاہے۔  یہ پلان  ملک  میں ڈیٹا کھپت کی نئے سرے سے تشریح  کرے گا۔

   ریلائنس جیو نے آتے ہی کئی نئے تجربہ  کئے۔ اس میں مفت وائس کالنگ اور کفایتی ڈیٹا  تو تھا ہی، ساتھ ہی 2 جی نیٹ ورک کا استعمال کرنے والے  اور  دیہی بھارت کیلئے کمپنی بے حد سستے داموں پر4 جی  جیو فون   لیکر آئی۔  آج  کمپنی  کے پاس 10 کروڑ سے زیادہ  جیو  فون گراہک ہیں۔ جیو فون آنے  کے بعد گاؤں میں ڈیٹا سبسکرائبر  نمبر کافی بڑھ گیا  ۔ 2016 میں جہاں گاؤں  میں 12 کروڑ کے قریب گراہک   ڈیٹا  استعمال کررہے  تھے۔ وہیں آج 28 کروڑ  لوگ انٹر نیٹ ڈیٹا  کا استعمال کررہے ہیں۔

 سیکٹر  کی  بڑی کمپنیوں کو ریلائنس جیو نے ہر شعبہ میں پٹکنی دی۔ آج کمپنی گراہکوں، مارکٹ  شیئر اور  روینیو کے معاملے میں نمبر ون ہے۔ کمپنی نے  اپنے نیٹ  ورک  سے گراہکوں کو جوڑنے میںبھی ریکارڈ  قائم  کیا ہے۔  پچھلے 4 سالوں میں جیو سے قریب 40 کروڑ  سے زیادہ گراہک جڑے  ہیں۔

  ’ ڈیٹا  از نیو آئل ‘ ریلائنس کے مالک مکیش امبانی کا یہ  ردعمل سچ ثابت ہوا۔ کورونا دور میں ریلائنس جیو میں دنیا کی تمام بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے سرمایہ کاری  کی۔  فیس بُک، گوگل جیسی کمپنیوں کے ساتھ  انٹیل اور کوالکام  نے بھی ریلائنس جیو  کے ساتھ  شراکت داری  کی۔ ٹیکنالوجی سیکٹر میں 1.5لاکھ  کروڑ سے  زیادہ کا انویسٹمنٹ  ملک میں  پہلی بار آیا ہے۔

Tags:

You Might also Like